• Sat, 17 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران احتجاج: ایران کی عدلیہ نے مظاہرین کی سزائے موت کی رپورٹس کی تردید کی

Updated: January 15, 2026, 9:45 PM IST | Tehran

ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں ایک نوجوان کو سزائے موت دیئے جانے کی خبروں پر عدلیہ نے وضاحت جاری کی ہے۔ عدالتی حکام کے مطابق مذکورہ شخص کو سزائے موت نہیں سنائی گئی بلکہ اس پر ایسے الزامات عائد ہیں جن کی سزا قید ہے، پھانسی نہیں۔

Erfan Soltani is currently imprisoned in the central prison of Karaj, a suburb of Tehran. Photo: INN
عرفان سلطانی اس وقت تہران کے مضافاتی شہر کرج کی سینٹرل جیل میں قید ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران کی عدلیہ نے جمعرات کو ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں پھیلنے والے حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے پر ایک شخص کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق۲۶؍ سالہ عرفان سلطانی کو خراب ہوتی معاشی صورتحال کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے پر گرفتار کیا گیا اور فوری طور پر سزائے موت سنائی گئی۔ تاہم، عدلیہ کے میڈیا سینٹر نے ان رپورٹس کو ’من گھڑت‘ قرار دیا۔ اس نے وضاحت کی کہ عرفان سلطانی کو ۱۰؍ جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر قومی سلامتی اور پروپیگنڈہ سرگرمیوں کے خلاف اجتماع اور سازش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ میڈیا سینٹر کے مطابق وہ اس وقت تہران کے مضافاتی شہر کرج کی سینٹرل جیل میں قید ہے۔ عدلیہ نے مزید کہا کہ اگر پراسیکیوٹر آفس کی جانب سے الزامات کی تصدیق ہو جاتی ہے اور عدالت کی طرف سے قانونی فیصلہ صادر ہوتا ہے تو ایرانی قانون کے تحت اس کی سزا قید ہوگی، کیونکہ ان الزامات پر سزائے موت لاگو نہیں ہوتی۔ 
میڈیا رپورٹس میں، جو ناروے میں قائم غیر سرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے حوالے سے شائع ہوئیں، دعویٰ کیا گیا کہ عرفان سلطانی کے خاندان کو پیر کے روز بتایا گیا تھا کہ انہیں ۸؍ جنوری کو تہران کے مغرب میں واقع فردیس سے گرفتار کیا گیا اور سزائے موت سنائی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق خاندان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ سزا بدھ کو نافذ کر دی جائے گی۔ 

ایران احتجاج: ٹرمپ کا ایران پر حملے سے انکار، تحمل کی اپیل: ایرانی سفیر کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو ’آگاہ‘ کیا ہے کہ وہ ’ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے‘، تاہم، انہوں نے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ یہ بات ایک ایرانی سفیر نے جمعرات کو کہی۔ اسلام آباد میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ انہیں ’’رات تقریباً ایک بجے معلومات موصول ہوئیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ جنگ نہیں چاہتے اور انہوں نے ایران سے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات پر حملہ نہ کرے۔ بدھ سے اس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر حملہ کر سکتی ہے، جب رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے عملے کی تعداد کم کرنا شروع کر دی ہے، اور واشنگٹن نے پیرکو امریکی شہریوں کو ایران فوراً چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ 
ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی خبروں کے بعد تہران کو سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔ تاہم، بدھ کی رات وہائٹ ہاؤس میں دیئے گئے بیانات کے دوران امریکی صدر نے ایران کے بارے میں اپنے لہجے میں نرمی دکھائی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے، مگر انہوں نے خبردار کیا کہ ’’اگر ایسا کچھ ہوا تو ہم سب کو بہت افسوس ہوگا۔ ‘‘

ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلئے جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات، جن میں عراق اور شام میں موجود اڈے بھی شامل ہیں، کے خلاف ممکنہ جوابی اقدامات کی تیاری کر لی ہے، کیونکہ واشنگٹن ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونا لڈ ٹرمپ نے بارہا فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور حکام کے مطابق اب وہ خود کو کارروائی کرنے کے دباؤ میں محسوس کر رہے ہیں۔ اندرونی مشاورت سے واقف ایک ذریعے نے کہا، ’’اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اب ایک ریڈ لائن قائم کر دی ہے، اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ ‘‘اسی دوران امریکی انتظامیہ کے اندر بحث جاری ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کے روز سینئر حکام کا ایک اجلاس طلب کیا جس میں صورتِ حال پر غور کیا گیا۔ 
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم اس بات پر منقسم ہے کہ آیا براہِ راست فوجی (کائنیٹک) حملہ کیا جائے یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی میں زمینی افواج تعینات نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی طویل المدتی فوجی مہم کا ارادہ ہے۔ اس حوالے سے ایک آپشن ایران کی سیکوریٹی سروسیز سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چین: ’’آر یو ڈیڈ‘‘ نامی ایپ لانچ، ہر ۴۸؍ گھنٹے بعد پوچھتا ہے کیا آپ مر گئے؟

امریکہ۲۴؍ گھنٹوں میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے: یورپی ذرائع کا دعویٰ
ایران میں جاری مظاہروں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، یورپی حکام کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ آئندہ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف فوجی حملہ کر سکتا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان اشتعال انگیز بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے ایرانی مظاہرین کی حمایت میں گزشتہ دنوں دیئے۔ 
ایران نے فضائی حدود دوبارہ کھول دیں، لیکن ٹرمپ کو نئی وارننگ دی کہا’پچھلی غلطی دوہرائی نہ جائے‘
امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے عارضی طور پر فضائی حدود بند کرنے کے بعد کمرشل پروازوں کیلئے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں۔ یہ اقدام تہران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق بڑھتی ہوئی خبروں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ (۱۴؍ جنوری) کو امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ دوبارہ وہی غلطی نہ دہرائے۔ ان کا اشارہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکہ کے حملے کی طرف تھا۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق ایران نے بدھ کی شب ۱۰؍ بجکر ۱۵؍ منٹ سے جمعرات کی رات ساڑھے بارہ بجے تک فضائی نقل و حرکت محدود کی تھی، جسے بعد میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے ۷؍بجے تک بڑھا دیا گیا۔ 
فوکس نیوز کے میزبان بریٹ بیئر سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ وہ ماضی کی غلطی دوبارہ نہ دہرائے۔ انہوں نے جون ۲۰۲۵ءمیں ۱۲؍ روزہ ایران۔ اسرائیل جنگ کے دوران ایران کی تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا: ’’میرا پیغام یہ ہے کہ جون میں جو غلطی آپ نے کی تھی، اسے دوبارہ نہ دہرائیں۔ اگر آپ ایک ناکام تجربہ دوبارہ آزمائیں گے تو نتیجہ بھی وہی ہوگا۔ جون میں آپ نے تنصیبات اور مشینیں تباہ کر دیں، لیکن ٹیکنالوجی پر بمباری نہیں کی جا سکتی، اور نہ ہی عزم کو بموں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘وزیرِ خارجہ عراقچی نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کیلئے تیار رہا ہے، جبکہ امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ہمیشہ اس سے بچتا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایرانی فوج ہائی الرٹ، سعودی، ترکی اور امارات کو انتباہ

کسی بھی حملےکیلئے اپنی زمین یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: سعودی عرب کا ایران کو پیغام
اے ایف پی کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے براہِ راست ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنی زمین یا فضائی حدود کو کسی بھی حملےکیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے ایران کے اندر ہونے والی پیش رفت کے جواب میں ممکنہ فوجی اقدامات سے خبردار کیا ہے۔ سعودی حکام نے واضح کیا کہ مملکت تہران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں نہ تو شریک ہوگی اور نہ ہی اس میں سہولت فراہم کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق اس مؤقف میں یہ بات بھی شامل ہے کہ امریکی جنگی طیاروں کو سعودی سرزمین سے آپریشنل رسائی نہیں دی جائے گی، حالانکہ خلیج میں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیجِ فارس سے متصل عرب ریاستیں امریکہ پر زور دے رہی ہیں کہ وہ ایران پر فوجی حملہ نہ کرے، کیونکہ ایسی مداخلت پورے خطے میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب، عمان اور قطر نے وہائٹ ہاؤس کی جانب سے تہران کے خلاف ممکنہ کارروائی کیلئے تیار رہنے کے انتباہ کے بعد، خاموشی سے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے۔ اگرچہ ایران میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران یہ ممالک عوامی سطح پر خاموش رہے ہیں، تاہم پسِ پردہ وہ امریکی حکام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔ خلیجی عرب حکام کے مطابق ایران کی حکومت کو گرانے کی کوئی بھی فوجی کوشش آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتی ہے، جو ایک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے اور جہاں سے دنیا کی تقریباً ۲۰؍فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکی کارروائی کی صورت میں اندرونی ردِعمل، معاشی نقصانات اور ممکنہ جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کسی بھی تنازع میں شامل نہیں ہوں گے اور نہ ہی امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دیں گے، جس کا مقصد براہِ راست تصادم سے خود کو دور رکھنا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی دباؤ کے بعدگروک نے نازیبا تصویر بنانے والا فیچر بند کردیا

اسرائیل ایران میں مظاہرین کو اسلحہ فراہم کر کے بدامنی پھیلا رہا ہے: ایرانی وزیر خارجہ کا الزام
اسرائیل کے ایک صحافی تمیر موراغ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کچھ غیر ملکی لوگ مظاہرین کو اصلی ہتھیار دے رہے ہیں۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو پکڑ لیا اور کہا کہ یہ خود ایک طرح کا اعتراف ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران میں بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی طرف سے ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK