Updated: April 16, 2026, 6:04 PM IST
| New York
نیویارک شہر میں میئر ظہران ممدانی کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے دو نوجوانوں نے وفاقی عدالت میں دہشت گردی کے الزامات سے انکار کر دیا۔ ملزمان پر ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ کی حمایت اور دھماکہ خیز حملے کی کوشش جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ ایف بی آئی کے مطابق حملہ داعش کے نام پر کیا جانا تھا۔
نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی۔ تصویر: ایکس
امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے کیس نے ایک اہم موڑ لیا ہے، جہاں دو نوجوان ملزمان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ ۱۸؍ سالہ امیر بلاط اور ۱۹؍ سالہ ابراہیم کیومی، جو پینسلوانیا سے تعلق رکھتے ہیں، بدھ (۱۵؍ اپریل) کو ایک وفاقی عدالت میں پیش ہوئے۔ دونوں نے آٹھ سنگین الزامات پر ’’قصوروار نہ ہونے‘‘ کی استدعا کی، جن میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی حمایت اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍فیصدامریکی اسرائیل اور نیتن یاہو کوناپسند کرتے ہیں
استغاثہ کے مطابق، دونوں نوجوانوں کو ۷؍ مارچ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک اسلام مخالف مظاہرے کے دوران میئر ظہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب مبینہ طور پر دھماکہ خیز حملے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جائے وقوعہ پر دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ میں، جو ان کی گاڑی کے ڈیش کیم سے حاصل کی گئی، کیومی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں دہشت شروع کرنا چاہتا ہوں، بھائی۔‘‘
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے گرفتاری کے بعد شدت پسند تنظیم داعش کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ جائے وقوعہ پر موجود رپورٹس کے مطابق، ایک ملزم کو واقعے کے دوران ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی سنا گیا۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کیش پٹیل نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ان افراد نے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد تیار کیا اور انہیں داعش کے نام پر نیویارک کی سڑکوں پر دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ ’’ میں مستقل طور پر آبنائے ہرمز کھول رہا ہوں‘‘
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک متنازع اسلام مخالف مظاہرے کے دوران پیش آیا، جس کا اہتمام دائیں بازو سے وابستہ کارکن جیک لینگ نے کیا تھا۔ مظاہرے میں تقریباً ۲۰؍ افراد شریک تھے، جبکہ اس کے قریب ایک جوابی احتجاج میں تقریباً ۱۲۵؍ افراد موجود تھے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔ حکام کے مطابق، دونوں ملزمان اس وقت زیر حراست ہیں اور کیس کی قانونی کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے مقدمے کی تیاری کے لیے اگلی سماعت ۱۶؍ جون مقرر کی ہے، جہاں استغاثہ اور دفاع دونوں اپنے دلائل پیش کریں گے۔