Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں شرکت کرنے والے ہندوستانی نژاد فٹبالرس

Updated: June 07, 2026, 5:06 PM IST | New Delhi

تحسین محمد جمشید، نشان ویلوپلّے، سرپریت سنگھ اور سیموئل موتوسامی ان چارہندوستانی نژاد فٹبالرز میں شامل ہیں جو فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں مختلف ممالک کی نمائندگی کریں گے۔

Nishan.Photo:X
نشان۔ تصویر:ایکس

جب فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا آغاز امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں ہوگا، تو ہندوستان ایک بار پھر اس عالمی مقابلے کو دور سے دیکھ رہا ہوگا۔ ہندوستانی قومی ٹیم، جسے ’بلیو ٹائیگرز کہا جاتا ہے، فٹبال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی اور یوں کئی دہائیوں پر محیط انتظار مزید طویل ہوگیا  تاہم، ہندوستان کی غیر موجودگی کے باوجود، اس ملک کی جھلک عالمی اسٹیج پر نظر آئے گی۔
ہند نژاد چار کھلاڑی مختلف ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں شرکت کریں گے۔ ان کی کہانیاں صرف کامیاب تارکینِ وطن کی جذباتی داستانیں نہیں ہیں، بلکہ یہ اس بات کی اہم مثال ہیں کہ جدید فٹبال کی ترقی کس طرح مؤثر نظاموں کے ذریعے ممکن بنائی جاتی ہے۔ ہندوستانی فٹبال منتظمین، کوچز اور شائقین کے لیے ان کھلاڑیوں کا سفر ایک اہم سوال اٹھاتا ہے: اگر ہندوستانی جڑوں کے حامل فٹبالرز دیگر ممالک کے لیے ورلڈ کپ تک پہنچ سکتے ہیں، تو وہ ممالک ایسا کیا مختلف کر رہے ہیں؟
برسوں سے ہندوستانی فٹبال کے حوالے سے گفتگو کا محور جذبہ رہا ہے۔ ملک میں کروڑوں فٹبال شائقین موجود ہیں۔ مغربی بنگال، کیرالا، گوا اور شمال مشرقی ریاستوں میں اسٹیڈیم بھر جاتے ہیں۔ انڈین سپر لیگ نے فٹبال کی مقبولیت اور سرمایہ کاری میں اضافہ بھی کیا ہے۔اس کے باوجود ہندوستان ابھی تک عالمی فٹبال کی صفِ اول میں جگہ بنانے سے محروم ہے۔ فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ہند نژاد کھلاڑیوں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بلکہ ایسے نظاموں کی کمی ہے جو بچپن سے ہی ٹیلنٹ کی شناخت، تربیت اور ترقی کو یقینی بنائیں۔
 قطر کا اکیڈمی ماڈل: تحسین محمد جمشید
سب سے دلچسپ کہانیوں میں سے ایک تحسین محمد جمشید کی ہے، جو دوحہ میں کیرالا سے تعلق رکھنے والے ملیالی والدین کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی ترقی کا سفر قطر کی فٹبال انفراسٹرکچر میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔قطر نے محض اتفاق پر انحصار کرنے کے بجائے ایک ایسا نظام قائم کیا جس کا مقصد کم عمری میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور انہیں اعلیٰ معیار کی کوچنگ، اسپورٹس سائنس اور بین الاقوامی مقابلوں کا تجربہ فراہم کرنا تھا۔ نتیجتاً ایک ایسا نوجوان ونگر سامنے آیا جو ۲۰؍ سال کی عمر سے پہلے ہی دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر کھیلنے کے قابل ہے۔ ہندوستان کے لیے سبق واضح ہے: ٹیلنٹ کی شناخت صرف مقامی ٹورنامنٹس یا محدود اسکاؤٹنگ پر منحصر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایک منظم قومی نظام کی ضرورت ہے۔
 آسٹریلیا کا فٹبال راستہ: نشان ویلوپلّے
نشان ویلوپلّے کی ترقی ہندوستانی فٹبال کی ایک اور کمزوری کو نمایاں کرتی ہے۔ میلبورن میں تمل اور اینگلو انڈین پس منظر رکھنے والے خاندان میں پیدا ہونے والے ویلوپلّے نے کمیونٹی فٹبال سے آغاز کیا، پھر پیشہ ورانہ اکیڈمیزتک پہنچے اور آخرکار اے لیگ میں جگہ بنائی۔ان کا سفر ایک واضح اور منظم راستے پر مبنی تھا۔ ہر مرحلے کے بعد اگلا قدم پہلے سے موجود تھا۔ گراس روٹ فٹبال سے اکیڈمی اور پھر پیشہ ورانہ فٹبال تک رسائی کا پورا ڈھانچہ تیار تھا۔ اس کے برعکس، ہندوستان میں بہت سے باصلاحیت نوجوان مقامی فٹبال اور پیشہ ورانہ سطح کے درمیان موجود خلا کو عبور نہیں کر پاتےاور کئی امید افزا کریئرس آغاز سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی کھیلوں کی ثقافت: سرپریت سنگھ
سرپریت سنگھ کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ صرف انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ ثقافت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پنجابی والدین کے ہاں نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والے سنگھ نے بچپن میں کئی کھیل کھیلے اور بعد ازاں ملک کے نمایاں فٹبالرز میں شمار ہونے لگے۔ ان کی صلاحیتوں نے انہیں یورپ کے ایک بڑے کلب تک پہنچایا، لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک ایسا کھیلوں کا ماحول تھا جو شرکت، تجربہ اور طویل المدتی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ خاندانوں کو یقین تھا کہ پیشہ ورانہ کھیلوں میں مستقبل بنایا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں یہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جہاں کرکٹ کی مقبولیت فٹبال پر غالب رہتی ہے اور بہت سے والدین کھیلوں کو ایک محفوظ پیشہ ورانہ راستہ نہیں سمجھتے۔
سیموئل موتوسامی اور یورپی معیار
شاید سب سے زیادہ سبق آموز مثال سیموئل موتوسامی کی ہے۔ فرانس میں پیدا ہونے والے موتوسامی کے والد تمل نژاد انڈو گواڈیلوپین اور والدہ کانگو سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے دنیا کے سب سے مسابقتی فٹبال نظاموں میں سے ایک، یعنی فرانسیسی فٹبال سسٹم، میں تربیت حاصل کی۔ فرانس کی فٹبال اکیڈمیز تکنیکی طور پر مضبوط اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے ذہین کھلاڑی پیدا کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:جب تک بیلٹ پیپر کا استعمال نہیں کیا جاتا انتخابات کا بائیکاٹ کریں: راج ٹھاکرے


وہاں ہر تربیتی سیشن سخت مقابلے پر مبنی ہوتا ہے، ہر میچ کی اہمیت ہوتی ہے اور ہر نوجوان کھلاڑی کو شدید مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی ماحول کھلاڑیوں کی ترقی کو تیز تر بناتا ہے۔اگرچہ ہندوستانی فٹبال نے حالیہ برسوں میں کچھ پیش رفت کی ہے، لیکن مجموعی معیار، حکمتِ عملی کی پیچیدگی اور مقابلے کی گہرائی اب بھی یورپ اور ایشیا کے بڑے فٹبال ممالک سے بہت پیچھے ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’دوستانہ ۲‘‘ کو ایک اور جھٹکا، ہدایت کار ادویت چندن نے فلم چھوڑ دی


ہندوستان فٹبال کے لیے اصل سبق
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ہندنژاد کھلاڑیوں کی کامیابی فٹبال کے ایک پرانے تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ کہا جاتا رہا کہ جنوبی ایشیائی افراد اعلیٰ درجے کے فٹبال کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ تاہم  موجودہ شواہد اس کے برعکس ہیں۔ مسئلہ نسل یا وراثت کا نہیں بلکہ مواقع کا ہے۔ یہ کھلاڑی غیر معمولی جینیات یا خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ ایسے نظاموں کی پیداوار ہیں جنہوں نے کوچنگ، انفراسٹرکچر، اسکاؤٹنگ اور کھلاڑیوں کی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK