• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگر کوئی سبالینکا کو ہرا سکتا ہے تو وہ الینا رائباکینا ہیں

Updated: January 30, 2026, 6:16 PM IST | Melbourne

آرینا سبالینکا اور الینا رائبا کینا ڈبلیو ٹی اے ٹور کی دو طاقتور ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں اور ہفتے کے روز یہی دونوں اپنی پسندیدہ سطح پر آسٹریلین اوپن کے خطاب کے لیے آمنے سامنے ہوں گی۔

Sabalenka.Photo:INN
سبالینکا۔تصویر:آئی این این

آرینا سبالینکا اور الینا رائبا کینا ڈبلیو ٹی اے ٹور کی دو طاقتور ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں  اور ہفتے کے روز یہی دونوں اپنی پسندیدہ سطح پر آسٹریلین اوپن کے خطاب کے لیے آمنے سامنے ہوں گی۔ راڈ لیور ایرینا میں نمبر  وَن  سبالینکا اور نمبر۵؍ رائبا کینا کے درمیان یہ مقابلہ انتہائی زوردار ہونے کی توقع ہے۔   سبالینکا مسلسل چوتھی مرتبہ آسٹریلین اوپن کے فائنل میں پہنچی ہیں، جو اوپن ایرا میں اس سے قبل صرف ایوون گولاگونگ اور مارٹینا ہنگس نے انجام دیا تھا۔ آسٹریلین اوپن میں سبالینکا کا مجموعی ریکارڈ ۳۴؍فتوحات اور۶؍ شکستوں پر مشتمل ہے۔
جمعرات کو سیمی فائنل میں الینا سویٹولینا کو۲۔۶، ۳۔۶؍سے شکست دینے کے بعد سبالینکا نے صحافیوں سے کہا کہ ’’مجھے یہ جگہ بے حد پسند ہے، یہ اسٹیڈیم مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ جب بھی میں یہاں کھیلتی ہوں تو خود کو شاندار محسوس کرتی ہوں۔‘‘ دوسری جانب، جیسیکا پیگولا کے خلاف۳۔۶، ۶۔۷؍کی کامیابی کے بعد میلبورن میں رائباکینا کا ریکارڈ ۲۰؍ فتوحات اور۶؍ شکستوں کا ہو چکا ہے۔ وہ۲۰۲۳ء میں یہاں فائنل تک پہنچی تھیں، جہاں انہیں سبالینکا کے خلاف۶۔۴، ۳۔۶، ۴۔۶؍ سے شکست ہوئی تھی۔ اسی کامیابی کے ساتھ سبالینکا نے اپنے چار بڑے خطابات میں سے پہلا خطاب جیتا تھا۔
رائباکینا نے اپنا واحد گرینڈ سلیم خطاب ۲۰۲۲ء میں ومبلڈن میں جیتا تھا  جبکہ آسٹریلین اوپن کا وہ فائنل ان کا دوسرا بڑا فائنل تھا۔ تین برس بعد اب وہ اپنے تیسرے گرینڈ سلیم فائنل میں پہنچ چکی ہیں۔ رائباکینا نے کہاکہ ’’دوبارہ فائنل میں پہنچ کر یقیناً بہت خوشی ہو رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں میں قریب تو پہنچی تھی، دوسرے گرینڈ سلیم میں سیمی فائنل بھی کھیلا، لیکن اب میں اور بھی قریب ہوں، جو بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔ بس ایک قدم اور باقی ہے۔‘‘

یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ سب سے زیادہ طاقت سے گیند کون مارتی ہے؟ اس کا جواب دینا آسان نہیں، تاہم فائنل سے قبل سبالینکا نے اپنی حریف کی بھرپور تعریف کی۔ سبالینکا نے کہاکہ ’’ن کے شاٹس بھاری، گہرے اور سیدھے ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف کھیلنا آسان نہیں، لیکن ہمارا ماضی کا مقابلہ ہمیشہ شاندار رہا ہے۔ وہ ایک غیر معمولی کھلاڑی ہیں، اور میں اس طاقتور مقابلے کے لیے بے حد پُرجوش ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’گاندھی ٹاکس‘‘ کی ریلیز کے تعلق سے ادیتی راؤ حیدری پرجوش ہیں

ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلوں میں سبالینکا کو ۶۔۸؍کی برتری حاصل ہے، تاہم یہ اعداد و شمار مختلف انداز سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آؤٹ ڈور ہارڈ کورٹ پر سبالینکا۴۔۵؍ سے آگے ہیں، لیکن رائباکینا نے ان کے چار چیمپئن شپ مقابلوں میں سے تین جیتے ہیں، جن میں دونوں کے درمیان آخری مقابلہ بھی شامل ہے، جو ۲۰۲۵ء ڈبلیو ٹی اے فائنلز کے ٹائٹل میچ میں ہوا تھا، جہاں رائباکینا نے۳۔۶ ، ۶۔۷؍ سے کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:اقتصادی سروے نے ’ریوڑھی‘ کلچر پر تنقید کی، انتخابی مفت مراعات سے ریاستیں دیوالیہ ہو سکتی ہیں

سبالینکا چار برسوں میں اپنا تیسرا آسٹریلین اوپن خطاب جیتنے کی کوشش میں ہیں۔ میلبورن، جہاں انہوں نے اپنے گزشتہ ۲۱؍ میں سے۲۰؍ مقابلے جیتے ہیں، ان کی پسندیدہ جگہ سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب رائباکینا شاندار کارکردگی کے ساتھ میدان میں اتری ہیں۔ گزشتہ سال سے اب تک وہ اپنے ۲۰؍ میں سے۱۹؍ مقابلے جیت چکی ہیں  جبکہ عالمی نمبر پانچ کھلاڑی ٹاپ ۱۰؍ حریفوں کے خلاف مسلسل نو مقابلے جیتنے کا کارنامہ بھی انجام دے چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK