Updated: November 03, 2026, 7:05 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی کپتان شبھ من گل کا کہنا ہے کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ نیوزی لینڈ کے موجودہ دورے میں ٹی۲۰؍ سیریز کو ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کے درمیان رکھتے، تاکہ عالمی کپ کی تیاری کے لیے ہندوستان کو مکمل مضبوط ٹیم کے ساتھ ون ڈے سیریز کھیلنے کا موقع ملتا۔
ہندوستانی کپتان شبھ من گل کا کہنا ہے کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ نیوزی لینڈ کے موجودہ دورے میں ٹی۲۰؍ سیریز کو ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کے درمیان رکھتے، تاکہ عالمی کپ کی تیاری کے لیے ہندوستان کو مکمل مضبوط ٹیم کے ساتھ ون ڈے سیریز کھیلنے کا موقع ملتا۔جون۲۰۲۷ء میں ہونے والے عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) فائنل اور اکتوبر-نومبر ۲۰۲۷ء میں ہونے والے ون ڈے عالمی کپ کی تیاری کے پیش نظر ہندوستانی کپتان نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں سیریز میں مکمل مضبوط ٹیم دستیاب چاہتے تھے۔ تاہم دونوں سیریز کے درمیان کم وقفے کی وجہ سے ہندوستان نے اپنے اہم تیز گیندباز جسپریت بمراہ کو پوری ون ڈے سیریز سے آرام دیا ہے۔ چوتھے اور پانچویں ون ڈے میں گِل سمیت کئی دیگر ٹیسٹ کھلاڑی بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
آکلینڈ میں پہلے ون ڈے سے قبل گِل نے کہاکہ دونوں (ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز) بہت اہم ہیں۔ اگر یہ میرے ہاتھ میں ہوتا اور تمام کھلاڑی فٹ ہوتے تو میں ان تمام کھلاڑیوں کو پوری ون ڈے سیریز میں کھلانا پسند کرتا جنہیں ہم عالمی کپ میں کھیلتے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن دونوں ٹیسٹ میچ بھی بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر پہلے ون ڈے، پھر ٹی۲۰؍ اور اس کے بعد ٹیسٹ ہوتا تو ہم اپنی سب سے مضبوط ٹیم کے ساتھ تمام پانچ ون ڈے میچ کھیل سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ ون ڈے سیریز اور ٹیسٹ میچوں کے درمیان وقفہ بہت کم تھا۔
آسٹریلیا کے خلاف اپنی گھریلو ٹیسٹ سیریز میں جنوبی افریقہ کی ۱۔۲؍سے فتح نے ہندوستان کے اگلے سال ڈبلیو ٹی سی فائنل میں پہنچنے کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ ہندوستان اس وقت نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے بعد ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل میں چوتھے مقام پر ہے۔ نیوزی لینڈ میں دو ٹیسٹ میچوں کے بعد ہندوستان کو اس سائیکل میں مزید پانچ ٹیسٹ کھیلنے ہیں، جو ۲۰۲۷ء کے آغاز میں گھریلو میدان پر آسٹریلیا کے خلاف ہوں گے۔
گِل نے کہاکہ ڈبلیو ٹی سی کا منظرنامہ بہت دلچسپ ہوگیا ہے۔ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والی سیریز واقعی دلچسپ تھی اور اس نے پوائنٹس ٹیبل کو کافی متوازن کردیا ہے۔ امید ہے کہ اگر ہم یہاں ٹیسٹ سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پھر گھر پر آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہیں تو اس سے ہمیں فائنل میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ دونوں (ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز) بہت اہم ہیں، لیکن بدقسمتی سے چونکہ ہم ٹی۲۰؍ اور ٹیسٹ کے درمیان ون ڈے کھیل رہے ہیں، اس لیے ٹیسٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو آخری دو ون ڈے میچوں سے باہر رہنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے پُرتشدد فلموں پر کہا: میرا دماغ اتنے تشدد کو قبول نہیں کر پاتا
۲۰۲۷ء کے عالمی کپ سے قبل ہندوستان کے لیے ایک بڑی تشویش اہم تیز گیندباز آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کی فٹنس ہے، جو چوٹوں اور کھنچاؤ کے باعث آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے بعد سے کرکٹ سے دور ہیں۔ ان کی حالیہ چوٹ پنڈلی کی تھی، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ ماہ آسٹریلیا اے کے خلاف ہندوستان اے کی ۵۰؍اوور کی سیریز سے باہر ہوگئے تھے۔ ہاردک کے بارے میں گِل نے کہاکہ سب سے پہلی بات، مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک عظیم کھلاڑی ہیں۔ وہ ٹیم میں جو خوبیاں لاتے ہیں، دنیا میں بہت کم کھلاڑیوں میں ایسی صلاحیتیں ہیں۔ ایسا تیز گیندباز آل راؤنڈر جو میچ کے کسی بھی مرحلے میں، نئی گیند سے، درمیانی اوورز میں اور ڈیتھ اوورز میں گیندبازی کرسکتا ہے، اور جس طرح کی ان کی بلے بازی ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ آئی پی ایل کے بعد سے نہیں کھیل سکے ہیں اور ہاں، ہماری کئی بار بات ہوئی ہے۔ انہیں آسٹریلیا اے کے خلاف ہندوستان اے کے میچ کھیلنے تھے، لیکن اس سے عین قبل انہیں دوبارہ کچھ تکلیف ہوگئی۔ امید ہے کہ وہ جلد فٹ ہوجائیں گے اور کچھ گھریلو کرکٹ کھیلیں گے، اور پھر امید ہے کہ ہم انہیں جلد ہی ٹیم میں واپس دیکھیں گے۔ ۲۰۲۷ء کا عالمی کپ بنیادی طور پر جنوبی افریقہ کی اچھال والی پچوں پر کھیلا جانا ہے، جس کے پیش نظر ہندوستان نے حالیہ مہینوں میں اپنے ون ڈے اسکواڈ میں کئی طویل قامت تیز گیندبازوں کو آزمانے کی کوشش کی ہے۔ ان میں پرسدھ کرشنا اور ہرشیت رانا دونوں زخمی ہیں اور موجودہ سیریز سے باہر ہیں۔ گرنور برار بھی طویل قامت تیز گیندبازوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ گِل نے کہا کہ یہ گیندباز ون ڈے میچوں کے درمیانی اوورز میں انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:محمد عامر نے آئی پی ایل نیلامی میں شامل ہونے سے انکار کیا
گِل نے کہاکہ جب گیند پرانی ہوجاتی ہے اور اس میں زیادہ سیم یا سوئنگ نہیں ہوتا تو آپ بلے باز کو چیلنج کیسے کرتے ہیں؟ آپ بلے باز کو اس وقت چیلنج کرسکتے ہیں جب وکٹ میں کچھ مدد ہو۔ اگر گیند سیم کررہی ہو تو بلے باز کے لیے رنز بنانا مشکل ہوجاتا ہے، یا پھر آپ رفتار اور اچھال کے ذریعے بلے باز کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسی لیے ایسے گیندبازوں کی شناخت کرنا ضروری ہے جو بلے بازوں کے لیے رنز بنانا مشکل بناسکیں اور ہمیں درمیانی اوورز میں وکٹ لینے کا بہترین موقع فراہم کریں۔ گرنور یا پرسدھ جیسے گیندبازوں کو آزمانے کے پیچھے یہی سوچ ہے، جو ہمیں فلیٹ وکٹ پر تقریباً ۱۳۵؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندبازی کرنے والے کسی گیندباز کے مقابلے میں کچھ زیادہ فائدہ دے سکتے ہیں۔
گِل نے کہاکہ میں نے درمیانی اوورز میں کافی بلے بازی کی ہے اور دیکھا ہے کہ اگر طویل قامت تیز گیندباز درست جگہوں پر گیند ڈال سکتے ہیں تو ان کے خلاف رنز بنانا ۱۳۵؍ یا ۱۳۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندبازی کرنے والے گیندباز کے مقابلے میں کافی مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ آپ کو اپنے شاٹس کھیلنے میں واقعی بہت درست ہونا پڑتا ہے۔ آپ کو اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے تاکہ آپ ایسے گیندباز کے خلاف رنز بناسکیں جس کی رفتار۱۴۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو اور جس کا قد ۶؍ فٹ ایک انچ، ۶؍ فٹ ۲؍انچ یا ۶؍ فٹ ۳؍انچ ہو۔ جب آپ ایسے گیندباز کے خلاف کھل کر رنز بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔