انگلش فٹبال کلب شیفیلڈ یونائیٹڈ (Sheffield United) کے بنگلہ دیشی اسٹار فٹبالر حمزہ چودھری نے جنگ سے متاثرہ فلسطین کے علاقے غزہ کے بچوں کی مدد کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کرکے انسانی ہمدردی کی ایک قابلِ ذکر مثال قائم کی ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 4:14 PM IST | London
انگلش فٹبال کلب شیفیلڈ یونائیٹڈ (Sheffield United) کے بنگلہ دیشی اسٹار فٹبالر حمزہ چودھری نے جنگ سے متاثرہ فلسطین کے علاقے غزہ کے بچوں کی مدد کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کرکے انسانی ہمدردی کی ایک قابلِ ذکر مثال قائم کی ہے۔
انگلش فٹبال کلب شیفیلڈ یونائیٹڈ (Sheffield United) کے بنگلہ دیشی اسٹار فٹبالر حمزہ چودھری نے جنگ سے متاثرہ فلسطین کے علاقے غزہ کے بچوں کی مدد کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کرکے انسانی ہمدردی کی ایک قابلِ ذکر مثال قائم کی ہے۔ جمع کی گئی یہ رقم تقریباً ایک لاکھ ۳۰؍ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے، جسے غزہ کے ایسے بچوں کی طبی امداد، علاج اور محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے استعمال کیا جائے گا جو جنگ کے باعث شدید مشکلات اور طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کی قومی فٹبال ٹیم کے مڈفیلڈر حمزہ چودھری نے ۲۸؍ اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام کے ذریعے اس کامیاب فنڈ ریزنگ مہم کی اطلاع دی۔ انہوں نے اس مہم میں تعاون کرنے والے تمام افراد، عطیہ دینے والوں اور تقریب میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ حمزہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ الحمدللہ، ہم غزہ کے بچوں کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
یہ فنڈ ریزنگ مہم برطانیہ میں مسلم کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم نُجوم اسپورٹس (Nujum Sports) کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی۔ اس مہم کا بنیادی مقصد غزہ کے جنگ زدہ بچوں کو ضروری طبی سہولتیں فراہم کرنا اور ایسے بچوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کرنے میں مدد دینا ہے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔اس مہم کے ذریعے جمع ہونے والی رقم چلڈرن ناٹ نمبرز نامی تنظیم کے کاموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ تنظیم غزہ کے متاثرہ بچوں کو ضروری انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ان بچوں کی مدد کرتی ہے جنہیں سنگین بیماریوں اور جنگ کے دوران زخمی ہونے کے باعث فوری علاج کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نادرہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں، مگر گھر کے معاشی حالات نے انہیں اداکارہ بنا دیا
حمزہ چودھری کے مطابق غزہ کے کئی بچوں کے لیے بہتر طبی علاج کی غرض سے انہیں محفوظ مقامات یا غزہ سے باہر منتقل کرنا زندگی بچانے کا واحد راستہ ہوسکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت جمع ہونے والی رقم طبی انخلا اور علاج کی سہولتوں پر خرچ کی جائے گی۔اس فنڈ ریزنگ مہم کے تحت لندن کے علاقے وائٹ چیپل میں واقع ٹاور ہیملیٹس ٹاؤن ہال میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس میں حمزہ چودھری کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کے پروگرام کے علاوہ معروف مسلم کھلاڑیوں سے متعلق کھیلوں کی یادگار اشیا کی خیراتی نیلامی بھی کی گئی۔
نیلامی میں حمزہ چودھری کی لیسٹر سٹی کے لیے ایف اے کپ جیتنے کے دور کی جرسی ۷؍ ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئی، جبکہ ان کا کمیونٹی شیلڈ میڈل ۳؍ ہزار پاؤنڈ میں نیلام ہوا۔ اس کے علاوہ تقریب کے ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر عطیات سے بھی غزہ کے بچوں کے لیے رقم جمع کی گئی۔ حمزہ نے خصوصی طور پر نُجوم اسپورٹس کے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تنظیم نے ان کے انسانی ہمدردی کے منصوبے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل محنت کی۔ انہوں نے ان تمام لوگوں کی بھی ستائش کی جنہوں نے اس مہم میں مالی تعاون کیا اور اسے کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
بنگلہ دیشی فٹبالر نے اس موقع پر کہا کہ غزہ کے لوگوں کو جس بڑے انسانی بحران اور تکلیف کا سامنا ہے، اس کے مقابلے میں جمع کی گئی رقم ایک چھوٹی سی کوشش ہے، تاہم ان کے نزدیک ہر چھوٹا قدم بھی کسی کی زندگی میں تبدیلی لاسکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے متاثرہ بچوں کی مدد کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ حمزہ نے فلسطین کے عوام کے لیے دعا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات اور تکالیف دور کرے اور انہیں مستقل امن نصیب ہو۔حمزہ چودھری انگلینڈ میں پیدا ہونے والے پیشہ ور فٹبالر ہیں۔ ان کی والدہ بنگلہ دیشی جبکہ والد کا تعلق گریناڈا سے ہے۔ وہ اپنے فٹبال کریئر کے دوران لیسٹر سٹی کی نمائندگی کرچکے ہیں اور اس کلب کے ساتھ ۲۰۲۱ء میں ایف اے کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ بھی تھے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصورعباس سے ملاقات
حمزہ نے ابتدائی طور پر انگلینڈ کی انڈر ۲۱؍ قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی اور اس کے لیے سات بین الاقوامی میچ کھیلے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے بنگلہ دیش کی قومی ٹیم کی نمائندگی کا فیصلہ کیا۔ دسمبر ۲۰۲۴ء میں فیفا نے انہیں بنگلہ دیش کی جانب سے کھیلنے کی منظوری دی تھی۔ وہ اس وقت انگلش کلب شیفیلڈ یونائیٹڈ کے لیے کھیل رہے ہیں اور مڈفیلڈر کے علاوہ رائٹ بیک کی پوزیشن پر بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حمزہ چودھری کی یہ مہم اس بات کی مثال ہے کہ کھیلوں سے وابستہ معروف شخصیات اپنے اثر و رسوخ اور مقبولیت کو میدان سے باہر بھی ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔ غزہ کے بچوں کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم جمع کرکے انہوں نے نہ صرف انسانی ہمدردی کا پیغام دیا ہے بلکہ جنگ سے متاثرہ معصوم بچوں کے علاج اور زندگی بچانے کی کوششوں میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔