• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈونیشیا: غاروں میں ۶۷؍ ہزار ۸۰۰؍ سال پرانا دنیا کا قدیم ترین راک آرٹ دریافت

Updated: January 23, 2026, 3:14 PM IST | New York

انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں غار کی دیواروں پر بنے ہاتھوں کے نشانات کو اب تک کا قدیم ترین راک آرٹ قرار دیا جا رہا ہے، جن کی عمر کم از کم۶۷؍ ہزار ۸۰۰؍ سال بتائی گئی ہے۔ یہ دریافت ابتدائی انسانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور قدیم ثقافتی روایات کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

Handprints can be seen in a cave in Sulawesi. Photo: INN
سولاویسی کے غار میں ہاتھوں کے نشانات دیکھے جاسکتے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

انڈونیشیا کے غیر دریافت شدہ علاقے میں غار کی دیواروں پر بنے ہاتھوں کے نشانات ممکنہ طور پر اب تک مطالعہ کئے گئے قدیم ترین راک آرٹ ہیں، جن کی تاریخ کم از کم۶۷؍ ہزار ۸۰۰؍سال پرانی بتائی گئی ہے۔ انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے محققین نے جزیرہ سولاویسی پر ان خاکی رنگ کے نشانات کا تجزیہ کیا۔ یہ نشانات اس طریقے سے بنائے گئے تھے کہ ہاتھوں کو غار کی دیواروں پر رکھ کر ان پر رنگ پھونکا گیا جس سے ہاتھوں کا خاکہ بن گیا۔ کچھ انگلیوں کے سِروں کو جان بوجھ کر اس طرح بدلا گیا کہ وہ زیادہ نوکیلے نظر آئیں۔ 
یہ قدیم فن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈونیشیا کا یہ جزیرہ ایک پھلتی پھولتی فنکارانہ ثقافت کا مرکز تھا۔ ان تصویروں کی عمر جانچنے کیلئے محققین نے اُن معدنی پرتوں کی تاریخ معلوم کی جو فن پاروں کے اوپر وقت کے ساتھ بن گئی تھیں۔ نئی تحقیق دیکھ کر آزاد ماہرِ قدیم انسانی علوم جینیویو وان پیٹزنجر نے کہا کہ انہوں نے’’خوشی سے ایک چھوٹی سی چیخ نکالی۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا میں سوچتی آئی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بورڈ آف پیس کے بعد امریکہ کا ’نیوغزہ‘ منصوبہ پیش، ماہرین کا رد عمل

انڈونیشیا دنیا کی قدیم ترین غار کی تصویروں کی میزبانی کیلئے جانا جاتا ہے، اور سائنسداں دنیا بھر میں قدیم فن کی بے شمار مثالوں کا تجزیہ کر چکے ہیں جن میں ہڈیوں اور پتھروں پر بنے سادہ نشانات بھی شامل ہیں جو سیکڑوں ہزار سال پرانے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں ایک چٹان پر بنی کراس نما لکیریں تقریباً۷۳؍ ہزار سال پرانی سمجھی جاتی ہیں۔ جنوب مشرقی سولاویسی سے دریافت ہونے والا یہ نیا فن غار کی دیواروں پر ملنے والا اب تک کا سب سے قدیم فن ہے۔ مطالعے کے مصنف میکسیم اوبرٹ (گریفِتھ یونیورسٹی) کے مطابق یہ اسٹینسلز راک آرٹ کی ایک زیادہ پیچیدہ روایت کی نمائندگی کرتے ہیں، جو ممکن ہے کہ ایک مشترکہ ثقافتی عمل رہی ہو۔ یہ تحقیق بدھ کو جریدہ نیچر میں شائع ہوئی۔ 
سائنسداں یہ سمجھنے کیلئے بے تاب ہیں کہ ابتدائی انسانوں نے فن کب سیکھا یعنی نقطوں اور لکیروں سے آگے بڑھ کر خود کو اور اپنی دنیا کو بامعنی انداز میں پیش کرنا کب شروع کیا۔ یہ غار کی تصویریں انسانی تخلیقی صلاحیت کے آغاز کی زمانی ترتیب کو مضبوط بناتی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ نشانات کس کے ہاتھوں کے ہیں۔ ممکن ہے یہ قدیم انسانی گروہ ڈینیسووانز کے ہوں، جو اس خطے میں رہتے تھے اور ممکن ہے کہ ہمارے ہومو سیپیئنز آباواجداد کے ساتھ تعامل میں رہے ہوں، اس سے پہلے کہ وہ معدوم ہو گئے۔ یا پھر یہ جدید انسانوں کے ہاتھوں کے نشانات ہو سکتے ہیں جو افریقہ سے نکل کر مشرقِ وسطیٰ اور آسٹریلیا کی طرف اس دور میں سفر کر رہے تھے۔ غار کے فن میں باریک تفصیلات، بشمول جان بوجھ کر بدلی گئی انگلیوں کے سِرے، انسانی ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں پانی کی فراہمی متاثر: اقوام متحدہ

اسی جزیرے کے علاقے میں دریافت ہونے والی دیگر تصویریں جن میں ایک انسانی شکل، ایک پرندہ اور گھوڑے جیسے جانور شامل ہیں کہا جاتا ہے کہ بہت بعد میں بنائی گئیں، جن میں سے کچھ تقریباً۴؍ ہزارسال پرانی ہیں۔ ممکن ہے کہ قریبی جزیروں میں مزید فن پارے موجود ہوں جو ان ہاتھوں کے نشانات سے بھی قدیم ہوں۔ مستقبل کی تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ یہ فنکارانہ روایات دنیا بھر میں کیسے پھیلیں اور انسانیت کے ابتدائی دور کی ساخت میں کیسے پیوست ہیں۔ اوبرٹ نے ایک ای میل میں کہا، ’’ہمارے لئے یہ دریافت کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ یہ ہمیں تلاش جاری رکھنے کی دعوت دیتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK