Updated: September 16, 2026, 9:06 PM IST
| Beijing
چین نے منگل سے وسیع نئے سفری قوانین نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں جو کمیونسٹ حکومت کو شہریوں کی نقل و حرکت پر زیادہ کنٹرول کی اجازت دیتے ہیں۔یہ قوانین کسی بھی ایسے شہری کو ملک چھوڑنے سے روکتے ہیں جسے قومی ٹیکنالوجی سیکیورٹی کے لیے ممکنہ خطرہ سمجھا جائے، جسے ٹیکنالوجی کی درآمد اور برآمد کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چین نے منگل سے وسیع نئے سفری قوانین نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں جو کمیونسٹ حکومت کو شہریوں کی نقل و حرکت پر زیادہ کنٹرول کی اجازت دیتے ہیں۔یہ قوانین کسی بھی ایسے شہری کو ملک چھوڑنے سے روکتے ہیں جسے قومی ٹیکنالوجی سیکیورٹی کے لیے ممکنہ خطرہ سمجھا جائے، جسے ٹیکنالوجی کی درآمد اور برآمد کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔نئے ضوابط سرکاری ملازمین، کمیونسٹ پارٹی کے اراکین، سرکاری اداروں کے ملازمین، نیز نجی شہریوں پر سختپابندیاں عائد کرتے ہیں۔اگرچہ چینی شہری عام طور پر سفر کرنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن حکومت ان لوگوں کے دوروں کی نگرانی کرتی ہے جنہیں حفاظت کیلئے خطرہسمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی میں ہم سب کو مارنے کی صلاحیت ہے: سابق ڈیپ مائنڈ محقق بلال چغتائی
بعد ازاں نئے قوانین چین میں سرد جنگ کے عروج کے دور کی یاد دلاتے ہیں، جب بیرون ملک سفر پر پابندی کی وجہ سے بہت کم لوگ بیرون ملک جا سکتے تھے۔کوئی بھی شہری جو بیرون ملک غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائیوں کا ارتکاب کرنے کے بعد واپس آتا ہے جو قومی سلامتی یا مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں، اسے نئے قوانین کے تحت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول چھ ماہ سے تین سال تک کی ایگزٹ پابندی۔غیر ملکی شہریوں کو بھی ویزا درخواستوں میں جھوٹے بیانات دینے پر ایک سے پانچ سال تک داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ نئے قوانین ریاستی کونسل کے ایگزٹ اینڈ انٹری ایڈمنسٹریشن ریگولیشنز کے ذریعے نافذ کیے گئے، اس قانون پر وزیر اعظم لی چیانگ نے۲۲؍ جولائی کو دستخط کیا تھا اوریہ منگل کو نافذ ہوا۔ دریں اثناء اس قانون کو بیجنگ کی جانب سے غیر ملکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت ضوابط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ تکنیکی رازوں کے اخراج کو روکا جا سکے۔حکومت نے اپنے ’’افواہوں کی تردید‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے دعویٰ کیا کہ نئے قوانین عام شہریوں کے سفر کو محدود نہیں کرتے، بلکہ زیادہ خطرے والی منزلوں اور غیر معمولی سفری پیٹرن والے افراد کے خلاف احتیاطی اقدام کے طور پر کام کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے دورانِ تقریب این ویڈیا سی ای او جینسن ہوانگ کو کال کیا، کہا اے آئی کے قبضے کے دعوے ڈھونگ ہیں
قانون کی دفعہ۴؍ کے مطابق، ایک چینی شہری جو ایکسپورٹ کنٹرول یا ٹیکنالوجی کی درآمد و برآمد کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا جو قومی صنعتی یا تکنیکی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اسے ملک چھوڑنےسے روکا جائے گا۔ جبکہ ایک اور دفعہ نجی شعبے کی امیگریشن ایجنسیوں کو سرکاری اہلکاروں، فوجی اہلکاروں، یا دیگر افرادکی اطلاع دینے کی ترغیب دیتی ہے جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئےبیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خفیہ معلومات تک رسائی رکھنے والے سینئر سرکاری اہلکاروں اور ریاستی ایگزیکٹوز پر ذاتی غیر ملکی سفر پر پابندیاں طویل عرصے سے لاگو ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیم سیف گارڈ ڈیفنڈرز نے۲۰۲۴ء کی رپورٹ میں کہا تھا کہ چین ایگزٹ پابندیوں کے استعمال میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔مارچ میں، بیجنگ نے چینی اے آئی کمپنی مینس کے دو شریک بانیوں پر سفری پابندی عائد کی تھی، جسے میٹا۲؍ ارب ڈالر میں حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔علاوہ ازیں ۲۰۲۳ء میں، چینی سرکاری ملازمین اور ریاست سے منسلک اداروں کے ملازمین نے کہا کہ انہیں بیرون ملک نجی سفر پر سخت حدود اور غیر ملکی روابط کی جانچ پڑتال کا سامنا ہے کیونکہ بیجنگ غیر ملکی اثر و رسوخ کے خلاف مہم چلا رہا تھا۔جون میں، میانمار کے ماہر اور امریکی شہری من زن کو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات پر چینی حکام نے گرفتار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے جوہری سربراہ IAEA کانفرنس سے باہر، امریکہ اور آسٹریا پر سنگین الزامات
نئے قوانین نے تائیوان، جسے بیجنگ اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے، کو اپنے لوگوں کو چین کا دورہ کرتے وقت اضافی احتیاط برتنے کی وارننگ دینے پر مجبور کیا۔تائیوان کی چین پالیسی بنانے والی ایجنسی مین لینڈ افیئرز کونسل کے نائب سربراہ شین یو چونگ نے کہا کہ یہ قوانین پہلے سے قانونی طور پر بے بنیاد سرحدی کنٹرول کے طریقوں کو قانونی بناتے ہیں اور نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کے اختیار کو بڑھاتے ہیں۔پیر کو تبصرے میں، انہوں نے خاص طور پر تشویش کے طور پر ایکسپورٹ کنٹرول اور ٹیکنالوجی درآمد برآمد مینجمنٹ پر پابندی کی بنیاد کے طور پر اجاگر کیا، خاص طور پر تائیوانیوں کے لیے جو ٹیک سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔
تاہم چین نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قوانین تائیوانی عوام کے لیے بہتر قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔سخت نئے قوانین جو چین کو شہریوں کو ملک چھوڑنے سے روکنے کی اجازت دیتے ہیں نافذ ہو گئےچین جانے والے غیر ملکیوں کو ویزا درخواستوں میں جھوٹے بیانات دینے پر پانچ سال تک داخلے پر پابندی کا سامنا ہے۔