Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈکپ: برازیل کو ونیشیئس کی شکل میں اپنا لیڈر مل گیا

Updated: June 26, 2026, 9:03 PM IST | New York

ونیشیئس جونیئر شمالی امریکہ (ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء) میں اسی پختہ عزم اور مقصد کے ساتھ پہنچے ہیں جو ان کے پورے کریئر کی منفرد خوبی رہی ہے ۔

Vinicius Junior.Photo:X
ونی جونیئر۔ تصویر:ایکس

 ونیشیئس جونیئر شمالی امریکہ (ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء) میں اسی پختہ عزم اور مقصد کے ساتھ پہنچے ہیں جو ان کے پورے کریئر کی منفرد خوبی رہی ہے ۔ تاہم، یہاں انہوں نے کلب کے خطابات، انفرادی اعزازات اور یہاں تک کہ اپنے گول کی تعداد کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس ۲۵؍ سالہ اسٹار فارورڈ کے ذہن میں صرف ایک ہی چیز ہے، اور وہ ہے وہ انعام جسے وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں یعنی فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی۔

یہ بھی پڑھئے:سنی دیول اور اکشے کھنہ کا ’اکّا‘ میں ایک ساتھ آنا، واقعی خدا کا منصوبہ ہے: سِدھارتھ


گروپ اسٹیج کے تین میچوں کے بعد، برازیل گروپ سی  کے فاتح کے طور پر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور ونیشیئس جونیئر اس مہم کا سب سے بڑا چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ ان کے شاندار چار گولز نے انہیں لیونل میسی، کیلین ایمباپے اور ارلنگ ہالینڈ کے ساتھ گولڈن بوٹ  کی دوڑ میں شامل کر دیا ہے، لیکن ان کی ترجیحات اب بھی نہیں بدلیں۔  ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ونیشیئس نے نامہ نگاروں سے کہا تھا’’مجھے انفرادی ایوارڈز کی کوئی پرواہ نہیں ہے، میں یہاں ایم وی پی  بننے نہیں آیا۔ میں یہاں برازیل کو چھٹا ورلڈ کپ جتوانے میں مدد کرنے آیا ہوں۔‘‘
ان کی کارکردگی نے ان کے الفاظ کو سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ ونیشیئس نے گروپ مرحلے کے ہر میچ میں گول اسکور کیا، اپنی تیز رفتاری اور شاندار ڈربلنگ سے حریف ڈیفنڈرز کو پریشان کیے رکھا اور مشکل لمحات میں برازیل کے حملوں کی قیادت کی۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے وہ کردار اپنے نام کر لیا ہے جو طویل عرصے تک نیمار کا ہوا کرتا تھا، یعنی وہ کھلاڑی جس سے اب ساتھی کھلاڑی اور شائقین ہر میچ میں فرق پیدا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
 یہ ذمہ داری راتوں رات ان کے کندھوں پر نہیں آئی۔ ونیشیئس ۲۰۲۶ء کے اس ٹورنامنٹ میں پچھلی ناکامیوں سے سیکھ کر پہنچے ہیں۔ وہ  ۲۰۲۲ء  کے ورلڈ کپ میں کروشیا کے ہاتھوں پنالٹی پر شکست کھانے والی برازیلی ٹیم کا حصہ تھے، اور اس ہار نے فٹ بال کے اس سب سے بڑے اسٹیج پر ان کے نقطۂ نظر کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ورلڈ کپ کسی بھی دوسرے ٹورنامنٹ سے بالکل مختلف ہے، اور گزشتہ ورلڈ کپ نے مجھے سکھایا کہ ہمیں میچ کے آخری منٹ تک پوری طرح تیار رہنا ہوگا۔ ہمیں چیزیں مختلف انداز میں کرنی ہوں گی، ہم نے اس ہار سے سبق سیکھا ہے۔‘‘
یہ ٹورنامنٹ ان کے کریئر کے بہترین موڑ پر آیا ہے۔ اب کلب (ریال میڈرڈ) اور ملک دونوں کے لیے ایک اہم ترین کھلاڑی بن چکے ونیشیئس کا ماننا ہے کہ وہ چار سال پہلے کے مقابلے میں اب ورلڈ کپ کے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا’’میں نے پچھلے ورلڈ کپ کے مقابلے اب زیادہ میچز کھیلے ہیں اور میرے پاس زیادہ تجربہ ہے، میں یہاں ایک بہترین ٹورنامنٹ کھیلنے آیا ہوں۔‘‘  ونیشیئس نے کہاکہ ’’انسیلوٹی کی نگرانی میں کھیلنا خاص ہے کیونکہ وہ مجھے وہ کرنے کی آزادی دیتے ہیں جو میں سب سے بہتر کر سکتا ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ : پیپے نے ٹیم ورک کو کامیابی کا راز قرار دیا


انہوں نے مزید کہاکہ ’’میں صرف گول کرنے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ اچھا کھیلنے کی بات کر رہا ہوں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کتنے گول اسکور کرتا ہوں؛ جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے، وہ ٹیم ہے۔‘‘دوسری طرف، انسیلوٹی بھی اسی طرح برازیل کے وسیع تر ہدف پر توجہ مرکوز رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ہیڈ کوچ نے کہا ’’وہ بہترین فارم اور فٹنیس کے ساتھ ورلڈ کپ میں پہنچے ہیں،( لیکن) ہم یہ امید نہیں کر رہے کہ یہ ونیشیئس کا ورلڈ کپ ہوگا، بلکہ ہم یہ امید کر رہے ہیں کہ یہ برازیل کا ورلڈ کپ ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK