Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسجد اقصیٰ میں یہودی انتہا پسندوں کا دھاوا، اشتعال انگیز جلوس نکالا گیا

Updated: May 15, 2026, 1:27 PM IST | Jerusalem

القدس پر غاصبانہ قبضے کی سالگرہ کے موقع پر آبادکاروں نے اسرائیلی فوج کی سیکوریٹی میں احاطے میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی۔

The Jewish settlers flouted the general international agreement. Photo: INN
یہودی آباد کاروں نے سر عام عالمی معاہدے کی دھجیاں اڑائیں۔ تصویر: آئی این این

مقبوضہ القدس پر غاصبانہ قبضے کی عبرانی برسی کے موقع پر جمعرات کی صبح اسرائیلی فوج کی سیکوریٹی میں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔جبکہ دوسری جانب فلسطینی حلقوں کی جانب سے مسجد کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کی کوششوں پر انتباہ اور شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
محکمۂ اوقاف اسلامی کا کہنا ہے کہ انتہا پسند آباد کاروں کے گروہوں نے باب المغاربہ کی سمت سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا اور اس کے صحنوں میں تلمودی رسومات ادا کیں، جن میں مسجد کے مشرقی حصے میں باب الرحمہ کے قریب ’سجدہ ملحمی‘ کہلانے والی اشتعال انگیز رسم بھی شامل ہے۔ اوقاف نے مزید بتایا کہ اسرائیلی کنیسٹ کے رکن ایریل کیل نر نے بھی صبح کے وقت مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے ان گروہوں کی قیادت کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی قابض پولیس نے فلسطینیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کر دیں، جن میں باریک بینی سے تلاشی اور بیرونی دروازوں پر شناختی کارڈز کی ضبطگی شامل ہے، تاکہ نمازیوں کی مسجد تک رسائی کو محدود کیا جا سکے۔مسجد پر یہ دھاوے مقبوضہ القدس کی سڑکوں اور محلوں میں جاری ’پرچم مارچ‘ کے ساتھ کئے جا رہے ہیں، جہاں سیکڑوں آباد کار ’یروشلم کے اتحاد‘ کا نام نہاد جشن مناتے ہوئے رقص کر رہے ہیں اور اشتعال انگیز گیت گا رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: سی آئی اے چیف کا دورہ ہوانا، کیوبا کا امریکہ کی۱۰۰؍ ملین ڈالرامدادی پیشکش پرغور

واضح رہے کہ اس سال یہ جشن فلسطینیوں کی نسل کشی اور ’نکبہ‘ کی۷۸؍ ویں برسی کے موقع پر منایا جا رہا ہے۔اسرائیلی حکام نے پرانی بستی اور اس کے گرد و نواح کے تاجروں کو نوٹس جاری کئے ہیں جن میں انہیں حکم دیا گیا ہے کہ پرچم مارچ کے گزرنے کے وقت یعنی دوپہر بارہ بجے اپنی دوکانیں لازمی بند رکھیں۔یہ پیش رفت آباد کار گروپوں، جن میں نام نہاد ’ہیکل تنظیمیں‘ شامل ہیں، کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاوا بولنے کی بڑھتی ہوئی کالوں کے درمیان سامنے آئی ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت کی اہم شخصیات کی جانب سے یہ مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں کہ جمعہ کے روز بھی ان دھاووں کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ چین کا تعلقات میں استحکام اور تعاون پر اتفاق
اطلاع کے مطابق اس طرح کے جلوس اور مسجد اقصیٰ پر دھاوا بدھ کے روز بھی کیا گیا تھا جس کی ترکی کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔ ترکی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صریح طور پر عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جو کہ برداشت نہیں کی جانی چاہئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایران اور اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد سے لگاتار یہودی آباد کار مغربی کنارے اور یروشلم میں اپنی من مانی کے ذریعے فلسطینیوں پریشان کر رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK