Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی تباہی کا نیا ہتھیار: فوٹو ایڈیٹنگ سے میدانِ جنگ تک

Updated: March 08, 2026, 3:34 PM IST | Mumbai

دورِ حاضر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) محض اسمارٹ فونز میں تصاویر کو بہتر بنانے یا روزمرہ کے معاون تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ جدید جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی دماغ بن کر بھی ابھری ہے۔ حالیہ عالمی واقعات، بالخصوص ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اب جنگیں انسانی بہادری سے زیادہ الگورتھمز کے سہارے لڑی جا رہی ہیں۔

Artificial Inteligence.Photo:INN
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این

دورِ حاضر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) محض اسمارٹ فونز میں تصاویر کو بہتر بنانے یا روزمرہ کے معاون تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ جدید جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی دماغ بن کر بھی ابھری ہے۔ حالیہ عالمی واقعات، بالخصوص ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اب جنگیں انسانی بہادری سے زیادہ الگورتھمز کے سہارے لڑی جا رہی ہیں۔ 
پینٹاگن کامیون سسٹم  جنگی میدان ایک انقلاب انگیز تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سسٹم سیٹیلائٹ تصاویر اور ڈرون فوٹیج کا تجزیہ کر کے محض چند سیکنڈوں میں ہزاروں اہداف کی نشاندہی کر دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران پر حالیہ حملوں کے دوران اسی سسٹم نے ایک ہزار سے زائد اسٹرائیک آپشنز فراہم کر کے دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا۔ صرف اہداف کی نشاندہی ہی نہیں، بلکہ پلنتیر  کے  گوتھم اور اینڈیوریل کے لٹیس جیسے سسٹمز اب یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں کہ کس ہدف پر کون سا ہتھیار سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوگا۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی ایک تاریک پہلو بھی رکھتی ہے۔ ان سسٹمز کی رسائی عام شہریوں کے ڈیٹا، فون نمبرز اور نجی تعلقات تک بھی ہے، جس سے رازداری اور انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلوی خواتین ٹیم نے ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کو۱۰؍ وکٹ سے ہرایا

جدید ٹیکنالوجی اب ہائیو مائنڈ جیسے خود مختار پائلٹ سسٹمز متعارف کروا رہی ہے، جو سگنل جام ہونے یا رابطہ منقطع ہونے کی صورت میں بھی انسانی مداخلت کے بغیر ڈرونز اور طیاروں کو مشن مکمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت جنگ کو ایک ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں مشین ہی جج اور مشین ہی جلاد ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’بلیک پنک‘‘ کی جیسو نے بالی و وڈ میں قدم رکھنے کا اشارہ دیا

اس ٹیکنالوجی کی برق رفتاری سے عالمی سطح پر تشویش پائی جارہی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سیکنڈوں میں فیصلے لینے کی ضرورت انسان کو میدانِ جنگ میں محض ایک خاموش تماشائی بنا سکتی ہے۔کیا ایک مشین فوجی اور سویلین ہدف کے درمیان باریک فرق کو سمجھ سکتی ہے؟ اس حوالے سے کوئی حتمی ضمانت موجود نہیں۔ کیا زندگی اور موت جیسے حساس فیصلے کسی بے جان مشین یا سافٹ ویئر کے سپرد کیے جا سکتے ہیں؟ جدید ہتھیاروں کی یہ دوڑ دنیا کو ایک ایسے خطرناک دہانے پر لے آئی ہے جہاں انسانی جان کی قیمت ایک ڈیجیٹل کوڈ کے تابع ہوتی جا رہی ہے۔ ایران پر ہونے والے حملے محض ایک آغاز ہیں، جو بتاتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں اب میدانوں میں نہیں بلکہ سپر کمپیوٹرز کے سرور رومز میں جیتی یا ہاری جائیں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK