ہندوستان میں فٹبال کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے، اس کے باوجود ملک آج بھی معیاری اور مخصوص فٹبال اسٹیڈیمز کی شدید کمی کا شکار ہے۔ ملک بھر میں موجود ۷۵؍سے زائد بڑے میدان ملٹی پرپز ہیں۔
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 8:56 PM IST | New Delhi
ہندوستان میں فٹبال کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے، اس کے باوجود ملک آج بھی معیاری اور مخصوص فٹبال اسٹیڈیمز کی شدید کمی کا شکار ہے۔ ملک بھر میں موجود ۷۵؍سے زائد بڑے میدان ملٹی پرپز ہیں۔
ہندوستان میں فٹبال کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے، اس کے باوجود ملک آج بھی معیاری اور مخصوص فٹبال اسٹیڈیمز کی شدید کمی کا شکار ہے۔ ملک بھر میں موجود ۷۵؍سے زائد بڑے میدان ملٹی پرپز ہیں، جہاں فٹبال کے علاوہ کرکٹ، ایتھلیٹکس اور دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’دیورا‘‘، ’’کرتویہ‘‘ اپنی حدوں کو نہیں چھو سکیں: سیف علی خان کا اعتراف
ماہرین کے مطابق فٹبال کے لیے مخصوص انفراسٹرکچر کی کمی، نچلی سطح پر کھلاڑیوں کی مناسب تربیت کا فقدان، جدید سہولیات کی کمی اور کھیل میں محدود سرمایہ کاری بھارت کے عالمی سطح پر پیچھے رہنے کی اہم وجوہات ہیں۔فٹبال کے لیے مخصوص اسٹیڈیم نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف کھلاڑیوں کو معیاری سہولیات میسر نہیں آتیں بلکہ بین الاقوامی معیار کے مقابلوں کی میزبانی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
کھیل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان کو عالمی فٹبال میں نمایاں مقام حاصل کرنا ہے تو جدید فٹبال اسٹیڈیمزکی تعمیر، گراس روٹ سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش، کوچنگ کے نظام میں بہتری اور نوجوان کھلاڑیوں پر طویل مدتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔اسی صورت میں ہندوستان مستقبل میں ایشیائی اور عالمی فٹبال میں ایک مضبوط حریف کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انگلینڈ نے ہندوستان کو ۹؍ وکٹ سے شکست دی، سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل
ہر صحت مند معیشت کی ریڑھ اس کا مڈل کلاس اور اس کے ایم ایس ایم ایز ہوتے ہیں، لیکن ہندوستان کی کھیلوں کی معیشت میں ایسی کوئی مضبوط بنیاد موجود نہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار کا فرق نہیں، بلکہ اس کے پیچھے حقیقی انسانوں کی کہانیاں ہیں۔ ہندوستان فٹبال کے عظیم کھلاڑی بائچنگ بھوٹیا نے ایک بار بتایا تھا کہ شمال مشرقی ہندوستان میں ہر سیزن بے شمار ۱۵؍ سالہ بچے کھیل چھوڑ دیتے ہیں۔ وجہ ان میں صلاحیت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ اگلے ٹرائل تک پہنچنے کے لیے بس کا کرایہ اور فٹبال کے جوتوں کا خرچ بھی ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ خام صلاحیت تو سامنے آ جاتی ہے، مگر اسے سنوارنے والا نظام نہیں ملتا اور پھر وہی نوجوان خاموشی سے کسی شہر کے ڈھابے میں میزیں صاف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ کھلاڑیوں کی کمی نہیں، بلکہ ان اداروں کی کمی ہے جو ایک باصلاحیت کھلاڑی کو ایک کامیاب پیشہ ورانہ کریئر میں تبدیل کر سکیں۔