• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایشیز ۲۰۲۷ء: اسٹیون اسمتھ کی شرکت پر غیر یقینی صورتحال

Updated: January 08, 2026, 3:34 PM IST | Sydney

آسٹریلیا کے قائم مقام کپتان اسٹیون اسمتھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیائی ٹیم کے عمر رسیدہ کھلاڑی ۲۰۲۷ء کی ایشیز سیریز کھیلنے کے لیے بے حد پُرجوش ہیں، تاہم وہ خود اس بات کے حوالے سے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا وہ اس تاریخی سیریز کا حصہ ہوں گے یا نہیں، کیونکہ اُس وقت ان کی عمر ۳۸؍ برس ہو چکی ہوگی۔

Steven Smith.Photo:INN
اسٹیون اسمتھ۔ تصویر:آئی این این

آسٹریلیا کے قائم مقام کپتان اسٹیون اسمتھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیائی ٹیم کے عمر رسیدہ کھلاڑی ۲۰۲۷ء کی ایشیز سیریز کھیلنے کے لیے بے حد پُرجوش ہیں، تاہم وہ خود اس بات کے حوالے سے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا وہ اس تاریخی سیریز کا حصہ ہوں گے یا نہیں، کیونکہ اُس وقت ان کی عمر ۳۸؍ برس ہو چکی ہوگی۔
آسٹریلیا نے سڈنی میں اپنی تاریخ کی سب سے پرانی ٹیموں میں سے ایک کے ساتھ کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایشیز سیریز پر۱۔۴؍ سے قبضہ کیا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اب تک صرف سات مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی ٹیم نے ۳۰؍ برس سے زائد عمر کے۱۰؍ کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کھیلا ہو، اور اس سیریز میں آسٹریلیا نے دو مرتبہ (پرتھ اور سڈنی میں) یہ کارنامہ انجام دیا۔ باقی پانچ مواقع پر یہ اعزاز انگلینڈ کے نام رہا، جو ۱۹۰۹ء سے ۱۹۲۶ء کے درمیان ۳۰؍ برس سے زائد عمر کے ۱۰؍ کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترا تھا۔
سیریز کے آغاز سے قبل آسٹریلیا میں شامل زیادہ عمر کے کھلاڑیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، تاہم ۳۵؍ سالہ مچل اسٹارک پلیئر آف دی سیریز قرار پائے، جبکہ ۳۶؍ سالہ اسکاٹ بولینڈ نے تمام پانچ ٹیسٹ کھیلے اور۹۵ء۲۴؍کی اوسط سے ۲۰؍ وکٹ حاصل کئے۔ اسی طرح ۳۵؍ سالہ مائیکل نیسر نے بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے تین ٹیسٹ میں۹۳ء۱۹؍ کے اوسط سے۱۵؍ وکٹ اپنے نام کئے۔
آسٹریلیائی اسکواڈ کے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی ۳۹؍ سالہ عثمان خواجہ نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، تاہم اسمتھ سے جب پوچھا گیا کہ دیگر کھلاڑی ۲۰۲۷ء میں انگلینڈ میں کھیلنے کے لیے کس قدر پُرجوش ہیں تو انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں دو ڈرا ایشیز سیریز کھیلنے کے بعد وہاں ایشیز جیتنا ایک ایسی خواہش ہے جسے وہ پورا کرنا چاہتے ہیں، مگر فی الحال وہ خود غیر یقینی کیفیت میں ہیں۔
اسمتھ نے فاکس کرکٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’مجھے یقین ہے کہ ہر کھلاڑی وہاں جا کر کھیلنا اور ایشیز جیتنے کے لیے اپنی سو فیصد کوشش کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہدف ہے جسے میں اپنے کریئر میں اب تک حاصل نہیں کر سکا، اس لیے میں ضرور اسے حاصل کرنا چاہوں گا۔ تاہم میں وہاں کھیل پاؤں گا یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے۔ گزشتہ چار یا پانچ برسوں سے ہمارے پاس ایک شاندار ٹیم رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم آئندہ بھی ترقی کرتے رہیں گے اور بہتر کارکردگی دکھاتے رہیں گے۔‘‘
جوش ہیزل ووڈ اس سیریز کا حصہ نہیں تھے، پیٹ کمنز چار ٹیسٹ نہیں کھیل سکے، جبکہ ناتھن لیون صرف دو ٹیسٹ کھیل پائے اور ایڈیلیڈ میں وہ انجری کا شکار بھی ہو گئے۔ اس کے باوجود آسٹریلیا نے جن چار ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی، ان میں ۲۰؍ وکٹ حاصل کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ دو ٹیسٹ میں آسٹریلیا کسی ماہر اسپنر کے بغیر میدان میں اترا۔ سیریز میں میلبورن میں انہیں واحد شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس میچ میں بھی ٹیم بغیر کسی ماہر اسپنر کے کھیلی، تاہم دو دن میں ختم ہونے والے اس ٹیسٹ میں بھی آسٹریلیا نے ۱۶؍ وکٹ حاصل کئے۔

یہ بھی پڑھئے:بہار: زیورات کی دکانوں میں ڈھکے چہروں پر پابندی، سیاسی تنازع

اسمتھ نے کہا کہ اس کامیابی میں ایلکس کیری کی وکٹ کیپنگ کا بھی نمایاں کردار رہا، جنہوں نے بولینڈ، نیسر اور اسٹارک کی تین رکنی گیندبازی کا وکٹ کے پیچھے بھرپور ساتھ دیا۔ اسمتھ کے مطابق ’’انہوں نے بلے اور دستانے دونوں کے ساتھ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جس طرح انہوں نے وکٹ کے پیچھے کھیل کو سنبھالا، چاہے گیندبازی کی رفتار کم ہو یا ۱۴۰؍رن کے قریب، انہوں نے نہایت آسانی سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ اس کے لیے انہوں نے سخت محنت کی، خاص طور پر اس حریف ٹیم کے خلاف بلے بازوں کو کریز پر جمانے اور ہمارے گیندبازوں پر حملہ کرنے سے روکنا ایک مشکل چیلنج تھا، جس سے وہ بخوبی نمٹنے میں کامیاب رہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ملاڈ کے ۸؍وارڈوں میں ۱۹؍ مسلم امیدوار میدان میں

اسمتھ نے سیریز میں دو سب سے اہم کردار ادا کرنے والے مچل اسٹارک اور ٹریوس ہیڈ کی بھی تعریف کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے۔ آسٹریلیا نے اس سیریز میں مجموعی طور پر ۱۶؍ کھلاڑیوں کا استعمال کیا، جو انگلینڈ کے مقابلے میں ایک زیادہ ہے۔اسمتھ نے مزید کہاکہ ’’مچل اسٹارک نے شاندار کارکردگی دکھائی اور ہر کھلاڑی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، خاص طور پر ہوم کنڈیشنز میں ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسے کھلاڑیوں کا مجموعہ ہے جو طویل عرصے سے مسلسل اچھا کھیل پیش کر رہا ہے۔ دو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل تک پہنچنا اس کی واضح دلیل ہے۔ ہمارے اسکواڈ میں گہرائی موجود ہے اور ہر کھلاڑی موقع ملنے پر اسے ضائع نہیں کرتا۔ اس ٹیم کا حصہ ہونا واقعی ایک خوشگوار تجربہ رہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK