• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ ۵؍ وکٹوں سے جیت کر ایشیزسیریز اپنے نام کر لی

Updated: January 08, 2026, 7:02 PM IST | Sydney

آسٹریلیا نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایشیز سیریز۱۔۴؍ سے اپنے نام کر لی، جس سے ان کا دبدبہ ایک بار پھرثابت ہو گیا۔

Australiain Team.Photo:INN
آسٹریلیا ٹیم۔ تصویر:آئی این این

آسٹریلیا نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایشیز سیریز۱۔۴؍ سے اپنے نام کر لی، جس سے ان کا دبدبہ ایک بار پھرثابت ہو گیا۔  سیریز کےآخری دن انگلینڈ نے آسٹریلیا کو جیت کے لیے۱۶۰؍ رنز کا نشانہ دیا۔  آسٹریلیا نے۲ء۳۱؍ اوورز میں ۵؍ وکٹ  کے نقصان پر ۱۶۱؍ رنز بنا لیے۔ ایلیکس کیری نے شاندار باؤنڈری کے ذریعے میچ اور سیریز دونوں پر جیت کی مہر ثبت کی۔ 
اس سے قبل جیکب بیتھل کی شاندار ۱۵۴؍ رنز کی اننگز کے باوجود انگلینڈ اپنی دوسری اننگز میں ۳۴۲؍ رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ ان کی لمبی اور شاندار اننگز پر شائقین نے کھڑے ہو کر داد دی۔ مچل اسٹارک نے ایک بار پھر فیصلہ کن وکٹ حاصل کی اور سیریز ۳۱؍ وکٹوں کے ساتھ ختم کی۔  عثمان خواجہ (۶)، اسٹیو اسمتھ (۱۲) اور لبوشین (۳۷) کے آؤٹ ہونے سے آسٹریلیا کا تعاقب کچھ دیر کے لیے لڑکھڑا گیا لیکن کیمرون گرین (ناٹ آؤٹ ۲۲؍رن) کی شاندار اسٹروک پلے اور کیری (ناٹ آؤٹ ۱۶؍رن) کے تحمل نے جیت کو یقینی بنایا ۔ ٹریوس ہیڈ کو ٹیسٹ میں ان کے شاندار کھیل پر پلیئر آف دی میچ منتخب کیا گیا جبکہ اسٹارک کو بہترین کارکردگی پر پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ 
سیریز کا فیصلہ دراصل بہت پہلے ہی ہو چکا تھا جب آسٹریلیا نے پہلے تین ٹیسٹ جیت کر محض ۱۱؍ دنوں کے اندر ایشیز اپنے پاس برقرار رکھ لی تھی۔ 

پرتھ میں کھیلے گئے افتتاحی ٹیسٹ میں  انگلینڈ پہلے ہی دن ۱۷۲؍ رنز پر آؤٹ ہو گیا۔ مچل اسٹارک نے  ۷؍ وکٹ لے کر مہمان ٹیم کو پویلین واپس بھیج دیا۔  پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے کے بعد انگلینڈ نے کچھ سبقت بنائی لیکن دوسری اننگز میں ان کی جارحانہ بیٹنگ  کا رخ الٹا پڑ گیا۔ عثمان خواجہ کے زخمی ہونے کے باعث آسٹریلیا کو ٹریوس ہیڈ کے ساتھ اوپننگ کرنی پڑی اور یہی قدم سیریز کا رخ بدلنے والا ثابت ہوا۔ ہیڈ نے ۶۹؍ گیندوں پر سنچری بنائی اور آسٹریلیا دو دن کے اندر۰۔۱؍ سے سبقت لے گیا۔ 
برسبین میں دوسرے ٹیسٹ میں اسٹارک نے پنک بال سے اپنی وکٹوں کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے پہلے دن چھ وکٹیں حاصل کیں۔ جو روٹ نے آسٹریلیا میں اپنا پہلا ٹیسٹ سنچری اسکور کیا لیکن انگلینڈ کی فیلڈنگ نے انہیں مایوس کیا کیونکہ پانچ کیچ چھوڑ دیے گئے جس سے آسٹریلیا کو ۱۷۷؍ رنز کی  برتری مل گئی۔  ول جیکس اور بین اسٹوکس کے نسبتاً محتاط انداز نے انگلینڈ کی شکست کو کچھ دیر کے لیے ٹال دیا لیکن جوفرا آرچر اور اسمتھ کے درمیان زبردست مقابلہ بالآخر آسٹریلیا کے حق میں رہا اور میزبان ٹیم  ۰۔۲؍ سے آگے ہو گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:عامر خان نے اپنے بھائی فیصل خان کے ساتھ ہونے والے جھگڑے پر اپنے درد کا اظہار کیا

ایڈیلیڈ میں تیسرے ٹیسٹ میں پیٹ کمنس کپتان کے طور پر واپس آئے جبکہ اسمتھ نہیں کھیل سکے، جس کے باعث عثمان خواجہ کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اگرچہ آرچر نے پانچ وکٹیں حاصل کی لیکن کیری نے شاندار کاؤنٹر اٹیکنگ سنچری اسکور کر کے سب کی توجہ حاصل کر لی۔  انگلینڈ نے پہلی اننگز میں آٹھ وکٹ کے نقصان پر۱۶۸؍ رنز  کے بعد واپسی کی، اسٹوکس کی سب سے سست ٹیسٹ ففٹی اور آرچر کی پہلی ففٹی کی بدولت لیکن دوسری اننگز میں ہیڈ اور کیری کے درمیان ۱۶۲؍ رنز کی اہم شراکت نے انگلینڈ کو ۴۰۰؍رن  سے زائد کا ہدف دیا۔ مہمان ٹیم نے مقابلہ کیا مگر آسٹریلیا کے سینئر بولرس نے وکٹیں لے کر اسکور ۰۔۳؍ کر دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:وجے ہزارے ٹرافی: سرفراز خان نے ایک اوور میں ۳۰؍ رنز بنائے

انگلینڈ نے بالآخر میلبورن میں چوتھے ٹیسٹ میں وائٹ واش سے بچاؤ کر لیا۔ اگرچہ ایشیز پہلے ہی ہاتھ سے جا چکی تھی، اسٹوکس نے مضبوط جواب دینے کا وعدہ کیا تھا اور انگلینڈ نے ایسا ہی کر دکھایا۔  ایم سی جی کی گرین پچ پر جوش ٹنگ نے پانچ وکٹیں لے کر آسٹریلیا کو ۱۵۲؍رنز پر آؤٹ کر دیا جبکہ خود انگلینڈ بھی ایک سنسنی خیز مقابلے میں ۱۱۰؍ رنز پر ڈھیر ہو گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK