ہندوستان کی بہترین پسٹل نشانہ باز ایشا سنگھ اور منو بھاکر نے آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ رائفل/پسٹل/شاٹ گن میں خواتین کے ۲۵؍ میٹر پسٹل مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب سونے اور کانسہ کے تمغے جیت لیے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 9:57 PM IST | Hangzhou
ہندوستان کی بہترین پسٹل نشانہ باز ایشا سنگھ اور منو بھاکر نے آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ رائفل/پسٹل/شاٹ گن میں خواتین کے ۲۵؍ میٹر پسٹل مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب سونے اور کانسہ کے تمغے جیت لیے ہیں۔
ہندوستان کی بہترین پسٹل نشانہ باز ایشا سنگھ اور منو بھاکر نے آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ رائفل/پسٹل/شاٹ گن میں خواتین کے ۲۵؍ میٹر پسٹل مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب سونے اور کانسہ کے تمغے جیت لیے ہیں۔
Esha Singh 🇮🇳 wins Gold in Women`s 25m Pistol at the ISSF World Cup in Hangzhou, China. pic.twitter.com/j1bnsVEs9O
— indianshooting.com (@indianshooting) July 27, 2026
ایشا نے فائنل میں زبردست کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۴۰؍ ہٹ کے ساتھ سونے کا تمغہ یقینی کیا جبکہ پیرس ۲۰۲۴ء میں دو اولمپک میڈل جیتنے والی منو بھاکر نے سخت مقابلے کا سامنا کرتے ہوئے ایک اہم شوٹ آف جیتا اور ۲۸؍ ہٹ کے ساتھ کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔ ہندوستانی ٹیم نے کوالیفکیشن راؤنڈ میں ہی اپنی چھاپ چھوڑ دی تھی۔ منو بھاکر ۵۸۶-۲۰x کے شاندار اسکور کے ساتھ کوالیفائنگ اسٹینڈنگ میں ٹاپ پر رہیں، جبکہ ایشا سنگھ۵۸۵-۱۸ x کے اسکور کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں اور آسانی سے آٹھ نشانہ بازوں والے فائنل میں جگہ بنا لی۔ ایشیائی کھیلوں کی سابق گولڈ میڈلسٹ راہی سرنوبت نے۵۸۲۔ ۱۶x کا اسکور کیا، جبکہ سمرن پریت کور برار (۵۷۶- ۲۰x) اور ابھیدنیا اشوک پاٹل (۵۷۳-۱۶ x) نے رینکنگ پوائنٹس اونلی اسٹیٹس کے تحت کھیلتے ہوئے اچھا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے:کامن ویلتھ گیمز: متھوپنڈی راجہ نے ویٹ لفٹنگ میں چاندی کا تمغہ جیتا
اس سیزن کی شروعات میں میونخ میں ورلڈ کپ کے دوران ریکارڈ ساز سونے کا تمغہ جیتنے کے بعد ذہنی دباؤ سے ابھرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایشا سنگھ نے کہا’’یہ میچ میرے لیے بہت دباؤ والا تھا کیونکہ میرے پاس پہلے سے ہی ایک تمغہ تھا۔ آپ اپنے مقابلے میں جتنا بہتر کرتے ہیں، آپ کو اتنی ہی زیادہ ساکھ کا بوجھ محسوس ہوتا ہے جسے آپ کو پار کرنا ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں آج اس سے ابھر پائی اور شکر گزار ہوں کہ مجھ میں اسے برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔ مجھے ہانگژو میں مقابلہ کرنا بہت پسند ہے۔ ایشیائی کھیلوں کے دوران ہوئے مقابلے کو یاد کرتے ہوئے، جہاں میں نے چار تمغے جیتے تھے، میں یہاں واپس آنے کے لیے بہت پرجوش تھی۔ فائنل ہال کی رینج، لائٹنگ اور ماحول سے واقف ہونا یقینی طور پر میرے حق میں رہا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سوشل میڈیا ایک بہت بڑی اور غیر معمولی طاقت بن چکا ہے: روی کشن
میچ کے بعد منو بھاکر نے کہا کہ ’’یہ تمغہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ ایک سیڑھی کی طرح کام کرتا ہے۔ اس سے مجھے یہ سمجھنے میں واضح مدد ملتی ہے کہ کیا چیز کارآمد ثابت ہو رہی ہے اور میں کس سمت میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں۔ اگرچہ میڈل یقینی طور پر میرا اعتماد بڑھاتا ہے، لیکن اس مسابقتی میچ سے ملا تجربہ اور بھی زیادہ مددگار ثابت ہوگا کیونکہ ہم ورلڈ چیمپئن شپ اور ایشیائی کھیلوں جیسے بڑے مقابلوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘‘