• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر کے دورے کے خلاف مظاہرہ

Updated: February 10, 2026, 12:05 PM IST | Agency | Tel Aviv

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی فیصلے کو خطرناک ، غیر قانونی اور قبضے کی کوشش قرار دیا ہے

Protests In Australia Against Israeli President`s Visit.Photo;INN
آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر کے دورےکیخلاف مظاہرہ۔ تصویر:آئی این این

اسرائیل کی سیکوریٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہودی بستیوں کی توسیع کیلئے کئی اہم اقدامات کی منظوری  دی ہے۔ ان فیصلوں کا مقصد فلسطینی علاقوں میں دہائیوں سے نافذ قانونی اور شہری صورتحال کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔ 
میڈیارپورٹس مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ اور وزیر دفاع کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق۳؍ اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اول مغربی کنارے میں یہودی شہریوں کے زمین خریدنے پر عائد دہائیوں پرانی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ دو م فلسطینی شہروں میں تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی اتھاریٹی سے لے کر براہِ راست اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اب ان علاقوں میں کسی بھی تبدیلی کیلئے صرف اسرائیلی منظوری کافی ہوگی۔ سوم اسرائیل اب فلسطینی اتھاریٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں واقع بعض مذہبی مقامات کا انتظام بھی خود سنبھالے گا۔ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا اور اسرائیل کی جڑوں کو مزید گہرا کرنا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے مغربی کنارے کو اسرائیل کا دل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں آباد کاروں کو تمام شہری سہولیات کی فراہمی قومی مفاد میں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سائی مانجریکر ’’دی انڈیا ہاؤس ‘‘کی شوٹنگ کے تعلق سے پُر جوش

فلسطینی حکام نے ان فیصلوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مغربی کنارے کے الحاق کی کوشش قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ اس وقت مغربی کنارے میں تقریباً۵؍ لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار مقیم ہیں جبکہ فلسطینیوں کی آبادی۳۰؍ لاکھ کے قریب ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی : جموں کشمیر پہلی مرتبہ سیمی فائنل میں،ممبئی کا سفر ختم

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی فیصلے کو خطرناک ، غیر قانونی اور قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اردن کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنےاور یہودی بستیوں کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔حماس نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں سےمزاحمت تیز کرنے کی اپیل کی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK