Updated: October 24, 2026, 6:33 PM IST
| London
شطرنج کی دنیا میں ۱۱؍ سالہ ہندوستانی نژاد برطانوی کھلاڑی بودھنا سیوانندن نے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کم عمر ترین خاتون انٹرنیشنل ماسٹر بننے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ انہوں نے شطرنج کی عظیم کھلاڑی جوڈت پولگار کا ۳۸؍سالہ ریکارڈ توڑ دیا اور اب ان کی نظریں گرینڈ ماسٹر کا خطاب حاصل کرنے پر مرکوز ہیں۔
بودھنا سیوانندن۔ انسیٹ: جوڈٹ پولگر۔ تصویر: آئی این این
شطرنج میں تاریخ رقم کرنے والی ۱۱؍ سالہ بودھنا سیوانندن نے ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔ تاریخ کی کم عمر ترین خاتون گرینڈ ماسٹر (WGM) بننے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد انہوں نے انٹرنیشنل ماسٹر (IM) کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین خاتون کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔ ۱۱؍ سال، ۷؍ ماہ اور۱۶؍ دن کی عمر میں یہ خطاب حاصل کرکے بودھنا نے شطرنج کی عظیم کھلاڑی جوڈت پولگار کا۱۹۸۸ء سے قائم ریکارڈ توڑ دیا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہندوستانی نژاد برطانوی شطرنج کی اس غیر معمولی صلاحیت کی حامل کھلاڑی نے انٹرنیشنل ماسٹر کا خطاب حاصل کرنے والے دنیا کے ساتویں کم عمر ترین کھلاڑی کا مقام حاصل کیا ہے، جس میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ شطرنج کی تاریخ میں کم عمر ترین انٹرنیشنل ماسٹرز کی فہرست میں بودھنا ساتویں مقام پر ہیں۔ وہ چھٹے مقام پر موجود جاووخیر سنداروف سے صرف ایک ماہ پیچھے ہیں، جبکہ کم عمر ترین انٹرنیشنل ماسٹرز کی درجہ بندی میں انہوں نے گوکیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو نویں مقام پر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: نئے احتجاج سے قبل ۷۰؍ ہزار پولیس تعینات، صدر کا افریقہ دورہ منسوخ
اپنے مختصر شطرنج کریئر میں بودھنا کئی ریکارڈ قائم کرچکی ہیں۔ وہ کم عمر ترین خاتون انٹرنیشنل ماسٹر (WIM) اور کم عمر ترین خاتون فیڈے ماسٹر (WFM) بھی بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی گرینڈ ماسٹر کو شکست دینے والی دنیا کی کم عمر ترین لڑکی کا اعزاز بھی حاصل کرچکی ہیں۔ بودھنا کی نظریں اب گرینڈ ماسٹر کا خطاب حاصل کرنے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی سرکاری نشریات کے دوران ویمن کینڈیڈیٹ ماسٹر (WCM) ٹلولہ رابرٹس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’انٹرنیشنل ماسٹر بننے پر مجھے خوشی ہے، لیکن امید ہے کہ میں جلد ہی گرینڈ ماسٹر کا خطاب بھی حاصل کرلوں گی۔ ‘‘بودھنا کے والدین کا تعلق تمل ناڈو کے شہر تریچی سے ہے، جہاں سے وہ برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔ بودھنا کے والد سیوانندن ویلیوتھم نے۲۰۲۴ء میں دی انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا، ’’میں روزگار کی تلاش میں برطانیہ آیا تھا۔ ۲۰۰۷ءمیں آئی ٹی شعبے میں کام کرنے کیلئے یہاں منتقل ہوا۔ بودھنا کی پیدائش اور پرورش لندن میں ہوئی۔ اس نے محض پانچ سال کی عمر میں شطرنج کھیلنا شروع کردیا تھا۔ ہم نے اسے شطرنج کھلانے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ گھر میں اچانک اس کی نظر شطرنج کی بساط پر پڑی اور اس نے کھیلنا شروع کردیا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: تبت میں ۷؍شدت کا زلزلہ،۱۶؍افراد ہلاک،۶۵؍افرادزخمی
انہوں نے مزید بتایا، ’’مجھے شطرنج کی صرف بنیادی معلومات تھیں، اس لئے میں نے اسے سکھانے کیلئے Chess.com ایپ ڈاؤن لوڈ کی، تاکہ وہ وہاں موجود ویڈیوز دیکھ کر سیکھ سکے۔ اس وقت میں نے اس کیلئے ایپ کا مفت ورژن حاصل کیا تھا، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ شاید وہ زیادہ عرصے تک اس کھیل میں دلچسپی نہ لے۔ ‘‘ ہندوستان کے کئی نوجوان شطرنج کھلاڑیوں کے برعکس بودھنا کو لندن کے علاقے ہیرو میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم اور شطرنج دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑا۔ ان کے والد نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا، ’’ہفتے کے دنوں میں بودھنا اپنا زیادہ تر وقت اسکول میں گزارتی ہے۔ ہندوستان کی طرح یہاں کا نظام نہیں ہے کہ کوئی کھلاڑی کھیل کیلئے اسکول چھوڑ سکے۔ وہ صبح۸؍ بجے اسکول کیلئے نکلتی ہے اور شام۴؍ بجے گھر واپس آتی ہے۔ وہ روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ شطرنج کھیلتی ہے۔ بعض دنوں میں ہم شام کے وقت شطرنج کے ٹورنامنٹس میں بھی شرکت کرتے ہیں، لیکن صرف ہفتے کے آخر میں ہی اسے دو سے تین گھنٹے مشق کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ‘‘