Updated: March 19, 2026, 10:35 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک سول کیس دائر کیا ہے، جس میں ڈجیٹل نقل، اے آئی سے بنے ڈیپ فیک اور بغیر اجازت ان کی آواز اور چہرے کے استعمال کے ذریعے چلائی جا رہی مہمات کے خلاف اپنے شخصی حقوق کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
گوتم گمبھیر۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک سول کیس دائر کیا ہے، جس میں ڈجیٹل نقل، اے آئی سے بنے ڈیپ فیک اور بغیر اجازت ان کی آواز اور چہرے کے استعمال کے ذریعے چلائی جا رہی مہمات کے خلاف اپنے شخصی حقوق کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
۲۰۲۵ء کے آخر سے گوتم گمبھیر کی قانونی ٹیم نے انسٹاگرام، ایکس، یوٹیوب اور فیس بک پر جعلی ڈجیٹل مواد میں تیزی اور تشویشناک اضافہ دیکھا۔ کئی اکاؤنٹس نے اصلی ویڈیوز بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت، فیس سویپنگ اور وائس کلوننگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، جن میں گمبھیر کو ایسے بیانات دیتے ہوئے غلط طریقے سے دکھایا گیا جو انہوں نے کبھی دیے ہی نہیں۔ اس میں ایک جعلی استعفیٰ کا اعلان بھی شامل تھا، جسے ۲۹؍ لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا۔ ایک جعلی کلپ جس میں انہیں سینئر کرکٹرز کے ورلڈ کپ میں شرکت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، اسے ۱۷؍ لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا۔
سوشل میڈیا کے علاوہ، بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز بھی بغیر کسی اجازت کے ان کے نام اور تصویر والے پوسٹرز کے ذریعے سامان فروخت کر رہے تھے۔یہ مقدمہ ۱۶؍ مدعا علیہان کے خلاف دائر کیا گیا ہے، جن میں کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس جیسے جینکی فریمز، بھوپیندر پینٹولا، لیجنڈز ریوولیوشن وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ای کامرس پلیٹ فارمز میں امیزون اور فلپ کارٹ کا نام شامل ہے جبکہ ٹیک کمپنیوں میں میٹا پلیٹ فارمز، ایکس، گوگل، یوٹیوب وغیرہ شامل ہیں۔ ساتھ ہی آئی ٹی وزارت اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو کسی بھی عدالتی حکم کو نافذ کرنے میں معاونت کے لیے فریق بنائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:یو سی ایل: لیورپول کوارٹر فائنل میں داخل، نیو کیسل اور اسپرز ٹورنامنٹ سے باہر
یہ مقدمہ کاپی رائٹ ایکٹ ۱۹۵۷ء، ٹریڈ مارکس ایکٹ ۱۹۹۹ء اور کمرشیل کورٹس ایکٹ ۲۰۱۵ء کے تحت دائر کیا گیا ہے اور دہلی ہائی کورٹ کے مضبوط عدالتی نظام پر مبنی ہےان میں امیتابھ بچن بمقابلہ رجت ناگی، انیل کپور بمقابلہ سمپلی لائف انڈیا، اور حالیہ سنیل گاوسکر بمقابلہ کرکٹ تک و دیگر کے اہم فیصلے شامل ہیں، جو پرسنالٹی رائٹس کو اے آئی کے ذریعے ہونے والے استحصال تک قابلِ نفاذ ملکیت کے حق کے طور پر مضبوطی سے قائم کرتے ہیں۔
گمبھیر نے ۵ء۲؍کروڑ روپے ہرجانے، تمام اکاؤنٹس کو ہٹانے، مستقل پابندی لگانے اور تمام خلاف ورزی کرنے والے مواد کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ مستقبل میں ان کے نام، چہرے اور آواز کا استعمال نہ کیا جائے۔ اس معاملے میں انہوں نے عدالت سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پناہ کی درخواستیں واپس لینے والی ایرانی فٹبالرس وطن پہنچ گئیں
گوتم گمبھیر نے کہاکہ ’’میری شناخت، میرا نام، میرا چہرہ، میری آواز کو گمنام اکاؤنٹس نے غلط معلومات پھیلانے اور میرے خرچ پر آمدنی کمانے کے لیے ہتھیار بنایا ہے۔ یہ کسی ذاتی چوٹ کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ قانون، عزت اور اس تحفظ کا معاملہ ہے جس کا ہر عوامی شخصیت مصنوعی ذہانت کے دور میں حقدار ہے۔‘‘