Updated: September 04, 2026, 9:06 PM IST
| Zurich
عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا اور یورپی فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم یوئیفا کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ فیفا نے امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک قانونی درخواست میں یوئیفا پر الزام لگایا ہے کہ وہ فیفا اور اس کے صدر جیانی انفانٹینو کو بدنام کرنے کے لیے ’’کردار کشی کی مہم‘‘ چلا رہی ہے۔
جیانی انفاننٹیو۔تصویر:ایکس
عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا اور یورپی فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم یوئیفا کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ فیفا نے امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک قانونی درخواست میں یوئیفا پر الزام لگایا ہے کہ وہ فیفا اور اس کے صدر جیانی انفانٹینو کو بدنام کرنے کے لیے ’’کردار کشی کی مہم‘‘ چلا رہی ہے۔ فیفا کا یہ سخت ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوئیفا انفینٹینو کے ایک متنازع تجارتی منصوبے سے متعلق دستاویزات اور شواہد حاصل کرنے کے لیے امریکی عدالتوں سے رجوع کر چکی ہے۔
دونوں عالمی فٹبال اداروں کے درمیان موجودہ تنازع کی جڑفیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای ) نامی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کی جانب سے اپنے عالمی مقابلوں، خصوصاً مردوں اور خواتین کے ورلڈ کپ سے وابستہ تجارتی حقوق میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ دینے کی تجویز سامنے آئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:اسمرتی مندھانا کی ریکارڈ سنچری اننگز سے ہندوستان ناک آؤٹ میں
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً ۴ء۲؍ ارب امریکی ڈالر حاصل کرنے کا ہدف تھا، جبکہ نجی سرمایہ کاروں کو مجوزہ کمپنی میں تقریباً ۲۰؍فیصد حصص دینے کی بات سامنے آئی تھی۔ اس منصوبے کو فیفا کے اندر اور باہر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً یوئیفا اور دیگر علاقائی فٹبال کنفیڈریشنز نے اس پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ یوئیفا کا مؤقف تھا کہ اتنے بڑے مالی اور انتظامی منصوبے کو فیفا کے گورننگ اداروں اور اس کی ۲۱۱؍ رکن ایسوسی ایشنز سے مناسب مشاورت کے بغیر آگے بڑھایا گیا۔ شدید مخالفت کے بعد فیفا نے یہ منصوبہ ۳۱؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو واپس لے لیا، جبکہ بعض رپورٹس میں اس کی واپسی کی حتمی کارروائی اگست کے آغاز سے بھی منسلک کی گئی ہے۔
منصوبہ واپس لیے جانے کے باوجود تنازع ختم نہیں ہوا۔ یوئیفا نے گزشتہ ہفتے امریکی عدالت میں درخواست دائر کرکے امریکہ میں موجود متعلقہ اداروں اور افراد سے دستاویزات، شواہد اور بیانات حاصل کرنے کی اجازت طلب کی۔ یوئیفا کا کہنا ہے کہ یہ معلومات ممکنہ طور پر سوئزرلینڈ میں جیانی انفانٹینو اور دیگر فیفا عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ یوئیفا اس معاملے میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات آگے بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔
یوئیفا کی جانب سے امریکی عدالتوں میں دائر درخواستوں میں سرمایہ کاری کے منصوبے سے متعلق مختلف فریقوں، سرمایہ کاروں اور مالی اداروں سے وابستہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں امریکی سرمایہ کار جوشوا کشنر اور ان کی سرمایہ کاری فرم تھریو کیپٹل سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ یوئیفا کی قانونی کارروائی پر فیفا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں فیفا نے مؤقف اختیار کیا کہ یوئیفا کی قانونی درخواستیں بظاہر عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا مقصد فیفا اور اس کی قیادت کے خلاف عوامی سطح پر منفی تاثر پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے سَیف علی خان سے اپنے خاندانی رشتے کا انکشاف کیا
فیفا نے یوئیفا کی کارروائی کو ’’اسمئرکمپین‘‘ یعنی کردار کشی یا بدنام کرنے کی مہم قرار دیتے ہوئے عدالت سے یوئیفا کی درخواست کو مسترد یا اس پر فیصلہ مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے۔ فیفا نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ یوئیفا جس ممکنہ سوئس فوجداری کارروائی کے لیے معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے، اس سلسلے میں ابھی کوئی باقاعدہ مقدمہ موجود نہیں ہے۔اس تنازع نے جیانی انفانٹینو پر سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ انفینٹینو مارچ ۲۰۲۷ء میں فیفا صدر کے طور پر چوتھی مدت کے لیے دوبارہ انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، تاہم متنازع سرمایہ کاری منصوبے کے بعد ان کی حمایت میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔