ہندوستانی خواتین فٹ بال ٹیم، جسےبلیو ٹائیگریس بھی کہا جاتا ہے، کرسپن چھیتری کی قیادت میں کینیا میں منعقد ہونے والی فیفا سیریز ۲۰۲۶ء کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi
ہندوستانی خواتین فٹ بال ٹیم، جسےبلیو ٹائیگریس بھی کہا جاتا ہے، کرسپن چھیتری کی قیادت میں کینیا میں منعقد ہونے والی فیفا سیریز ۲۰۲۶ء کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔
ہندوستانی خواتین فٹ بال ٹیم، جسےبلیو ٹائیگریس بھی کہا جاتا ہے، کرسپن چھیتری کی قیادت میں کینیا میں منعقد ہونے والی فیفا سیریز ۲۰۲۶ء کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔ ۱۱؍سے ۱۵؍ اپریل تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ کے تمام میچز نیروبی کے تاریخی نیائیو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
اس ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر چار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔فیفا رینکنگ کے مطابق آسٹریلیا (۱۵؍ویں نمبر) اس ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیم ہے، جبکہ ہندوستان ۶۷؍ویں نمبر کے ساتھ دوسری بہترین رینکنگ رکھتا ہے۔ کینیا اور ملاوی بالترتیب ۱۳۴؍ویں اور ۱۵۳؍ویں پوزیشن پر ہیں۔ ۲۰۲۴ءمیں شروع کی گئی فیفا سیریز کا بنیادی مقصد مختلف کنفیڈریشنز کی ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے کا موقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ روایتی علاقائی ٹورنامنٹس سے ہٹ کر بین الاقوامی سطح کا تجربہ حاصل کر سکیں۔کوسٹا ریکا کی منیجر امیلیا والورڈے کی نگرانی میں ایشین کپ کے گروپ اسٹیج سے باہر ہونے کے بعد، یہ کرسپن چھتری کا بطور ہیڈ کوچ پہلا بڑا امتحان ہوگا۔
سنیچر کو آسٹریلیا اور ملاوی کے درمیان پہلا سیمی فائنل ہوگا، جس کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچے گی، جبکہ ہارنے والی ٹیم تیسری پوزیشن کے لیے مقابلہ کرے گی۔ اگر کوئی میچ برابر ہوتا ہے تو اس کا فیصلہ براہِ راست پینالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے کیا جائے گا، اضافی وقت نہیں دیا جائے گا۔ ہندوستان کیلئے یہ ٹورنامنٹ نہ صرف ایک چیلنج ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا سنہری موقع بھی ہے۔
Sibani on fire 🔥 #U20WAC #YoungTigresses #TPEvIND pic.twitter.com/KC19T9tw6T
— Indian Football (@IndianFootball) April 10, 2026
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶:ء متحدہ عرب امارات کے تین میچ آفیشلز کا تاریخی انتخاب
فیفا نے رواں برس امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے یو اے ای سے تعلق رکھنے والے تین میچ آفیشلز کو منتخب کر لیا ہے۔عالمی کپ میں اماراتی پرچم کی نمائندگی کرنے والے تینوں ماہرین اپنے شعبے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عمر محمد العلی: بطور ریفری (یفری)،محمد الحمادی: بطور اسسٹنٹ ریفری اورمحمد عبید خادم: بطور ویڈیو میچ آفیشل ۔
یہ بھی پڑھئے:اسٹیج سے سمن تک: وہ وقت جب مزاح نے ہندوستانی کامیڈینز کو عدالت تک پہنچا دیا
فیفا نے اس ورلڈ کپ کے لیے مجموعی طور پر۵۲؍ ریفریز، ۸۸؍ اسسٹنٹ ریفریز اور ۳۰؍ ویڈیو آفیشلز کا انتخاب کیا ہے۔ ۱۱؍ جون سے شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں ۴۸؍ ٹیمیں حصہ لیں گی اور مجموعی طور پر۱۰۴؍ میچز کھیلے جائیں گے، جو کہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا فارمیٹ ہے۔فیفا ریفری کمیٹی کے چیئرمین پیئر لوئیگی کولینا نے انتخاب کے حوالے سے بتایا کہ تمام آفیشلز کا انتخاب ’’کوالٹی فرسٹ‘‘ کے اصول کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:لکھنؤ کی نئی ’’سکسر مشین‘‘: مکل چودھری کی روزانہ ۱۵۰؍ چھکوں کی سخت ریاضت
گزشتہ تین سالوں سے ان کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔منتخب آفیشلز ۳۱؍ مئی کو میامی پہنچیں گے، جہاں ان کی جسمانی اور ذہنی فٹنس کا حتمی جائزہ لیا جائے گا۔اماراتی آفیشلز کی عالمی کپ میں نمائندگی کی تاریخ کافی پرانی ہے۔علی بوجسیم یو اے ای کے پہلے ریفری تھے جنہوں نے ۱۹۹۴ء، ۱۹۹۸ء اور ۲۰۰۲ء کے مسلسل تین ورلڈ کپ مقابلوں میں ریفرینگ کے فرائض انجام دیے۔