Inquilab Logo Happiest Places to Work

گاوسکر نے آئی پی ایل سے نام واپس لینے والوں کے لیے مزید سخت قوانین کا مطالبہ کیا

Updated: March 29, 2026, 10:33 PM IST | Mumbai

لیجنڈ ہندوستانی کرکٹر سنیل گاوسکر نے آئی پی ایل میں آخری وقت پر نام واپس لینے والے کھلاڑیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی ) سے موجودہ سزا کے نظام پر دوبارہ غور کرنے کو کہا ہے۔

Sunil Gavaskar.Photo:INN
سنیل گاوسکر۔ تصویر:آئی این این

لیجنڈ ہندوستانی کرکٹر سنیل گاوسکر نے آئی پی ایل میں آخری وقت پر نام واپس لینے والے کھلاڑیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی )  سے موجودہ سزا کے نظام پر دوبارہ غور کرنے کو کہا ہے۔ گاوسکر کا ماننا ہے کہ موجودہ دو سالہ پابندی کا اصول اتنا سخت نہیں ہے کہ کھلاڑیوں کو نیلامی میں منتخب ہونے کے بعد نام واپس لینے سے روک سکے۔
بین ڈکٹ کے آئی پی ایل ۲۰۲۶ء سے نام واپس لینے کے بعد لیگ کے قوانین کو مزید سخت کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ انگلینڈ کے بلے باز ڈکٹ کو دہلی کیپیٹلز نے ۲؍ کروڑ روپے میں خریدا تھا، لیکن انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو ترجیح دینے اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے آئی پی ایل سے دستبرداری اختیار کر لی۔ ان کا یہ فیصلہ ایشز اور ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ جیسے مصروف بین الاقوامی شیڈول کے فوراً بعد آیا۔ اب آئی پی ایل کے قوانین کے مطابق ان پر دو سال کی ممکنہ پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:انیت پڈا کی بہن ریت کو ’’دُھرندھر ۲‘‘ کو پروپیگنڈہ کہنا مہنگا پڑا


گاوسکر نے کہاکہ ’’یہ ایک مشکل معاملہ ہے۔ واضح طور پر بین ڈکٹ نے ایشز سیریز میں بہت اچھا مظاہرہ کیا تھا۔ اگر انہیں دی ہنڈریڈ  کی نیلامی میں اتنی اچھی قیمت پر نہ خریدا گیا ہوتا تو شاید صورتحال کچھ اور ہوتی۔ یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ دی ہنڈریڈ  میں اچھی قیمت ملنے کے بعد وہ آئی پی ایل چھوڑ کر انگلینڈ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:سبالینکا نے میامی ٹائٹل جیت کر سن شائن ڈبل مکمل کر لیا


سابق کرکٹر نے مزید کہا ’’ہاں، اس بارے میں بی سی سی آئی کو سوچنا چاہیے کہ کیا کیا جائے، کیونکہ دو سال کی پابندی واضح طور پر کام نہیں کر رہی۔ آپ کو کچھ ایسا کرنا ہوگا جس کا اثر ہو۔ جب تک اس کا اثر کھلاڑی پر اور اس کے آئی پی ایل میں واپسی کے امکانات پر نہیں پڑے گا، تب تک یہ اصول مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK