کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ٹوڈ گرین برگ نے کہا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کی صورت میں میلبورن اسٹارز اور میلبرن رینیگیڈز کے انضمام سے متعلق کرکٹ وکٹوریہ کے اعلان کا وقت ’’مناسب نہیں تھا۔‘‘
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 6:02 PM IST | Melbourne
کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ٹوڈ گرین برگ نے کہا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کی صورت میں میلبورن اسٹارز اور میلبرن رینیگیڈز کے انضمام سے متعلق کرکٹ وکٹوریہ کے اعلان کا وقت ’’مناسب نہیں تھا۔‘‘
کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ٹوڈ گرین برگ نے کہا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کی صورت میں میلبورن اسٹارز اور میلبرن رینیگیڈز کے انضمام سے متعلق کرکٹ وکٹوریہ کے اعلان کا وقت ’’مناسب نہیں تھا۔‘‘ یہ بیان انہوں نے جمعرات کو دیگر پانچ ریاستی کرکٹ تنظیموں کے چیئرمینزاور چیف ایگزیکٹیو افسران کے ساتھ ہنگامی کانفرنس کال کے بعد دیا۔
نیو ساؤتھ ویلز، کوئنز لینڈ اور جنوبی آسٹریلیا نے کرکٹ آسٹریلیا سے فوری بات چیت کا مطالبہ کیا تھا، کیونکہ منگل کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق کرکٹ وکٹوریہ اگلے سیزن سے میلبورن اسٹارز اور میلبورن رینیگیڈز کے انتظامی امور کو ایک نئے نام اور نئے رنگوں کے تحت ضم کرنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری بی بی ایل فرنچائز کا ۱۰۰؍ فیصد حصہ کسی نجی سرمایہ کار کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، بشرطیکہ کرکٹ آسٹریلیا مارکیٹ میں جانے کی منظوری دے۔
یہ بھی پڑھئے:سری لنکا نے ویسٹ انڈیز کو ۴۱؍ رن سے شکست دے دی
وکٹوریہ کے اس اعلان کے بعد دیگر ریاستی کرکٹ اداروں اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن (اے سی اے) نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کرکٹ آسٹریلیا آئندہ ہفتے ریاستی حکام کے اجلاس اور اس کے بعد چیئرمینز کے اجلاس سے پہلے بی بی ایل کی نجکاری کے ہائبرڈ ماڈل کے اگلے مرحلے کی منظوری دینے والا نہیں تھا۔ کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد کرکٹ آسٹریلیا کے بورڈ اور اے سی اے سے مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔
جمعرات کو ہونے والی کانفرنس کال میں وکٹوریہ کے چیف ایگزیکٹو نک کمنز اور چیئرمین راس ہیپ برن کو مدعو نہیں کیا گیا تھا، جبکہ دیگر تمام ریاستی چیئرمینز اور چیف ایگزیکٹیو افسران نے شرکت کی اور وکٹوریہ کے منصوبے اور بی بی ایل نجکاری کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹس کے مطابق نک کمنز نے اس سے قبل دیگر ریاستوں کو ایک ای میل بھی ارسال کی تھی جس میں اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:ترپتی ڈمری نے بچپن کو یادکیا، کہا’’بہت مار کھائی ہے‘‘
متعدد ریاستی نمائندوں نے گرین برگ اور کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ کے سامنے وکٹوریہ کے اقدام پر اپنے خدشات کا اظہار کیا، تاہم عمومی اتفاق رائے یہ تھا کہ موجودہ عمل کو جاری رکھا جائے اور اگلے ہفتے میلبورن میں ہونے والے اجلاسوں میں تفصیلی بات چیت کی جائے۔ گرین برگ نے ایک بیان میں کہا’’آج متعدد ریاستی چیئرمینز اور چیف ایگزیکٹیو افسران کے ساتھ مثبت گفتگو ہوئی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بگ بیش لیگ میں ممکنہ نجی سرمایہ کاری سے متعلق تمام بات چیت مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’نجی سرمایہ کاری کی صورت میں کرکٹ وکٹوریہ کے ارادوں سے متعلق خبر کے منظر عام پر آنے کا وقت مناسب نہیں تھا، تاہم ہم ان کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا’’یہ بات دُہرانا انتہائی ضروری ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا، ریاستی تنظیمیں اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن سبھی آسٹریلوی کرکٹ کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں، اور ہم بہترین راستہ تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔‘‘