Updated: July 11, 2026, 9:13 PM IST
| Guyana
سینٹنر نے ڈفی کے بارے میں کہا کہ ہم نے گزشتہ چند برسوں میں دیکھا ہے کہ وہ کتنے اچھے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے ملے مواقع کا اچھا استعمال کیا ہے، لیکن اب وہ اس گیند بازی یونٹ کے اہم کھلاڑی ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ نوجوان کھلاڑی بھی ہیں، اس لیے وہ یہاں اہم رول ادا کریں گے۔
نیوزی لینڈ ٹیم کے کپتان مچل سینٹنر نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں تیز گیند بازی کی کمان جیکب ڈفی سنبھالیں گے۔ ڈفی جو، والد بننے کی چُھٹی پر ہونے کے سبب نیوزی لینڈ کے حالیہ انگلینڈ ٹیسٹ دورے پر نہیں جا سکے تھے، اب پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں واپس آرہے ہیں۔ میٹ ہنری، ول او رورکے اور کائل جیمیسن کو ریڈ بال کرکٹ میں زیادہ کام کے بعد آرام دیا گیا ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں ڈفی تیز گیند بازی اٹیک میں سب سے تجربہ کار گیند باز بن گئے ہیں؛ اس اٹیک میں ناتھن اسمتھ، کرسٹین کلارک، ان کیپڈ میٹ فشر اور بین لسٹر بھی شامل ہیں (لسٹر کو بین سیئرز کی جگہ ٹیم میں بلایا گیا تھا)۔
پروویڈنس میں پہلے ون ڈے سے عین قبل سینٹنر نے ڈفی کے بارے میں کہا کہ ’’ہم نے گزشتہ چند برسوں میں دیکھا ہے کہ وہ کتنے اچھے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے ملے مواقع کا اچھا استعمال کیا ہے، لیکن اب وہ اس گیند بازی یونٹ کے اہم کھلاڑی ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ نوجوان کھلاڑی بھی ہیں، اس لیے وہ یہاں اہم رول ادا کریں گے۔ گھر پر کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں۔ ہمارے پاس کم وقت میں پانچ میچ ہیں اور اس میں گیند بازوں کے ورک لوڈ کو مینج کرنا اور میچ کے بعد ان کی ریکوری دیکھنا بھی شامل ہوگا۔ یہاں موسم گرم اور حبس بھرا ہو سکتا ہے، جس سے کافی تھکن ہو سکتی ہے، اس لیے یہ پوری ٹیم کی کوشش ہوگی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ہالینڈ مجھ سے بالکل مختلف طرز کے کھلاڑی ہیں: ہیری کین
ڈفی کامیاب آئی پی ایل مہم کے بعد کیریبین پہنچے ہیں، جہاں وہ رائل چیلنجرز بنگلورو کی خطاب فاتح ٹیم کا حصہ تھے۔ اگرچہ ان کا آخری ون ڈے نومبر ۲۰۲۵ءمیں ہیملٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا، لیکن اس فارمیٹ میں ان کا ریکارڈ شاندار رہا ہے - انہوں نے ۱۹؍ میچوں میں ۲۵ء۲۴؍ کی اوسط اور ۹۰ء۵؍کی اکانومی ریٹ سے ۳۵؍وکٹ لیے ہیں۔ اب وہ نسبتاً ناتجربہ کار پیس اٹیک کی قیادت کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گے، کیونکہ نیوزی لینڈ بنگلہ دیش میں ۱۔۲؍ سے سیریز ہارنے کے بعد واپسی کرنا چاہتا ہے۔ سینٹنر نے کہا کہ ’’کچھ کھلاڑیوں کے زخمی ہونے اور دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے، ہم اپنی ٹیم کی گہرائی دکھائیں گے اور یہاں موجود گروپ کے تعلق سے پرجوش ہیں۔ سیم اور اسپن کے ساتھ ساتھ بلے بازی میں بھی ہمارے پاس اچھے متبادل ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک چیلنج ہے۔ ویسٹ انڈیز اپنی گھریلو زمین پر بہت اچھا کھیلتی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ یہاں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’دھمال ۴‘‘ کی باکس آفس پر اچھی شروعات، مگر ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ سے پیچھے
انہوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ ہر ٹیم کے لیے، جب آپ گھر سے دور ہوتے ہیں، تو یہ ہمیشہ ایک چیلنج ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز ایک شاندار جگہ ہے۔ حالات بدل سکتے ہیں اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم سامنے آنے والی صورتحال کے حساب سے تیزی سے ڈھل جاتے ہیں۔ اس سیریز میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ گیانا میں پچ عام طور پر کچھ سست ہو سکتی ہے، لیکن لائٹس کا اثر مختلف ہو سکتا ہے اور باربڈوس کی صورتحال تو بالکل ہی مختلف ہوگی۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم سامنے آنے والی صورتحال کے حساب سے تیزی سے ڈھل جاتے ہیں۔ ہم ایک بار میں ایک ہی میچ پر توجہ دیتے ہیں۔‘‘