فلمی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف خوبصورتی یا صلاحیت ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے خود اعتمادی، محنت اور اپنےخوف پر قابو پانے کا حوصلہ بھی ضروری ہوتاہے۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 1:13 PM IST | Agency | Mumbai
فلمی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف خوبصورتی یا صلاحیت ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے خود اعتمادی، محنت اور اپنےخوف پر قابو پانے کا حوصلہ بھی ضروری ہوتاہے۔
فلمی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف خوبصورتی یا صلاحیت ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے خود اعتمادی، محنت اور اپنےخوف پر قابو پانے کا حوصلہ بھی ضروری ہوتاہے۔ بالی ووڈ اداکارہ الیانا ڈی کروز کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ آج وہ اپنی اداکاری کے ذریعے فلمی دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں، لیکن ایک وقت ایسا تھا جب وہ کیمرے کا سامنا کرنے سے بھی گھبراتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس اداکارہ کو کبھی اپنی تصویریں تک پسند نہیں آتی تھیں، اسی نے اپنی پہلی ہی فلم سے ناظرین کو متاثر کیا اور فلم فیئر ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔ الیانا نےکبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ بڑی ہوکر اداکارہ بنیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: بی آر چوپڑہ نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنائیں
ان کے ماڈلنگ کریئر کا آغاز بھی کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا تھا۔ دراصل ان کی والدہ جس ہوٹل میں کام کرتی تھیں، وہاں کے ایک منیجر نے الیانا کو دیکھا اور ان کی والدہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی بیٹی کو ماڈلنگ کے شعبے میں آگے بڑھائیں۔ خاندان کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے اس شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔تاہم،ابتدا میں الیانا کو کیمرے کے سامنے آنے میں کافی جھجک محسوس ہوتی تھی۔۲۰۰۳ءمیںجب ان کا پہلا ماڈلنگ پورٹ فولیو تیار کیا گیا تو انہیں اپنی تصویریں بالکل پسند نہیں آئیں۔ اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آہستہ آہستہ فوٹو شوٹ اور ریمپ واک کے ذریعے خود اعتمادی حاصل کی۔ بعد میں انہیں اشتہارات میں بھی کام ملنے لگا۔ماڈلنگ کے دوران ہی انہیں تیلگو فلم ’دیوداسو‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔۲۰۰۶ءمیں ریلیز ہونے والی اس فلم سے الیانا نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ پہلی ہی فلم میں ان کی اداکاری کو پسند کیا گیا اور انہیں فلم فیئر ساؤتھ کے بہترین نئی اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔