امریکہ میں ایک وفاقی جج کے نئے فیصلے نے ان درجنوں تارکینِ وطن کے لیے کچھ راحت فراہم کی ہے جو ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جو ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودہ ٹریول بین لسٹ میں شامل ہیں اور گرین کارڈ کے خواہشمند ہیں۔
EPAPER
Updated: April 28, 2026, 11:58 AM IST | New York
امریکہ میں ایک وفاقی جج کے نئے فیصلے نے ان درجنوں تارکینِ وطن کے لیے کچھ راحت فراہم کی ہے جو ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جو ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودہ ٹریول بین لسٹ میں شامل ہیں اور گرین کارڈ کے خواہشمند ہیں۔
میری لینڈ کے ضلعی جج جارج ایل رسل سوم نے فیصلہ سنایا کہ امیگریشن حکام اُن تارکینِ وطن کی گرین کارڈ درخواستوں کو روک نہیں سکتے جن کا تعلق ان ممالک سے ہے جنہیں موجودہ انتظامیہ نے نشانہ بنایا ہے۔ جمعہ کو جاری اور پیر کو شائع ہونے والے ۳۹؍ صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج نے کہا کہ ایسی درخواستوں کو مجموعی اور غیر معینہ مدت تک روکنا غیر قانونی ہے۔
جج نے لکھا’’یو ایس سی آئی ایس کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ درخواستوں پر بالکل بھی فیصلہ نہ کرے اور گرین کارڈ درخواستوں کے عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا۔‘‘
اس فیصلے سے کون متاثر ہوا؟
یہ مقدمہ ۸۳؍ ایسے تارکینِ وطن کی نمائندگی کرتا ہے جو پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں۔ یہ معاملہ امریکی شہریت و امیگریشن سروسیز(یو ایس سی آئی ایس) (USCIS) کی اُس پالیسی سے متعلق ہے جس کے تحت ۳۹؍ ممالک کے تارکینِ وطن کی درخواستیں روک دی گئی تھیں، جن پر ٹرمپ کے مکمل ٹریول بین یا نئے ویزوں پر پابندیوں کا اطلاق ہوتا تھا۔
نیوز ویک کے مطابق، جج نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ بہت سے مدعی’’کئی برسوں، بلکہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے امریکہ میں قانونی حیثیت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ونود کھنہ نے فلموں اور زندگی میں کئی طرح کے رول نبھائے
دوسری جانب، وہ تارکینِ وطن جو اس مقدمے میں شامل نہیں ہیں، اب بھی مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں کیونکہ یہ فیصلہ یو ایس سی آئی ایس کو مکمل طور پر یہ پابندی ختم کرنے کا پابند نہیں بناتا۔ تاہم، جج رسل کے اس مؤقف کے بعد کہ درخواستوں کو غیر معینہ مدت تک روکنا غیر قانونی ہے، ایسے دیگر افراد کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے جن کی گرین کارڈ درخواستیں تاخیر کا شکار ہیں۔
’’پروجیکٹ پریس اَن پاز‘‘نامی مہم، جو اس تعطل کی نگرانی کر رہی ہے، نے نیوز ویک کو بتایاکہ ’’یہ واضح پیغام ہے کہ یہ پالیسی من مانی اور غیر معقول ہے۔ ہم میں سے اکثر ۵؍سال سے زائد عرصے سے یہاں بغیر کسی قانونی مسئلے کے رہ رہے ہیں، ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اور ہمیں اپنے کام کی وجہ سے قومی مفاد کی بنیاد پر رعایتیں بھی دی گئی تھیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی
ٹرمپ کی “توسیع شدہ ٹریول بین فہرست
۲۱؍جنوری ۲۰۲۶ء سے، امریکی محکمہ خارجہ نے درج ذیل ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنا معطل کر دیا ہے:افغانستان، البانیا، الجزائر، انٹیگوا و باربوڈا، آرمینیا، آذربائیجان، بہاماس، بنگلہ دیش، بارباڈوس، بیلاروس، بیلیز، بھوٹان، بوسنیا و ہرزیگووینا، برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، آئیوری کوسٹ، کیوبا، جمہوریہ کانگو، ڈومینیکا، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گریناڈا، گوئٹے مالا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، کرغزستان، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مالدووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیپال، نکاراگوا، نائجیریا، شمالی مقدونیہ، پاکستان، جمہوریہ کانگو (ریپبلک آف کانگو)، روس، روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز، سینیگال، سیرا لیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان، اور یمن۔