Inquilab Logo Happiest Places to Work

صرف سرورز یا چِپس سے نہیں، انسانی وسائل سے ذہانت کا دوربنے گا: اڈانی

Updated: May 11, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے ملک کی ترقی کے لیے ہندوستان کے عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذہانت کا یہ نیا دور صرف سرورز اور چِپس سے نہیں بلکہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کے ذریعے تشکیل پائے گا۔

Gautam Adani.Photo:INN
گوتم اڈانی۔ تصویر:آئی این این

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے پیر کے روز ملک کی ترقی کے لیے ہندوستان کے عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذہانت کا یہ نیا دور صرف سرورز اور چِپس سے نہیں بلکہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کے ذریعے تشکیل پائے گا۔ 
 اڈانی نے ہندوستانی صنعت کنفیڈریشن (سی آئی آئی) کے سالانہ تجارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ’’ذہانت کا دور صرف سرورز، چِپس اور الگورتھمز سے نہیں بنے گا۔ اسے الیکٹریشن، ٹیکنیشن، آپریٹر، سیکوریٹی افسران، کولنگ انجینئرز، گرڈ منیجرز، ڈیٹا سینٹر ٹیمیں اور لاکھوں نوجوان ہندوستانی مل کر تعمیر کریں گے، جو ڈجیٹل دنیا کے پس منظر میں موجود جسمانی انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کریں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان واحد اداکار ہیں جو کبھی میرے قد سے غیرمحفوظ نہیں ہوئے: پوجا بترا


انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کا مقصد ہندوستان کے عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔ مستقبل میں آزادی کا مطلب صلاحیت ہوگا اور آزادی کی اگلی جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ ہمارے گرڈز، ڈیٹا سینٹرس، فیکٹریوں، کلاس رومز، تجربہ گاہوں اور ہمارے ذہنوں کے اندر لڑی جائے گی۔ اڈانی گروپ کے چیئرمین نے کہا کہ جس رفتار سے ڈیٹا سینٹرز میں اضافہ ہو رہا ہے، آنے والے وقت میں ان کے لیے بجلی کی مانگ بھی بڑھے گی۔ آج امریکہ روزانہ  ایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے، جو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔ امریکہ کی ۴۰؍ فیصد بجلی قدرتی گیس سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے باوجود امریکہ یہیں نہیں رکا بلکہ جدید ترین جوہری توانائی، ڈیپ جیوتھرمل، بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی، گرڈ سطح کے ذخیرے اور اگلی نسل کی توانائی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینز کو دو وکٹوں سے شکست دے کر آر سی بی پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست


انہوں نے کہا کہ چین نے بھی درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کے لیے کوئلے پر مبنی معیشت تیار کی اور ساتھ ہی قابلِ تجدید توانائی میں انسانی تاریخ کی سب سے جارحانہ سرمایہ کاری کی۔ ۲۰۲۵ءمیں دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں جتنا اضافہ ہوا، اس میں ۶۴؍ فیصد حصہ صرف چین کا تھا۔ 
 اڈانی نے کہا کہ ہندوستان کو نہ امریکہ کے راستے پر چلنا چاہیے اور نہ ہی چین کے۔ ہندوستان کو اپنا الگ راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ اس لحاظ سے ہندوستان مضبوط پوزیشن میں ہے کہ ہم جو کچھ بھی تیار کریں گے، اس کی مانگ ملک کے اندر ہی موجود ہوگی۔ ہمارے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کو فروغ دیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK