Updated: February 25, 2026, 12:04 PM IST
| Hubbali
جموں وکشمیر نے کرناٹک کے خلاف پہلے دن ۲؍وکٹوں کے نقصان پر۲۸۴؍رن بنا لئے،عبدالصمد نے بھی ہاف سنچری بنائی۔
جموں و کشمیر کے لیے شبھم نے شاندار بلے بازی کی۔ تصویر:آئی این این:پی ٹی آئی
شبھم پنڈیر کی ناقابلِ شکست سنچری اور نوجوان یاور حسن کی ۸۸؍ رنوں کی ہمت آزما اننگز کی بدولت جموں وکشمیر نے رنجی ٹرافی کے فائنل کے پہلے دن منگل کو یہاں کرناٹک کے خلاف ۲؍ وکٹوں پر ۲۸۴؍رن بنا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔رنجی ٹرافی فائنل کے پہلے روز جموں اور کشمیر کے بلے بازوں نے کرناٹک کے گیندبازوں کی ایک نہ چلنے دی اور شبھم سنگھ پنڈیر کی ناقابلِ شکست سنچری اور یاور حسن اورعبدالصمد کی نصف سنچریوں کی بدولت میچ پر اپنی گرفت مضبوط اور انتہائی مستحکم کر لی ہے۔
بائیں ہاتھ کے بلے باز شبھم دن کا کھیل ختم ہونے پر ۱۱۷؍رن پر ناٹ آؤٹ ہیں جبکہ عبدالصمد (ناٹ آؤٹ ۵۲) نصف سنچری بنا کر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کپتان پارس ڈوگرا کے زخمی ہو کر میدان سے باہر (ریٹائرڈ ہرٹ) ہونے کے بعد، ان دونوں بلے بازوں نے تیسری وکٹ کے لئے ۱۰۵؍رنوں کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر لی ہے۔
اس سے قبل ۲۷؍سالہ شبھم اور یاور نے دوسری وکٹ کے لئے۱۳۹؍ رن جوڑ کر ۸؍ بار کی رنجی چمپئن ٹیم (کرناٹک) کے خلاف بڑے اسکور کی بنیاد رکھی۔ شبھم پنڈیر نے شیکھر شیٹی کی گیند پر ڈیپ مڈ وکٹ کے اوپر سے چھکا لگا کر اپنی سنچری مکمل کی اور ہیلمٹ اتار کر ڈریسنگ روم کی جانب ہاتھ ہلاتے ہوئے اس کامیابی کا جشن منایا۔
پچ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، جہاں کھیل آگے بڑھنے کے ساتھ اسپنرز کو مدد ملنے کا امکان ہے، جموں وکشمیر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا جو اب تک درست ثابت ہوا ہے۔جموں وکشمیر، جو مدھیہ پردیش اور بنگال جیسی بڑی ٹیموں کو ہرا کر پہلی بار فائنل میں پہنچی ہے، کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب کامران اقبال (۶) پرسدھ کرشنا کی باہر جاتی گیند پر سلپ میں کے ایل راہل کو کیچ دے بیٹھے۔
اس کے بعد یاور اور شبھم نے پہلے سیشن میں ٹیم کو سنبھالا اور لنچ تک اسکور ایک وکٹ پر ۱۰۴؍ رنوں تک پہنچا دیا۔۲۲؍ سالہ یاور حسن، جنہوں نے ۲۰۲۵ء میں روہت شرما کے آخری فرسٹ کلاس میچ کے دوران ڈیبیو کیا تھا، پچھلے ۹؍ میچوں سے کوئی نصف سنچری نہیں بنا سکے تھے۔ تاہم، فائنل کے بڑے اسٹیج پر انہوں نے ۱۳؍چوکوں کی مدد سے یادگار اننگز کھیلی۔ وہ پرسدھ کرشنا کی گیند پر سلپ میں راہل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
کپتان پارس ڈوگرا پرسدھ کرشنا کی ایک باؤنسر گردن پر لگنے سے زخمی ہو گئے۔ فزیو کی مدد اور آئس پیک لگانے کے باوجود وہ تکلیف محسوس کر رہے تھے، جس پر کوچ اجے شرما کے اشارے پر وہ ڈریسنگ روم واپس چلے گئے اور ان کی جگہ عبدالصمد کریز پر آئے۔کرناٹک کے تجربہ کار اسپنر شریاس گوپال، جو اس سیزن میں ۵۵؍ وکٹیں لے چکے ہیں، پہلے دن کوئی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔کرناٹک کے تیز گیند بازوں نے بھرپور محنت کی، خصوصاً پرسدھ کرشنا نے اپنی جان لڑا دی اور کئی بار بلے بازوں کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے، لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ فلیٹ پچ پر اسپنرز، شریاس گوپال اور شیکھر شیٹی رن کی رفتار روکنے میں ناکام نظر آئے۔ جموں و کشمیر نے آج کے دن کا بہترین استعمال کیا۔ ابتدائی ایک گھنٹے کے دباؤ کے بعد بلے بازوں نے کھل کر اسٹروکس کھیلے۔ یاور حسن نے اسپنرز کو سیٹل ہونے کا موقع نہیں دیا جبکہ شبھم پنڈیر نے گراؤنڈ کے چاروں طرف شاٹس کھیلے۔ کل کا دن کرناٹک کے لیے انتہائی اہم ہوگا جہاں انہیں جلد وکٹیں حاصل کرنی ہوں گی۔