Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کے متعلق عالمی مزاج بدل رہا ہے،عملی اقدامات کا مطالبہ: فلسطینی وزیرخارجہ

Updated: April 15, 2026, 9:05 PM IST | Jerusalem

فلسطینی وزیر خارجہ ورسن آغابکیان شاہین کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر عالمی مزاج بدل رہا ہے،ساتھ ہی زبانی مذمت کی بجائے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا،انہوں نے لیکن خبردار کیا کہ پابندیوں، قانونی اقدامات اور ٹھوس عمل درآمد کے بغیر اسرائیل پر تنقید کی یہ رفتار ختم ہو سکتی ہے۔

Palestinian Foreign Minister Varsen Aghabekian Shahin. Photo: X
فلسطینی وزیر خارجہ ورسن آغابکیان شاہین۔ تصویر: ایکس

فلسطینی وزیر خارجہ ورسن آغابکیان شاہین نے کہا کہ اسرائیل کے قبضے اور غیر قانونی بستیوں کے حوالے سے عالمی رویوں میں خاص طور پر یورپ میں واضح تبدیلی آرہی ہے، لیکن زور دیا کہ ہمدردی کو اب ٹھوس اقدامات میں بدلنا ہوگا۔انادولو ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شاہین نے کہا کہ ’’اسرائیل کابین الاقوامی سطح پرتنہا ہونے کا بڑھتا ہوا رجحان اور فلسطینیوں کے لیے بڑھتی ہمدردی دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم خبردار کیا کہ اب صرف بیانات اب کافی نہیں۔اب ضرورت عملی فیصلوں کی ہے، مزید بیانات کی نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پولینڈ کے قانون ساز نے نازی سواستک والا اسرائیلی جھنڈا دکھا کر تنازع کھڑا کردیا

بعد ازاںشاہین نے اسپین اور جرمنی جیسے ممالک کی طرف اشارہ کیا جو اسرائیلی قبضے، غیر قانونی بستیوں اور آباد کاروں کے تشدد پر زیادہ واضح تنقید کر رہے ہیں، جبکہ نیدرلینڈز جیسے دیگر ممالک بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے اس تبدیلی کو اہم قرار دیا، لیکن کہا کہ یہ ’’مطلوبہ سطح سے نیچے‘‘ ہے اور تیز ٹھوس زمینی اقداماتکرنے کا مطالبہ کیا۔شاہین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ احتساب کی طرف بڑھے، بشمول پابندیاں اور قانونی کارروائی۔ اور کہا کہ اسرائیل سزا کی عدم موجودگی کی وجہ سے اپنی  جارحانہ پالیسیوں پر قائم ہے۔انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیلی لیڈروںکے لیے گرفتاری کے وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر عمل درآمد کا نہ ہونا بین الاقوامی قانون کو نافذکرنے میں ایک بڑی ناکامی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک اسرائیل جواب دہ نہیں ہوتا تب تک اسے حقیقی قیمت ادا نہیں کرنی پڑےگی۔
تاہم شاہین نے خبردار کیا کہ’’ مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں، بستیاں پھیل رہی ہیں، غیر قانونی آباد کاروں کے حملے بڑھ رہے ہیں، اور فلسطینیوں پر پابندیاں سخت ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ الحاق اب مستقبل کا منظرنامہ نہیں بلکہ جاری حقیقت ہے۔آج ہم اس حقیقت کو بتدریج ہوتا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے کہا خبردار کیا کہ یہ فلسطینی ریاست کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔انہوں نے مغربی کنارے میں بگڑتے معاشی بحران پر بھی روشنی ڈالی، جو جزوی طور پر اسرائیل کی طرف سے ٹیکس محصولات روکے جانے کی وجہ سے ہے، جس سے بہت سے خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئےجدوجہد کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان پر اسرائیلی حملوں کی۱۷؍ ممالک نے مذمت کی ، کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا

شاہین نے مزید کہا کہ غزہ کی مستقبل کی حکمرانی کو ایک متحد فلسطینی فریم ورک کے تحت مربوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور خبردار کیا کہ اس کی تقسیم فلسطین کی بحالی کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔اس کے علاوہ انہوں نے ترکی کی مضبوط سیاسی اور انسانی ہمدردی پر مبنی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کی امداد اور وکالت کا زمین پر حقیقی اثر ہے۔انہوں نے ترک حکومت اور عوام کا فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ حمایت فلسطینیوں کی موجودہ جارحیتکے سامنے ثابت قدم رہنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK