امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان آج منگل کو اعلیٰ سطح کے براہِ راست سفارتی مذاکرات ہوں گے، جو ۱۹۹۳ء کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 1:03 PM IST | Washington
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان آج منگل کو اعلیٰ سطح کے براہِ راست سفارتی مذاکرات ہوں گے، جو ۱۹۹۳ء کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان آج منگل کو اعلیٰ سطح کے براہِ راست سفارتی مذاکرات ہوں گے، جو ۱۹۹۳ء کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں۔ امریکی سرپرستی میں ہونے والے ان مذاکرات میں اسرائیل کی شمالی سرحد کی طویل مدتی سیکوریٹی اور لبنان کی مکمل خودمختاری کی بحالی جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔
عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ حزب اللہ کے ساتھ ہے، لبنان کے ساتھ نہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ، امریکی مشیر مائیکل نیڈہام، امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحیئل لیتر اور امریکہ میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ شریک ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات واشنگٹن میں گرینچ وقت کے مطابق دوپہر ۲؍ بجے شروع ہوں گے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب لبنان-اسرائیل سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔لبنانی ذرائع کے مطابق بیروت اسرائیل سے جنگ بندی کی مکمل پابندی کا مطالبہ کرے گا، جبکہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور سرحدی سیکوریٹی کو مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کا دعویٰ، ایران کو بھاری نقصان، معاہدہ صرف جوہری شرط پر ہوگا
لبنان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضمانتیں بھی چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ دراندازی سے بچا جا سکے، جبکہ وہ موجودہ کشیدگی سے پیدا ہونے والے معاشی اور سیاسی بحران کو کم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا مقصد سرحد کے قریب حزب اللہ کی موجودگی ختم کرنا، اسلحہ ختم کروانا اور ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے، جبکہ وہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کی آزادی بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مذاکرات سے قبل حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے اور مذاکراتی عمل سے دستبردار ہو جائے۔
یہ بھی پڑھئے:کردار میں ڈھلنے کے لیے ۱۰؍ ماہ تک ہاتھ میں کارڈز پکڑے رہا: وجے ورما
انہوں نے کہا کہ خودمختاری کے حصول کا راستہ نومبر ۲۰۲۴ءکے معاہدے پر مکمل عمل درآمد میں ہے۔ حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما نے بھی واضح کیا کہ تنظیم امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے کسی بھی براہِ راست معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گی۔ یاد رہے کہ۲۰۲۲ء میں امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تعین کا معاہدہ طے پایا تھا جبکہ دسمبر۲۰۲۵ء میں دونوں ممالک نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات بھی کیے تھے تاکہ ۲۰۲۴ء میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کو مضبوط بنایا جا سکے۔