فرانس نے نئے احتجاج سے قبل۷۰؍ پولیس تعینات کر دی،حالات کی سنگینی کے مدنظر صدر میکرون نے افریقہ کا دورہ منسوخ کر دیا،جبکہ سوشل میڈیا پر تشدد اور لوٹ مار کی اپیلیں گردش کر رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 3:04 PM IST | Paris
فرانس نے نئے احتجاج سے قبل۷۰؍ پولیس تعینات کر دی،حالات کی سنگینی کے مدنظر صدر میکرون نے افریقہ کا دورہ منسوخ کر دیا،جبکہ سوشل میڈیا پر تشدد اور لوٹ مار کی اپیلیں گردش کر رہی ہیں۔
فرانس کی حکومت نے جمعہ۲۳؍ اکتوبر کو تصدیق کی کہ فرانس اس ہفتے کے آخر میں نئے احتجاج سے قبل ملک بھر میں تقریباً۷۰؍ پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ ایک ہفتہ قبل مظاہروں کے دوران اس سال کا بدترین شہری تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اس پیش رفت کے درمیان، صدر ایمانوئل میکرون اس ماہ کے آخر میں طے شدہ نائیجیریا اور سینیگال کا اپنا دورہ ملتوی کر رہے ہیں۔ اس دوران، انہوں نے اعلیٰ وزراء اور عہدیداروں پر مشتمل اپنی دفاعی کونسل کا اجلاس منعقد کیا اور سیکیورٹی فورسیز سے ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: احتجاج کے پیش نظر دکانداروں نے مدافعتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا: رپورٹ
علاوہ ازیں صدر پہلی بار ہائی اسکول کے طلبہ کے نمائندوں کی میزبانی بھی کریں گے، جب ان کے اسکولوں کی حالت کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا، جس نے بعد میں حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے خلاف ملک گیر پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہونے والی تحریک کو جنم دیا۔ بعد ازاں وزیر داخلہ لارنٹ نونیز نے پیرس میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ سنیچرکو۷۰؍ ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر تشدد اور لوٹ مار کی اپیلیں گردش کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ بدامنی کا وقت فرانس کے لیے خاص طور پر حساس ہے، جو میکرون کے جانشین کے انتخاب سے صرف چھ ماہ قبل آیا ہے، ایک نئے سروے میں انتہائی دائیں بازو کی لیڈر میرین لی پین کو سب سے آگے دکھایا گیا ہے، حالیہ ہنگامہ آرائی سے ان کی برتری میں مبینہ طور پر اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس کے بعد یونان میں بھی احتجاج شروع، اسکولوں میں۱۵؍ ہزار ٹیچروں کی کمی
واضح رہے کہ کشیدگی اس ہفتے کے آخر میں مزید بڑھنے والی ہے کیونکہ لی پین اورلینز میں اپنی نیشنل ریلی (RN) پارٹی کانگریس کی میزبانی کر رہی ہیں، ایک ایسا پروگرام جس میں ہزاروں حامیوں کی آمد متوقع ہے حالانکہ مقامی حکام شہر پر جمع ہونے والے مخالفین کے ساتھ ممکنہ جھڑپوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔جبکہ وزیر اعظم کے دفتر کی درخواست پر، نونیز کو سیکیورٹی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کو اورلینز کا دورہ کرنا تھا۔مزید برآں رینووو لائسین (ہائی اسکول رینیوول) کے صدر نتھانیل کومباری نے اے ایف پی کو بتایاکہ ’’ میکرون کے ساتھ طلبہ کی میٹنگ میں، ہم ان کے سامنے اپنے مطالبات پیش کریں گے جو وہی ہیں، اسکول کے بنیادی ڈھانچے کی حالت اور پارکورسپ (یونیورسٹی داخلہ) سسٹم میں اصلاحات۔‘‘
دریں اثنا، میکرون کی حکومت نے مظاہرین کی جائز شکایات اور گزشتہ ہفتہ کے مظاہروں کے ساتھ پھوٹ پڑنے والی لوٹ مار، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔