Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیل کی عالمی قیمت ۱۴۰؍ ڈالر تک پہنچ جائے گی: باقر قالیباف

Updated: April 30, 2026, 3:00 PM IST | Tehran

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی حکمت عملی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں، ناکہ بندی سے تیل کی قیمت ۱۴۰؍ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

Crude Oil.Photo:INN
خام تیل۔ تصویر:آئی این این

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی حکمت عملی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں، ناکہ بندی سے تیل کی قیمت ۱۴۰؍ڈالر تک پہنچ جائے گی۔  
ایرانی اسپیکر نے بیان میں کہا کہ اصل مسئلہ نظریہ نہیں بلکہ ذہنیت ہے، غیر حقیقی اور غلط مشورے فیصلوں کا حصہ بن رہے ہیں، امریکی ناکہ بندی سے تیل کے کنوؤں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ باقر قالیباف نے کہا تین دن میں کوئی کنواں نہیں پھٹا ہے اور اگلے ۳۰؍ دن بھی تیل کے کنوؤں سے پیداوار جاری رہے گی۔ 
انہوں نے امریکی پالیسی سازوں کے غیر سنجیدہ اور فضول مشوروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں۔ قالیباف کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ ناکہ بندی کے نظریے کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس ناکہ بندی سے تیل کی قیمتیں۱۲۰؍ ڈالر تک پہنچ رہی ہیں، تیل کی قیمتوں کا اگلا اسٹاپ ۱۴۰؍ ڈالر تک جائے گا۔ 
دریں اثنا، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ باقر قالیباف نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ ایران کو اقتصادی دباؤ اور اندرونی اختلافات کے ذریعے جھکنے پہ مجبور کر دیں۔ انہوں نے کہا دشمن یہ چاہتا ہے کہ محاصرے اور اندرونی میڈیا کے بیانیے کو کمزور کر کے ہمیں تقسیم کر دے، عوام یہ جان لیں کہ دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں واحد ہتھیار اتحاد اور وحدت ہے، جو بھی اختلافات کو ہوا دے گا وہ دشمن کے ایجنڈے پہ چل رہا ہے۔ قالیباف نے کہا ایرانی عوام پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سیاسی اور عسکری حکام کے درمیان مکمل اتحاد موجود ہے اور ہم سب اپنے رہبر کے مطیع ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:لبنان میں جاری تنازع کےباعث ۱۲ لاکھ سےزائد افراد شدید بھوک کا سامنا کررہے ہیں: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ


عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
امریکہ اور ایران کی حالیہ کشیدہ صورت حال کے سبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔  امریکی ویسٹ ٹیکساس کروڈ۵ء۷؍  ڈالر اضافے کے ساتھ۴۶ء۱۰۷؍ ڈالر فی بیرل ہوگیا، جبکہ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل۱۷ء۸؍ڈالر بڑھ کر۴۳ء۱۱۹؍ ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔  
رپورٹ کے مطابق ابوظبی عالمی بینچ مارک مربان کروڈ  ۶۱ء۲؍ڈالر اضافے سے ۳ء۱۰۹؍ڈالر فی بیرل ہوگیا۔  یاد رہے کہ اس سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت میں ۶۸ء۱؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت ۱۱۷؍ڈالرز فی بیرل کی سطح عبور کرگئی تھی۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت بڑھ کر ۱۰۵؍ فی بیرل ہوگئی تھی۔  

یہ بھی پڑھئے:’’دِرِیشیم۳‘‘: موہن لال اور اجے دیوگن ، دونوں میں مالدار کون !


اعداد و شمار کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تیل صرف۔۰۲ء۶۷؍ ڈالرز پر دستیاب تھا، جو اب تقریباً ۱۰۰؍ ڈالرز سے تجاوز کرچکا ہے۔  جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت ۷۳؍ ڈالرز فی بیرل تھی، جس میں اب تک ۳۷؍ ڈالرز سے زائد کا ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آسکتا ہے۔  خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہیں، ان کے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK