”میناب ۱۶۸؍“ کا نام ان ۱۶۰ سے زائد بچوں اور اساتذہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ۲۸ فروری کو میناب میں `شجرہ طیبہ` گرلز ایلیمنٹری اسکول پر ہونے والے امریکی میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا پہلا دن تھا۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 8:01 PM IST | Tehran/Islamabad
”میناب ۱۶۸؍“ کا نام ان ۱۶۰ سے زائد بچوں اور اساتذہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ۲۸ فروری کو میناب میں `شجرہ طیبہ` گرلز ایلیمنٹری اسکول پر ہونے والے امریکی میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا پہلا دن تھا۔
اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے ایرانی وفد کو پاکستان لے جانے والے ایک طیارے کے ذریعے ایران نے میناب میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے اسکولی طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی حکام کو لے کر پاکستان پہنچنے والی اس پرواز کا نام ”میناب ۱۶۸؍“ رکھا گیا ہے اور مسافروں کی نشستوں پر جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر اور سامان رکھا گیا ہے۔
همراهان من در این پرواز#Minab168 pic.twitter.com/xvXmDlSDiF
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طیارے کی نشستوں پر اسکول بیگز، جوتے، پھول اور متاثرین کی تصاویر رکھی گئی ہیں۔ معصوم مہلوکین کی یادگاروں کی موجودگی سے طیارے کے اندر سوگوار ماحول پیدا ہوگیا۔ قالیباف نے پرواز کے اندرون کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں انہوں نے ان معصوم متاثرین کو اس سفر میں اپنا ”ساتھی“ قرار دیا۔
”میناب ۱۶۸؍“ کا نام ان ۱۶۰ سے زائد بچوں اور اساتذہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ۲۸ فروری کو میناب میں `شجرہ طیبہ` گرلز ایلیمنٹری اسکول پر ہونے والے امریکی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا پہلا دن تھا۔ طیارے سے سامنے آنے والی تصاویر اس المیہ کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہیں۔ جنوبی افریقہ میں واقع ایرانی سفارت خانے سمیت دیگر ایرانی سفارتی خانوں نے بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور زور دیا کہ ان متاثرین کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
اس واقعے میں ہلاک ہونے والے معصوم بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایران بھر میں متعدد طریقے اپنائے گئے۔ قومی فٹ بال ٹیم نے ایک بین الاقوامی میچ کے دوران سیاہ پٹیاں باندھیں اور کھلاڑیوں نے بچوں کی یاد میں اسکول بیگز کے ساتھ تصاویر کھنچائیں۔ ایران نے تباہ شدہ اسکول کے ملبے پر ایک یادگار کی تنصیب کا اہتمام کیا، جس میں ”میناب کے شہید بچوں کی یادگار“ کے عنوان سے ۲۰۰۰ سرخ تتلیاں اور علامتی فن پارے نمائش کیلئے رکھے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: میناب اسکول کی شہید طالبات کو اہلِ ایران نے نم آنکھوں سے خراج عقیدت پیش کیا
امریکہ پر الزامات اور سفارتی کشیدگی
ایران نے میناب کے اسکول پر ہوئے اس حملے کا براہِ راست ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے اور امریکی بحریہ کے ان افسران کے نام ظاہر کئے ہیں جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے میزائل حملوں کی منظوری دی تھی۔ ہندوستان اور نائجیریا سمیت کئی ممالک میں موجود ایرانی سفارت خانوں نے سوشل میڈیا پر ان افسران کی تصاویر شیئر کیں اور ان پر اسکولی بچوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ ان الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت سے قبل کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
مذاکرات کیلئے وفود کی اسلام آباد آمد
ایرانی میڈیا کے مطابق، اس پرواز پر سفر کرنے والے وفد میں ۷۱ ارکان شامل ہیں، جن میں مذاکرات کار، ماہرین، سیکوریٹی اہلکار اور میڈیا کے نمائندے شامل ہیں۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ مذاکرات سے قبل بات کرتے ہوئے قالیباف نے واشنگٹن کے ساتھ گفتگو پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ مذاکرات کے نتیجے میں ”وعدوں کی خلاف ورزی“ ہی سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب، امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کرسکتے ہیں اور ان کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہوگے۔