• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈیوڈ وارنر نے آسٹریلیا کی کارکردگی کو ’شرمناک‘ قرار دے دیا

Updated: November 01, 2026, 7:15 PM IST | New Delhi

جنوبی افریقہ نے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو ۱۷۶؍ رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز ۱۔۲؍سے اپنے نام کرلی۔ کیپ ٹاؤن کے نیولینڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس مقابلے میں آسٹریلوی ٹیم ۲۸۸ ؍رنز کے ہدف کے تعاقب میں دوسری اننگز میں محض ۱۱۱ ؍رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

David Warner.Photo:INN
ڈیوڈ وارنر۔ تصویر:آئی این این

جنوبی افریقہ نے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو ۱۷۶؍ رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز ۱۔۲؍سے اپنے نام کرلی۔ کیپ ٹاؤن کے نیولینڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس مقابلے میں آسٹریلوی ٹیم ۲۸۸ ؍رنز کے ہدف کے تعاقب میں دوسری اننگز میں محض ۱۱۱ ؍رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ آسٹریلیا کی اس مایوس کن بیٹنگ کارکردگی پر سابق اوپنر ڈیوڈ وارنر نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’شرمناک‘ اور ’آسٹریلوی کرکٹ کی روایات کے منافی‘ قرار دیا۔ جنوبی افریقہ کی اس کامیابی کے ساتھ ہی اس نے عالمی ٹیسٹ درجہ بندی میں بھی آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ 
 آسٹریلیا کے سابق مایہ ناز اوپنر ڈیوڈ وارنر نے فیصلہ کن ٹیسٹ میں اپنی سابق ٹیم کی بیٹنگ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ فاکس اسپورٹس پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم نے کوئی مزاحمت نہیں دکھائی اور اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ وارنر کے مطابق بلے بازوں نے پوری سیریز میں گیند بازوں کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹیم کے سامنے ۲۸۸؍ رنز کا ہدف تھا اور سیریز جیتنے کا موقع موجود تھا، تو ایسے اہم مرحلے پر بلے بازوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹ رینشا نے پہلے ٹیسٹ میں جدوجہد اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، لیکن مجموعی طور پر آسٹریلوی بیٹنگ یونٹ نے توقعات کے مطابق کارکردگی پیش نہیں کی۔ وارنر نے آسٹریلوی ٹیم کے کھیلنے کے انداز پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ فیصلہ کن مقابلے میں اس طرح کی بے جان کارکردگی قابل قبول نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:زمان، منہاس اور بیگ کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی سیریز جیتی

آسٹریلیا کو فیصلہ کن ٹیسٹ کے آخری دن کامیابی کے لیے ۲۸۸؍ رنز درکار تھے، لیکن جنوبی افریقی فاسٹ بولر کگیسو ربادا نے پہلے ہی اوور میں دو اہم وکٹیں حاصل کرکے مہمان ٹیم کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ انہوں نے میٹ رینشا کو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ کیا، جبکہ مارنس لبوشین بھی ان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ اس کے بعد ربادا نے ٹریوس ہیڈ کو بھی پویلین بھیج دیا، جس سے آسٹریلیا کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ ربادا نے اسی دوران ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ۳۵۰ ؍وکٹوں کا سنگ میل بھی عبور کیا۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے تیز ترین گیند باز بن گئے، جس کے لیے انہیں صرف ۱۳؍ ہزار ۸۰۸ ؍گیندیں درکار ہوئیں۔ 
آسٹریلیا کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب کیمرون گرین نے جوش انگلس کو ایک خطرناک رن لینے کے لیے دوڑایا، لیکن انگلس وقت پر کریز تک نہیں پہنچ سکے اور رن آؤٹ ہوگئے۔ انگلس صرف ۴ رنز بنا سکے۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ کے اسپنر سائمن ہارمر نے آسٹریلوی بلے بازوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ ہارمر نے الیکس کیری اور کوپر کونولی سمیت اہم بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور آسٹریلیا کی نچلی ترتیب کو بھی تہس نہس کردیا۔ انہوں نے دوسری اننگز میں صرف ۱۶؍ رنز دے کر آخری چھ وکٹیں حاصل کیں۔ ہارمر نے میچ میں مجموعی طور پر ۱۲۰؍ رنز دے کر ۱۰؍ وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ٹیسٹ کریئر کی نمایاں ترین بولنگ کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے ناتھن  لائن ۳۳؍ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور پوری ٹیم میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ثابت ہوئے، جبکہ کپتان پیٹ کمنز نے ۱۱؍ رنز بنائے۔ بالآخر پوری آسٹریلوی ٹیم ۱۱۱؍ رنز پر آؤٹ ہوگئی اور جنوبی افریقہ نے ۱۷۶؍ رنز سے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرلی۔ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے میں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کرکے برتری حاصل کی تھی، لیکن جنوبی افریقہ نے دوسرے ٹیسٹ میں اننگز اور ۳۱ ؍رنز سے جیت درج کرکے سیریز برابر کردی۔ اس کے بعد کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلے میں بھی جنوبی افریقہ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز اپنے نام کرلی۔

یہ بھی پڑھئے:پرکاش راج کے سیاسی مؤقف سے خاندان بھی پریشان رہا، اہلیہ پونی ورما کا انکشاف

تیسرے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں ۳۲۹ ؍رنز بنائے، جس کے جواب میں آسٹریلیا نے ۴۲۹ ؍رنز اسکور کرکے ۱۰۰ ؍رنز کی برتری حاصل کی۔ تاہم جنوبی افریقہ نے دوسری اننگز میں شاندار واپسی کرتے ہوئے ۳۸۷ ؍رنز بنائے اور آسٹریلیا کو جیت کے لیے ۲۸۸ ؍رنز کا ہدف دیا۔ جنوبی افریقہ کے ویان مولڈر نے ۱۱۵ ؍اور ریان ریکلٹن نے ۱۰۱ ؍رنز کی اہم اننگز کھیلیں۔ ان دونوں کی سنچریوں نے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 
 آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں  ۱۔۲؍ سے کامیابی کے بعد جنوبی افریقہ نے عالمی ٹیسٹ ٹیموں کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے، جبکہ آسٹریلیا اپنی سابقہ برتری سے محروم ہوگیا۔ جنوبی افریقہ کے لیے یہ کامیابی اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد مسلسل دو مقابلے جیت کر سیریز اپنے نام کی۔ جنوبی افریقہ کے مارکو جینسن کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ انہوں نے سیریز میں ۱۹۸؍ رنز بنانے کے ساتھ ۱۳ ؍وکٹیں بھی حاصل کیں۔ فیصلہ کن ٹیسٹ میں سائمن ہارمر کی شاندار بولنگ نے بھی جنوبی افریقہ کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔  آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے شکست کے بعد اعتراف کیا کہ آخری ٹیسٹ کے پہلے گھنٹے میں ہی ان کی ٹیم مقابلے سے باہر ہوگئی تھی۔ ان کے مطابق ٹیم نے کامیابی کے لیے خود کو مناسب موقع نہیں دیا اور اہم لمحات میں غلط فیصلے کیے۔ کمنز نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں اس کی سرزمین پر کھیلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، لیکن آسٹریلیا اس یقین کے ساتھ آیا تھا کہ وہ سیریز جیت سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم اپنی کارکردگی کا اندرونی طور پر جائزہ لے گی اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ مستقبل میں کھیلنے کے انداز یا کھلاڑیوں کے انتخاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK