Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیڈمنٹن کوچ ومل کمار نے نئے اسکورنگ سسٹم پر تنقید کی

Updated: April 26, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi

سابق ہندوستانی بیڈمنٹن کوچ ومل کمار نے بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن کے نئے۱۵ ۳x اسکورنگ سسٹم کو شروع کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئے قوانین سے کھیل کمزور ہوگا۔ کمار نے کونسل ممبرز کی جانب سے اس تجویز کو ملنے والی حمایت پر بھی تشویش ظاہر کی۔

Vimal Kumar.Photo:INN
ومل کمار۔ تصویر:آئی این این

سابق ہندوستانی بیڈمنٹن کوچ ومل کمار نے بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن کے نئے۱۵ ۳x  اسکورنگ سسٹم کو شروع کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئے قوانین سے کھیل کمزور ہوگا۔ کمار نے کونسل ممبرز کی جانب سے اس تجویز کو ملنے والی حمایت پر بھی تشویش ظاہر کی۔
وِمل کمار نے کہاکہ ’’بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن کے اسکورنگ سسٹم میں تبدیلی کے فیصلے سے میں بہت مایوس ہوں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ کونسل ممبرز کی جانب سے اسے زبردست حمایت ملی ہے۔ موجودہ فارمیٹ نے کھیل کے تمام اندازوں کے لیے، خاص طور پر مین ایونٹس مردوں اور خواتین کے سنگلز میں یکساں مواقع یقینی بنائے۔ مہارت، لچک، فٹنیس اور ذہنی مضبوطی ہمیشہ ہمارے کھیل کی خاص پہچان رہی ہے۔ دورانیہ مؤثر طریقے سے کم کر کے (اصل میں ایک گیم جتنا وقت ۱۸؍ پوائنٹس ہٹا کر)، بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن ان ایونٹس کو کمزور کرنے کا خطرہ لے رہی ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’یہ کہنا کہ اس سے ابتدائی جوش پیدا ہوگا ایک سطحی سوچ لگتی ہے۔ بیڈمنٹن میں کبھی جوش کی کمی نہیں رہی۔ یہ کھیل مسلسل انتہائی شدت رکھتا ہے، جس کا مقابلہ بہت کم کھیل کر سکتے ہیں۔ اگر تبدیلی ضروری تھی تو سنگلز کی سالمیت برقرار رکھتے ہوئے اسے منتخب ڈبلز فارمیٹ میں کیوں نہیں لاگو کیا گیا؟ یہ زیادہ متوازن طریقہ ہوتا۔‘‘ اسکورنگ سسٹم کے علاوہ، کمار نے کھیل میں کچھ دیگر بنیادی مسائل پر بھی زور دیا، جن میں ورلڈ چیمپئن شپ کے لیے انعامی رقم کی کمی، سنگلز میں محدود انعامات، اور امپائرنگ فیصلوں کے لیے ریویو سسٹم کی عدم موجودگی شامل ہے۔
وِمل کمار نے ایکس پر لکھاکہ ’’بیڈمنٹن کو دنیا کے مشکل ترین کھیلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ۹۰؍ منٹ کے سنگلز میچ میں تقریباً ایک گھنٹہ شٹل کھیل میں ہو سکتا ہے جو کئی طویل کھیلوں سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر بھی، ان خصوصیات کو مضبوط کرنے کے بجائے ایسے فیصلے انہیں کمزور کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ کھلاڑیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خود کو ڈھالیں لیکن ان کی بات شاید ہی سنی جاتی ہے۔ جہاں دیگر عالمی کھیل ایتھلیٹس کو مضبوط بنا کر، امپائرنگ بہتر کر کے اور ناظرین کی دلچسپی بڑھا کر مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، وہیں بیڈمنٹن الٹی سمت میں جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ایک ایسا کھیل جسے اتنے جوش سے فالو کیا جاتا ہے خاص طور پر پورے ایشیا میں اسے ان وجوہات کی بنا پر بدلا جا رہا ہے جو اس کے اصل مسائل حل نہیں کرتیں۔ یہ ارتقا نہیں ہے، یہ کمزوری ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ، ٹرمپ اور وینس سمیت اعلیٰ حکام محفوظ


بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن نے ہفتے کے روز کھیل کے اسکورنگ طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی کی منظوری دی۔ جنوری ۲۰۲۷ء سے، اپنے رکن ایسوسی ایشنز کی بھرپور حمایت کے بعد نیاپوائنٹ سسٹم استعمال کیا جائے گا۔ڈنمارک کے شہر ہورسنس میں بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن کی سالانہ جنرل میٹنگ میں یہ تجویز ۴۳۔۱۹۸؍ ووٹوں سے منظور ہوئی، جو طویل عرصے سے رائج۲۱ ۳ x پوائنٹ فارمیٹ کو بدلنے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کیا جنت زبیر نے پلاسٹک سرجری کروائی ہے؟جنت نےافواہوں کا براہ راست جواب دیا


یہ تبدیلی فیڈریشن کی اس کھیل کو جدید بنانے کی کوششوں کے تحت ایک سال سے زائد عرصے تک مختلف ٹورنامنٹس میں آزمائش کے بعد آئی ہے۔ نئے نظام کے تحت میچز ۱۵؍ پوائنٹس تک بیسٹ آف تھری گیمز پر مشتمل ہوں گے، لیکن اگر اسکور برابر رہے تو یہ۲۱؍ پوائنٹس تک جا سکتے ہیں۔بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن کا خیال ہے کہ اس تبدیلی سے کھیل زیادہ مختصر، تیز اور ناظرین کے لیے زیادہ دلچسپ ہوگا اور اس سے کھلاڑیوں کو کھیل کی جسمانی ضروریات کو بہتر طور پر سنبھالنے میں بھی مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK