Updated: April 14, 2026, 3:55 PM IST
| Gaza
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق علاقے کو روزانہ تقریباً ۴۵۰؍ ٹن آٹے کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ فراہمی صرف ۲۰۰؍ ٹن کے قریب ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اور ورلڈ سینٹرل کچن کی سپلائی میں کمی کے بعد بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ حکام نے اسرائیل پر ’’انجینئرڈ فاقہ کشی‘‘ کی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود امدادی ٹرکوں کی محدود رسائی اور مسلسل تباہی کے باعث ۴ء۲؍ ملین آبادی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
غزہ میں انسانی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں خوراک خصوصاً آٹے کی شدید قلت نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق علاقے کو روزانہ تقریباً ۴۵۰؍ ٹن آٹے کی ضرورت ہے، تاہم اس وقت صرف ۲۰۰؍ ٹن کے قریب فراہمی ہو رہی ہے، جو بنیادی ضروریات سے کہیں کم ہے۔ حکام نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آٹے اور دیگر اشیائے خوردونوش کی رسد کو محدود کر کے ’’انجینئرڈ فاقہ کشی‘‘ کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ میں امدادی سامان کی مکمل ترسیل کی اجازت نہیں دے رہا، حالانکہ معاہدے کے تحت روزانہ ۶۰۰؍ ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ہونی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی پوپ لیو پر تنقید، انہیں ’انتہا پسند‘ قرار دیا، کارڈینلز نے امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنایاا
رپورٹس کے مطابق، موجودہ سپلائی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں صرف ۳۸؍ فیصد رہ گئی ہے، جس نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں میں کمی نے بحران کو اور بڑھا دیا ہے۔ ورلڈ سینٹرل کچن ، جو پہلے روزانہ ۲۰؍ سے ۳۰؍ ٹن آٹا فراہم کر رہا تھا، نے اپنی امداد روک دی ہے جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے اپنی سپلائی کو ۳۰۰؍ ٹن سے کم کر کے تقریباً ۲۰۰؍ ٹن روزانہ کر دیا ہے۔ دیگر کئی اداروں نے بھی اپنے روٹی اور آٹے کے پروگرام معطل کر دیے ہیں۔ یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی تقریباً ۴ء۲؍ ملین آبادی میں سے ۹ء۱؍ ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی خیموں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صاف پانی اور طبی سہولیات کی کمی نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد مذاکرات ناکام، امریکہ کا ایران پر نئے حملوں پر غور: رپورٹ
اگرچہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ کی گئی تھی، لیکن زمینی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ انسانی امداد کی محدود رسائی، خوراک کی قلت اور مسلسل عدم استحکام نے عام شہریوں کے لیے حالات کو نہایت مشکل بنا دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس تنازع میں اب تک ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور تقریباً ایک لاکھ ۷۲؍ ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ یا متاثر ہو چکا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امدادی رسد میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو غزہ ایک بڑے قحط کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مقامی بلکہ علاقائی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔