Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام، یوپی میں مسلمانوں کے خلاف جرائم ظلم و ستم، نسل پرستی، نسلی صفائی کی تیاری کے مترادف: پینل

Updated: April 02, 2026, 2:08 PM IST | New Delhi

رپورٹ میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کی بیان بازی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور الزام لگایا گیا ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ”درانداز“ قرار دینا نسلی کشی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

Himanta Biswa Sarma and Yogi Adityanath. Photo: X
یوگی آدتیہ ناتھ اور ہیمنت بسوا شرما۔ تصویر: ایکس

بین الاقوامی سطح کے نامور قانونی اور انسانی حقوق کے ماہرین کے ایک پینل نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم، بین الاقوامی قانون کے تحت ظلم و ستم، اپارتھائیڈ (نسلی عصبیت) اور نسلی صفائی کی تیاری کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ 

ان نتائج کی تفصیلات ”ہندوستان کے اتر پردیش اور آسام میں مسلمانوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیاں ۲۵-۲۰۲۲ء“ کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں دی گئی ہیں، جو ۳۱ مارچ کو کنگز کالج لندن میں منعقدہ ایک تقریب میں پیش کی گئی۔ سونجا بسیرکو، مرزوکی داروسمان اور اسٹیفن ریپ پر مشتمل پینل نے جولائی ۲۰۲۲ء اور جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا۔ اس مطالعہ کیلئے انہوں نے ان معیارات کا اطلاق کیا گیا جو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے استغاثہ یہ تعین کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں کہ آیا صورتحال باضابطہ بین الاقوامی تحقیقات کی متقاضی ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نجی رہائش گاہ میں عبادت کیلئے پیشگی اجازت ضروری نہیں: چھتیس گڑھ ہائی کورٹ

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ریاستیں مسلم آبادی، جو تقریباً ۵ کروڑ ۳۰ لاکھ سے زائد ہے، کے خلاف مبینہ مظالم کی وسعت اور منظم جبر کے نمونے کی عکاسی کرتی ہیں۔ رپورٹ میں ریاستی مشینری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے نوٹ کیا گیا کہ آسام اور اتر پردیش دونوں کے وزرائے اعلیٰ کے پاس وزارتِ داخلہ کا قلمدان بھی ہے، جس سے پولیس فورسیز اور انتظامی ایجنسیاں براہِ راست ان کے ماتحت آ جاتی ہیں۔

پینل کے مطابق، مسلمانوں کو آبادیاتی یا سیکوریٹی خطرہ بنا کر پیش کرنے والے متعدد عوامی بیانات نے ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد کی ہے جس سے غیر ریاستی عناصر کو تشدد کی شہ ملی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرین انصاف کے حصول میں نمایاں رکاوٹوں کا سامنا کررہے ہیں اور ملکی قانونی طریقہ کار کے ذریعے تلافی کے امکانات محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی میں ایک اور مسجد شہید،سیتا پور میں مسجد پر بلڈوزر چلایا گیا

آسام میں مسلمانوں پر مظالم

پینل کو آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی ایک مستقل مہم کے شواہد ملے ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی شہریت کے معاملے میں امتیازی رویہ اپنایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں انہیں من مانے طور پر شہریت سے محروم کیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بے وطنی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی اور گھروں کو مسمار کرنے کی دستاویزات بھی موجود ہیں، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر ’ظلم و ستم‘ کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، مئی ۲۰۲۵ء اور جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان، روہنگیا پناہ گزینوں، مبینہ بنگلہ دیشی تارکینِ وطن اور ہندوستانی شہریوں سمیت کم از کم ۲۴۵۰ افراد کو آسام سے نکال دیا گیا۔ مزید برآں، رپورٹس بتاتی ہیں کہ ۲۰۱۶ سے اب تک ۱۷۶۰۰ سے زائد خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ پینل کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات، حقوق سے منظم انکار کے ساتھ مل کر، بین الاقوامی قانون کے تحت ’نظامی نسلی عصبیت‘ کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کی بیان بازی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور الزام لگایا گیا ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ”درانداز“ قرار دینا نسلی کشی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مرکز نے آزاد نیوز تخلیق کاروں کو بلاک کرنے کی اجازت دینےکیلئے آئی ٹی قوانین میں ترمیم کی تجویز پیش

اتر پردیش میں مسلمانوں کی صورتحال

اتر پردیش میں، پینل نے نام نہاد ”ہاف انکاؤنٹرز“ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا، جہاں مبینہ طور پر پولیس کی حراست میں افراد کو معذور کر دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر اس طرح کے اقدامات کسی وسیع یا منظم پالیسی کے حصے کے طور پر کئے جائیں تو یہ انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر ’تشدد‘ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں نفرت انگیز تقاریر، امتیازی پولیسنگ اور مسلم کمیونٹیز سمیت احتجاج میں شامل افراد یا گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے والی تادیبی مسماریوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ اس میں قومی سلامتی اور تبدیلیِ مذہب کے خلاف قوانین کے استعمال کو بھی نمایاں کیا گیا جس کی وجہ سے طویل حراستیں اور مذہبی آزادی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بریلی: مسلم نوجوان سے مارپیٹ، توہین اورغیر اسلامی نعرے لگوائے، کلیدی ملزم گرفتار

پینل نے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا

فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے پینل نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ وہ شواہد کے تحفظ اور جوابدہی کو یقینی بنانے کیلئے ایک آزاد حقائق تلاش کرنے والا مشن تشکیل دے۔ اس نے تیسرے فریق ممالک کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ عالمی دائرہ اختیار کی کارروائیوں اور مبینہ مجرموں کے خلاف ہدف شدہ پابندیوں پر غور کریں۔

مزید برآں، پینل نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں، یعنی شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے، نسل کشی کنونشن اور ’تحفظ کی ذمہ داری‘ (R2P) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ اس نے ہندوستانی سپریم کورٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ اقلیتی حقوق کو متاثر کرنے والے آئینی چیلنجوں پر سماعتوں میں تیزی لائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK