Updated: June 16, 2026, 10:00 AM IST
|
Z A Khan
| Aurangabad
کسانوں کی قرض معافی کیلئے تمام شرائط کو منسوخ کرنے اورکھاد کی آن لائن خریداری والا ایپ بند کرنے کا مطالبہ۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
کسانوں کے مسائل پراورنگ آباد میں کانگریس نے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے زبردست احتجاج کیا۔ رکن پارلیمان کلیان کالے کی قیادت میں کانگریس کارکنان نے اورنگ آباد۔جالنہ شاہراہ پر واقع کیمبرج چوک میںراستہ روکو آندولن کیا جس کے باعث ہائی وے پر ٹریفک جام ہو گئی اور تقریباً پانچ کلومیٹر تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ بعد ازاں پولیس نے کلیان کالے سمیت کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا۔
کسانوں کے مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کروانےکیلئے کانگریس کارکنان نے مصروف اوقات میں کیمبرج چوک پر دھرنا دیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے سے زائد وقت تک مظاہرین نے اہم شاہراہ کو بند رکھا، جسکے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور جالنہ روڈ پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کلیان کالے کو حراست میں لیا، جسکے بعد ٹریفک بحال کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔اس موقع پر کلیان کالے نے حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ۲؍ اہم مطالبات ہیںایک حکومت کی جانب سے اعلان کردہ قرض معافی اسکیم میں شامل سخت اور پیچیدہ شرائط کو فوری طور پر ختم کرکے تمام کسانوں کو اس کا فائدہ دیا جائے۔ دوسرے آن لائن کھاد فروخت کرنے والا سرکاری ایپ فوری بند کیا جائے، کیونکہ کسان اس نظام کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔
پولیس کی جانب سے حراست میں لئے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کلیان کالے نے حکومت کو سخت انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج صرف شروعات ہے۔ اگر حکومت نے کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کیا اور آن لائن کھاد فروخت کرنے والا ایپ بند نہیں کیا تو اس سے بھی بڑا اور شدید احتجاج شروع کیا جائے گا۔
ادھر مہایوتی حکومت کی دھوکہ دہی پر مبنی قرض معافی پالیسی کے خلاف اور کسانوں و مزدوروں کے حقوق کیلئے جالنہ ضلع کے پرتور میں تعلقہ کانگریس صدر بالاصاحب آکات کی قیادت میں بھی ایک’ جن آکروش مورچہ ‘نکالا گیا جس میں سیکڑوں ٹریکٹروں کے ساتھ ہزاروں کسان، زرعی مزدور اور خواتین شریک ہوئیں۔