Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ، ٹرمپ اور وینس سمیت اعلیٰ حکام محفوظ

Updated: April 26, 2026, 12:18 PM IST | Washington

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کئی دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ فائرنگ شروع ہوتے ہی سیکرٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر ٹرمپ اور دیگر لیڈروں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس تقریب میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کئی دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ فائرنگ شروع ہوتے ہی سیکرٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر ٹرمپ اور دیگر لیڈروں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ 

ہفتے کی رات پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے امریکی سیکرٹ سروس اور مقامی سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی تیزی اور بہادری سے کام کیا۔ انہوں نے تقریب میں دوبارہ شرکت کی خواہش ظاہر کی تاہم واضح کیا کہ وہ سکیورٹی حکام کی ہدایات پر عمل کریں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیلی فون پر گفتگو

ٹرمپ نے مزید لکھاکہ ’’حملہ آور کو پکڑ لیا گیا ہے، میں نے مشورہ دیا تھا کہ پروگرام جاری رکھا جائے لیکن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فیصلے کا پابند ہوں۔ وہ جلد فیصلہ کریں گے، تاہم اب یہ شام ویسی نہیں رہے گی جیسی ہم نے سوچی تھی۔ ہمیں اسے دوبارہ نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔‘‘

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے وقت سیکرٹ سروس کے ایجنٹس نے صدر ٹرمپ کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ وہاں موجود دیگر لوگ اپنی میزوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران ہال میں ’نیچے جھک جاؤ‘ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ ایجنٹس صدر ٹرمپ کو تیزی سے اسٹیج سے دور لے گئے، جس کے فوراً بعد بھاری اسلحے سے لیس اہلکاروں نے اسٹیج کا کنٹرول سنبھال لیا۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر ایک روایتی تقریب ہے جس کی میزبانی وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی ایسوسی ایشن کرتی ہے۔ یہ تقریب ہر سال واشنگٹن ہلٹن کے بڑے ہال میں منعقد کی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے واشنگٹن فائرنگ کی شدید مذمت کی

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کی رات وہائٹ ہاؤس کے ایک پروگرام کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا اور نائب صدر جے ڈی وینس کی سلامتی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اس کی واضح طور پر مذمت کی جانی چاہیے۔  وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ جان کر اطمینان ہوا کہ واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والے حالیہ سکیورٹی واقعے کے بعد صدر ٹرمپ، خاتون اول اور نائب صدر محفوظ اور بخیریت ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: باقر قالیباف کے تعلق سے افواہیں، ایران کی تردید

ان کی سلامتی اور خیر و عافیت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ  جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اس کی بلاامتیاز مذمت کی جانی چاہیے۔ واضح رہے کہ واشنگٹن میں ہفتے کی رات  وہائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ایچ سی اے) کے زیر اہتمام منعقدہ عشائیے کے دوران گولیاں چلائی گئیں۔ اس تقریب میں صدر ٹرمپ، ان کی اہلیہ، نائب صدر وینس، ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل اور کئی دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ تمام معززین کو بحفاظت نکال لیا گیا اور حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK