Inquilab Logo Happiest Places to Work

خصوصی اداریہ

Updated: August 26, 2026, 10:15 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

آج کا دن تاریخ کے کتنے عظیم واقعہ کی یادگار ہے یہ بتانا ضروری نہیں۔ آپؐ نے اس دُنیا میں تشریف لا کر دُنیا پر احسان کیا۔ اس بات پر اہل ایمان کا ایمان ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آج کا دن تاریخ کے کتنے عظیم واقعہ کی یادگار ہے یہ بتانا ضروری نہیں۔ آپؐ نے اس دُنیا میں تشریف لا کر دُنیا پر احسان کیا۔ اس بات پر اہل ایمان کا ایمان ہے۔ اہل ایمان کا یہ بھی ایمان ہے کہ آپ پر ایمان لائے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ آپؐ پر ایمان جزوِ ایمان اس لئے ہے تاکہ آپؐ کے اُسوہ ٔ حسنہ کو عملی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے اور فقط ایک دن جشن منا کر یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم نے محبت کا بھرپور مظاہرہ کردیا اور اب سال بھر کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ سمجھنا خود کو دھوکہ دینا ہے، اپنی عاقبت خراب کرنا ہے، خسارہ میں رہنا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عید میلاد پر ہر طرف خوشیاں، چراغاں، پرچم اورجلوس

پانچ سنتوں کا عہد

آپؐ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کیلئے چنداقدام ضروری ہیں مثلاً ہمیں طے کرنا چاہئے کہ آئندہ جشن ولادت رسولؐ تک کم از کم پانچ سنتوں پر عمل کرینگے۔ پھر آئندہ بارہ ربیع الاول کو دیگر پانچ سنتوں کا عہد کرینگے۔ اُس کے بعد کے سال میں مزید پانچ سنتوں کا عزم کرینگے۔ سچ پوچھئے تو آپؐ نے اپنی سنتوں کے ذریعہ اہل ایمان کو اتنا بڑا خزانہ عطا کیا ہے کہ سنتوں کو عمل میں لاتے رہئے وہ ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ آپؐ کے لبوں پر ہمہ وقت تبسم رہتا تھا۔ معلوم ہوا کہ مسکرانا سنت ہے۔ آپؐ، بچوں سے محبت و شفقت سے پیش آتے تھے۔ معلوم ہوا کہ بچوں سے محبت و شفقت سے پیش آنا سنت ہے۔ آپؐ بیماروں کی عیادت فرماتے تھے۔ معلوم ہوا کہ بیمار کی عیادت سنت ہے۔ آپؐ سلام میں پہل فرماتے تھے۔ معلوم ہوا کہ سلام میں پہل سنت ہے۔ آپؐ ہر معاملے میں اعتدال سے کام لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ ہر معاملے میں اعتدال سنت ہے۔ یہ ہوئیں پانچ نہایت آسان سنتیں۔ اگر ہم عہد کرلیں کہ آج سے آئندہ بارہ ربیع الاول تک (اور پھر تا دم آخر) ان سنتوں کا عادی ہوجانا ہے اور ان کی ادائیگی کیلئے موقع اور وقت کا انتظار نہیں کرنا ہے بلکہ موقع اور وقت نکال کر ان کو ادا کرنا ہے تو یہ انقلابی اور نتیجہ خیز اقدام ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: آپؐ کی ذاتِ مبارکہ تمام انسانیت اور تمام عالم کیلئے رحمت ِ بیکراں ہے 

دو گروہ اور اپنا محاسبہ

اسلام میں انسانوں کے دو گروہ بتائے گئے ہیں۔ پہلا گروہ وہ ہے جو علم میں مضبوطی سے قائم رہتا ہے (راسخون فی العلم)۔ دوسرا وہ جس کے افراد کے دلوں میں کجی ہے (الذین فی قلوبہم زیغ)۔ اس سے ہمیں علم کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ کرنا چاہئے۔ دوسرا گروہ  دل کی کجی (ٹیڑھاپن) کی  وجہ سے علم حاصل نہیں کرتا یا علم حاصل کرنے کے باوجود دل کی کجی میں مبتلا رہتا ہے۔ حصول علم کی اہمیت کا اندازہ ہوجانے کے بعد بھی علم سے بے بہرہ، بے گانہ اور اس کی روشنی سے محروم رہنا دل کی کجی ہے۔ اسلام نے تمام علوم ِ نافع کی تلقین کی ہے یعنی ہر وہ علم جو انسانیت کو فیض پہنچائے۔ اس کا معنی محض ڈگری حاصل کرنا نہیں۔ ایک یا زائد ڈگریاں حاصل کرلینے کے باوجود علم کی جستجو میں رہنے اور علم حاصل کرتے رہنے کو پسند کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہر خاص و عام کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ اس میں علم کی لگن اور جستجو ہے یا نہیں ہے۔ 

اسلام کا دفاع زبان سے نہیں، عمل سے!

مذہب اسلام کو بدنام کرنے والوں کو ہم ناپسند کرتے ہیں مگر کیا ہم اسلام کی نیک نامی میں کردار ادا کررہے ہیں؟ یاد رکھئے  اسلام کا بہترین دفاع عمل ہی سے ہوگا۔ عمل کیجئے، حسن عمل سے پیش آئیے اور ہر جگہ  اپنی متانت، شائستگی، نرم دلی، تعاون اور خیرخواہی کا نقش قائم کیجئے نیز لوگوں کو بتائیے کہ آپ متین ہیں، شائستہ ہیں، نرم دل ہیں کیونکہ آپ مسلمان ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK