Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’امّا اَریان‘‘ کو ریلیز کے تقریباً ۴۰؍ سال بعد عالمی سطح پر دوبارہ پیش کیا گیا

Updated: May 18, 2026, 6:02 PM IST | Mumbai

جان ابراہم کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا بحال شدہ فور کے ورژن ۲۰۲۶ء کے کانز فلم فیسٹیول کے کانس کلاسک سیکشن میں پیش کیا گیا۔

Amma Ariyan.Photo:X
اماّ اریان۔ تصویر:ایکس

جان ابراہم کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا بحال شدہ فور کے ورژن ۲۰۲۶ء کے کانز فلم فیسٹیول کے کانس کلاسک سیکشن میں پیش کیا گیا، جہاں اطلاعات کے مطابق بھرپور حاضرین نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Film Heritage Foundation (@filmheritagefoundation)


فلم کی بحالی فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن  نے پیش کی، جو ہندوستان سنیما کے تحفظ میں مسلسل اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کی عوامی پوسٹس کے مطابق اس اسکریننگ میں کانز کے ڈائریکٹر تھیری فریمو، اداکار جوئے میتھیو، ایڈیٹر بینا پال، اور ایف ایچ ایف کے ڈائریکٹر شیویندر سنگھ ڈونگرپور بھی موجود تھے۔

 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Film Heritage Foundation (@filmheritagefoundation)

یہ بھی پڑھئے:’’میں نے پیار کیا‘‘ میں سلمان خان سے زیادہ معاوضہ ملا تھا: بھاگیہ شری

اس پذیرائی کو خاص طور پر اہم بنانے والی بات فلم کی غیر معمولی تاریخ ہے۔امّا اَریان کو اوڈیسا کلیکٹو نے عوامی چندے کے ذریعے پروڈیوس کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ گروپ کیرالا بھر میں اسٹریٹ پرفارمنس کرتا اور لوگوں سے چھوٹے عطیات جمع کر کے فلم کے اخراجات پورے کرتا تھا۔ بعد میں کلٹ کلاسک کا درجہ حاصل کرنے کے باوجود، اس فلم کی کبھی روایتی تجارتی نمائش نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:فلسطین کا مسجدِ اقصیٰ کے قریب املاک پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت

فلم خود سیاسی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ذاتی نوعیت بھی رکھتی ہے۔ اس کی کہانی چند نوجوانوں کے گرد گھومتی ہے جو کیرالا میں سفر کرتے ہوئے ایک ماں کو اس کے بیٹے کی موت کی خبر دینے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس سفر کے ذریعے فلم سماجی سرگرمی، دوستی، غم، اور اُس دور کے سماجی حالات پر غور کرتی ہے۔وقت کے ساتھ اس فلم کا اثر مسلسل بڑھتا گیا اور اسے برٹش فلم انسٹی ٹیوٹ کی بہترین ہندوستانی فلموں کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا  جو ۱۹۸۰ء کی دہائی کی ایک ملیالم آزاد فلم کے لیے ایک نادر اعزاز ہے۔ کانز میں ملنے والی پذیرائی اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ بحال شدہ ہندوستانی کلاسک فلموں، خصوصاً علاقائی سنیما، میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے، جنہیں اپنی اصل ریلیز کے وقت محدود توجہ ملی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK