Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات ٹائٹنز کی نظریں پلے آف پر، کے کے آر کے لیے جیت ضروری

Updated: May 15, 2026, 10:03 PM IST | Kolkata

کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے سابق اسٹار شبھ من گل سنیچر کو ایڈن گارڈنز میں واپسی کر رہے ہیں۔ انڈین پریمیئر لیگ کے ۶۰؍ویں میچ میں کے کے آر کا مقابلہ شاندار فارم میں موجود گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔

Gujarat Team.Photo:X
گجرات کی ٹیم ۔ تصویر:ایکس

 کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے سابق اسٹار شبھ من گل سنیچر کو ایڈن گارڈنز میں واپسی کر رہے ہیں۔ انڈین پریمیئر لیگ کے ۶۰؍ویں میچ میں کے کے آر کا مقابلہ شاندار فارم میں موجود گجرات ٹائٹنز سے ہوگا، جو جذبات، دباؤ اور پلے آف کی اہمیت سے بھرپور ہوگا۔ 
کے کے آر کے لیے صورتحال واضح مگر مشکل ہے۔ جیتو یا اپنی پلے آف امیدوں کو ختم ہوتے دیکھو۔ دوسری جانب گجرات ٹائٹنز مسلسل پانچ فتوحات کے بعد زبردست واپسی کرتے ہوئے پوائنٹس ٹیبل کے اوپری حصے میں پہنچ چکی ہے اور کوالیفکیشن کے قریب کھڑی ہے۔ 
یہ مقابلہ فطری طور پر شبھ من گل کے گرد گھوم رہا ہے، جنہیں کبھی کے کے آر کا مستقبل تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب وہ گجرات ٹائٹنز کے کپتان اور بیٹنگ کے ستون بن چکے ہیں۔  اس سیزن کے آغاز میں گل نے اپنی سابق ٹیم کے خلاف ۸۶؍ رنز کی شاندار اننگز کھیلتے ہوئے جی ٹی کو ۱۸۱؍ رنز کا ہدف پانچ وکٹوں سے حاصل کروایا تھا۔ اس جیت کے ساتھ گجرات نے کولکاتا کے خلاف اپنی مسلسل فتوحات کا سلسلہ تین میچوں تک پہنچا دیا تھا۔  اب گل اسی میدان میں واپس آ رہے ہیں جہاں کبھی انہیں بے پناہ حمایت حاصل تھی اور ممکن ہے کہ ان پر کے کے آر کی مہم کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ذمہ داری بھی ہو۔ 
گجرات ٹائٹنز اس وقت ٹورنامنٹ کی سب سے متوازن ٹیموں میں شمار ہو رہی ہے۔ ان کی بیٹنگ زیادہ تر شبھمن گل اور سائی سدرشن کی مستقل کارکردگی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ سدرشن اس سیزن میں ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے ۵۰۰؍ سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں، جبکہ گل نے بطور قابلِ اعتماد ٹاپ آرڈر بلے باز اپنی ساکھ برقرار رکھی ہے۔  تیسرے نمبر پر جوس بٹلر کی موجودگی نے گجرات کے ٹاپ آرڈر کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس سے ٹیم کو پاور پلے اور مڈل اوورز دونوں میں برتری حاصل ہوئی ہے۔ اگرچہ مڈل آرڈر مکمل طور پر کامیاب نہیں رہا، لیکن ٹیم کے باؤلنگ اٹیک نے اس کمی کو بخوبی پورا کیا ہے۔ 
جنوبی افریقی فاسٹ باؤلر کگیسو ربادا ۲۱؍ وکٹوں کے ساتھ اٹیک کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ آل راؤنڈر جیسن ہولڈر نے اہم مواقع پر وکٹیں لے کر دباؤ برقرار رکھا ہے۔ گجرات کے بولرس  نے گزشتہ چار میچوں میں ۳۹؍ وکٹ حاصل کئے ہیں، جو ان کی مسلسل کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔  دوسری طرف کے کے آر نے سیزن کے ابتدائی حصے میں تقریباً باہر ہونے کے بعد واپسی کے آثار دکھائے ہیں۔ راجستھان رائلز، لکھنؤ سپر جائنٹس، سن رائزرس حیدرآباد اور دہلی کیپٹلس کے خلاف مسلسل چار فتوحات نے ٹیم کا اعتماد بحال کیا، لیکن رائل چیلنجرز بنگلورو کے ہاتھوں شکست کے بعد ان کی رفتار متاثر ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:اگلے جیمز بانڈ کی تلاش شروع: آڈیشنز باضابطہ طور پر جاری


نوجوان بلے باز انگکرش رگھوونشی اس سیزن میں کے کے آر کے لیے سب سے مثبت پہلو بن کر سامنے آئے ہیں۔ اس ٹین ایجر نے دباؤ میں عمدہ رنز بنائے ہیں اور اننگز سنبھالنے میں پختگی دکھائی ہے۔ دھماکہ خیز اوپنر فن ایلن نے بھی بے خوف بیٹنگ سے ٹیم کو جارحانہ آغاز فراہم کیا ہے جبکہ رنکو سنگھ مڈل آرڈر میں فنشر کا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ کے کے آر کے لیے سب سے بڑا چیلنج گجرات کے تیز رفتار بولنگ اٹیک کا سامنا کرنا اور ان کے مضبوط ٹاپ آرڈر کو روکنا ہوگا۔ ساتھ ہی میزبان ٹیم ایڈن گارڈنز کی اسپن ساز وکٹوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تجربہ کار اسپنرز سنیل نارائن اور ورون چکرورتی پر کافی انحصار کرے گی۔  گھریلو میدان پر روایتی مضبوط حمایت کے باوجود کے کے آر کو اس سیزن میں ایڈن گارڈنز پر مشکلات کا سامنا رہا ہے اور ٹیم دباؤ والے اہم میچ ہارتی رہی ہے۔ اس کے برعکس، گجرات ٹائٹنز مشکل حالات میں زیادہ پُرسکون اور منظم نظر آئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:اٹالیئن اوپن ۲۰۲۶ء: ایلینا سویتولینا تیسری بار فائنل میں، خطابی مقابلہ کوکو گاف سے ہوگا


شبھ من گل اُس فرنچائز کے خلاف میدان میں اتریں گے جہاں سے ان کے آئی پی ایل سفر کا آغاز ہوا تھا، جبکہ کے کے آر اپنی مہم کو زندہ رکھنے کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ایسے میں ہفتہ کا یہ مقابلہ پلے آف کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی ایک ناک آؤٹ میچ جیسا محسوس ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK