فیفا کونسل کے اجلاس میں انگلینڈ اور جرمنی کی فٹ بال تنظیموں کے سربراہان نے ان کے طرزِ قیادت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ اہم معاملات پر واضح جواب نہیں دیتے اور متعلقہ دستاویزات سامنے نہیں لاتے، ان کی صدارت پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔
EPAPER
Updated: October 17, 2026, 4:03 PM IST | Zurich
فیفا کونسل کے اجلاس میں انگلینڈ اور جرمنی کی فٹ بال تنظیموں کے سربراہان نے ان کے طرزِ قیادت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ اہم معاملات پر واضح جواب نہیں دیتے اور متعلقہ دستاویزات سامنے نہیں لاتے، ان کی صدارت پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔
عالمی فٹبال کی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو ادارے کی قیادت اور انتظامی شفافیت کے معاملے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فیفا کونسل کے اجلاس میں انگلینڈ اور جرمنی کی فٹ بال تنظیموں کے سربراہان نے ان کے طرزِ قیادت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ اہم معاملات پر واضح جواب نہیں دیتے اور متعلقہ دستاویزات سامنے نہیں لاتے، ان کی صدارت پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ یہ تنازع فیفا کے تجارتی حقوق میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ فروخت کرنے کے مجوزہ منصوبے سمیت متعدد معاملات سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آسکر کیلئے ہندوستان کی باضابطہ پیش کش فلم ’’گوندھل‘‘ نومبر میں ملک بھر میں ریلیز ہوگی
زیورخ میں جمعرات کو ہونے والے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے طویل اجلاس میں انفینٹینو نے فیفا کونسل سے معذرت کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز (FFE) منصوبے کے حوالے سے مشاورت اور رابطے کا طریقہ کار بہتر ہونا چاہیے تھا۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کے تجارتی حقوق کا ایک حصہ نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، لیکن شدید مخالفت کے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، اس منصوبے میں فیفا کے تجارتی حقوق کی مالیت تقریباً ۲۰؍ ارب امریکی ڈالر لگائی گئی تھی اور نجی سرمایہ کاری ادارے تھرائیوکیپٹل کو ۲۰؍ فیصد حصہ فروخت کرنے کی تجویز زیرِ غور تھی۔ تاہم، کونسل کے متعدد ارکان نے منصوبے کی تفصیلات، مالی شرائط اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر وضاحت طلب کی۔ اجلاس میں امریکی وکلا نے منصوبے کے حق میں وضاحت پیش کی، لیکن بعض اراکین کان کے اعتراض کے بعد انہیں اجلاس سے باہر جانے کو کہا گیا۔
انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن کی سربراہ اور فیفا کی نائب صدر ڈیبی ہیوٹ نے کہا کہ انفینٹینو کو اٹھائے گئے سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔ ان کے مطابق، اگر وہ سوالات کا جواب نہیں دیتے تو وہ فیفا کی صدارت کے اہل نہیں ہیں۔ ہیوٹ نے یہ بھی کہا کہ اجلاس کے دوران ان کے اہم سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر برنڈ نوئنڈورف نے بھی فیفا کے انتظامی ڈھانچے میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے انتظام اور نگرانی کے نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انفینٹینو کی قیادت میں ان اصلاحات کے مؤثر نفاذ پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔
اجلاس میں فیفا کے امن ایوارڈ اور امریکی فٹ بالر فولارین بالوگن کی معطلی ختم کیے جانے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو فیفا کا امن ایوارڈ دیے جانے کے فیصلے پر بھی تنقید ہوئی، جبکہ بالوگن کی معطلی سے متعلق فیصلے کی وضاحت طلب کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:کرکٹ کا چوتھا فارمیٹ ٹیسٹ ۲۰؍ سری لنکا میں شروع ہو رہا ہے
فیفا نے امن ایوارڈ کے مستقبل کا معاملہ اپنی سماجی ذمہ داری کی کمیٹی کے حوالے کیا ہے، جبکہ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کو انتظامی اصلاحات سے متعلق نئی کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی ہے۔ فیفا کونسل نے اگلے چار سالہ دورانیے کے لیے رکن قومی فٹ بال تنظیموں کو مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ۵ء۳؍ ارب ڈالر تقسیم کرنے کی تجویز بھی منظور کی۔ جیانی انفینٹینو ۲۰۱۶ء سے فیفا کے صدر ہیں اور مارچ ۲۰۲۷ء میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں دوبارہ امیدوار بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تازہ تنازع کے بعد یورپی فٹ بال حکام نے ان کے مقابلے میں کسی متبادل امیدوار کی حمایت کرنے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ تاہم، انہیں ایشیا اور افریقہ کی متعدد فٹ بال تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ فی الحال انفینٹینو کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، لیکن تجارتی حقوق کے منصوبے، شفافیت اور انتظامی اصلاحات سے متعلق سوالات نے فیفا کی قیادت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ آئندہ اجلاس میں ان معاملات پر مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع ہے۔