Updated: March 27, 2026, 9:04 PM IST
| Tehran
ایران نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پیش نظر اپنی قومی اور کلب کھیلوں کی ٹیموں کو ’’دشمن ممالک‘‘ کا سفر کرنے سے روک دیا ہے، جس سے بین الاقوامی کھیلوں میں اس کی شرکت غیر یقینی ہو گئی ہے۔ وزارت کھیل کے مطابق یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات کے باعث کیا گیا ہے، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تناؤ کے تناظر میں۔ اس پابندی نے نہ صرف اے ایف سی مقابلوں بلکہ فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ایران کی شرکت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ متبادل مقامات پر غور جاری ہے۔
ایران کی فٹ بال ٹیم ۔تصویر: آئی این این۔
ایران نے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کی قومی اور گھریلو کھیلوں کی ٹیمیں اب ایسے ممالک کا سفر نہیں کریں گی جنہیں وہ ’’دشمن‘‘ تصور کرتا ہے، اور یہ پابندی اگلے نوٹس تک برقرار رہے گی۔ ایرانی وزارتِ کھیل و نوجوانان کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق، یہ قدم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ تنازعات کے بعد۔ وزارت نے واضح طور پر کہا، ’’ایسے ممالک میں قومی اور کلب ٹیموں کی موجودگی جہاں کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا، ممنوع ہے‘‘، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ سیکوریٹی بنیادوں پر بھی کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایرانی کلب ٹریکٹر ایف سی کو اے ایف سی چیمپئنز لیگ کے ایک میچ کے لیے سعودی عربیہ میں یو اے ای کی ٹیم کے خلاف کھیلنا تھا۔ ایرانی حکام نے اس میچ کو ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کو مقام کی تبدیلی کے لیے مطلع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آر سی بی کے نئے مالک کپتان رجت پاٹیدار کے ساتھ کھیل چکے ہیں
اس فیصلے کے اثرات صرف علاقائی مقابلوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے عالمی مضمرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ایران کی شرکت اب غیر یقینی ہو گئی ہے، حالانکہ ٹیم پہلے ہی کوالیفائی کر چکی ہے اور اسے امریکہ میں گروپ میچز کھیلنے ہیں، جہاں اس کے مقابلے نیوزی لینڈ، مصر اور بلجیم سے متوقع ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی شرکت ممکن ہے، تاہم ’’زندگی اور حفاظت‘‘ کے خدشات برقرار ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فیفا کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر میچز کو میکسیکو منتقل کیا جا سکے۔ صورتحال کو مزید الجھانے والی ایک اور پیش رفت یہ ہے کہ ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کی چند کھلاڑیوں نے مبینہ طور پر بیرون ملک سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے، جس نے کھیلوں اور سیاست کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔