Updated: April 07, 2026, 11:18 AM IST
|
Agency
| Mumbai
جنگ بندی کی امیدوں اور شدت کے اندیشوں کےبیچ بازاروں میں بھی کنفیوژن، ریٹنگ ایجنسی نے متنبہ کیا کہ۱۰؍ڈالر فی بیرل کا اضافہ مہنگائی کو ۰ء۶؍ فیصد بڑھا دے گا۔
خام تیل۔ تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان بیان بازی کبھی جنگ بندی کی امیدوں کبھی حملوں میں شدت کے اندیشوں کے بیچ عالمی بازار بھی کنفیوژن کا شکار ہوگئے ہیں۔ اتوار کو ڈونالڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد کہ ایران نے اگر منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولا تو اس پر ’’جہنم کے دروازےکھول دیئے جائیں گے‘‘، پیر کو خام تیل کی قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران نے بھی سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دیاہے جس سے پورا خطہ متاثر ہوگا۔ دوسری جانب پیر کو خبریں آئیں کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے سامنے فوری جنگ کی تجاویز پیش کی ہیں، اگر طرفین راضی ہوگئے تو جنگ پیر کو ہی تھم سکتی ہے۔ اس خبر نے بازار میں امیدپیدا کردی ہے جس سے قیمتوں میں استحکام کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔
خام تیل مہنگا، ملک پر ۱۶؍ ہزار کروڑ کااضافی بوجھ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران کو جہنم بنا دینے کی دھمکی کے بعد ایران نے عالمی سپلائی بند کرنے کی بات کہی ہے۔اس کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں پیر کو پھر۱۱۰؍ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ پیر کو برینٹ کروڈ کے ایک بیرل کی قیمت ۱ء۷۱؍ ڈالر بڑھ کر۱۱۰ء۷۴؍ ڈالر تک پہنچ گئی۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو خام تیل کی قیمتیں۱۵۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر کا اضافہ پورے سال برقرار رہتا ہے تو ہندوستان کا سالانہ درآمدی بل تقریباً۱۶؍ہزار کروڑ روپے بڑھ جائے گا۔
مہنگائی میں اضافے کا اندیشہ
ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً۹۰؍ فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ ایران نے ہرمز روٹ کو تقریباً بند کر دیا ہے۔ دنیا کا تقریباً۲۰؍ فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس کے بند ہونے سے نہ صرف خام تیل بلکہ ایلومینیم، کھاد اور پلاسٹک کی قیمتوں میں بھی تیزی آ رہی ہے۔ کوٹک سیکورٹیز اور نوواما انسٹیٹیوشنل اِکویٹیز جیسے بڑے بروکریج اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہا تو خام تیل کی قیمت۱۱۰؍ سے ۱۵۰؍ ڈالر کے درمیان رہ سکتی ہے جبکہ بروکریج فرم میکوری کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے پر بھی قیمتیں۸۵؍ سے ۹۰؍ ڈالر سے نیچے نہیں آئیں گی۔
خام تیل مہنگا ہونے سےپیٹرول، ڈیزل اور سی این جی،پی این جی کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اس سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں اضافہ ہوگا جس کا براہ راست اثر پھل، سبزی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر پڑے گا۔ اس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہو سکتا ہے، جس سے درآمد مہنگی ہوگی اور غیر ملکی سامان خریدنا مہنگا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی بیرون ملک سفر اور تعلیم بھی زیادہ مہنگی ہو جائے گی۔ ریٹنگ ایجنسی کیئر ایج گلوبل کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں ہر۱۰؍ ڈالر فی بیرل اضافے سے ہندوستان میں خردہ مہنگائی ۶۰؍ بنیادی پوائنٹس(۰ء۶۰؍ فیصد) تک بڑھ سکتی ہے۔ ہندوستان اپنی تیل کی ضروریات کیلئے بڑی حد تک مغربی ایشیا پر منحصر ہے، ایسے میں وہاں کے حالات خراب ہونے سے ہندوستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، جی ڈی پی گروتھ اور روپے کی قدر پر بھی دباؤ بڑھے گا۔
اوپیک نے پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا
مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے سعودی عرب اور روس سمیت ۸؍ ممالک جنہیں’’ اوپیک پلس‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اتوار کو ایک ورچوئل میٹنگ کی۔ اس میں فیصلہ کیا گیا کہ مئی۲۰۲۶ء سے تیل کی پیداوار میں روزانہ۲ء۰۶؍ لاکھ بیرل کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ قدم گزشتہ سال اعلان کی گئی اضافی کٹوتی میں تبدیلی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پیداوار میں مزید تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔