Updated: May 15, 2026, 1:01 PM IST
| Havana
کیوبا نے امریکہ کی۱۰۰؍ ملین ڈالر کی انسانی امداد کی پیشکش پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم، اس نے امریکی ارادوں اور امداد سے جڑی سیاسی شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور پابندیوں کے تناظر میں سیاسی مذاکرات اور سفارتی رابطے ایک بار پھر سرگرم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز۔ تصویر: آئی این این
کیوبا نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے۱۰۰؍ ملین ڈالر کی انسانی امداد کی پیشکش پر غور کرے گا، تاہم، اس نے اس موقع پر امریکی ارادوں پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے جزیرے پر عائد پابندیوں اور توانائی کی ناکہ بندی نے عوامی خدمات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے جمعرات کو کہا کہ حکومت اس امداد پر غور کرنے کیلئے تیار ہے، لیکن اس میں کسی قسم کی سیاسی شرائط شامل نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا’’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اقدام سیاسی چالوں اور اس کوشش سے پاک ہوگا جس کا مقصد محصور عوام کی مشکلات اور تکالیف سے فائدہ اٹھانا ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: الامین جمال کے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی پر اسپین کو فخر ہے: وزیراعظم پیڈرو سانچیز
گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ اس نے خفیہ طور پر کیوبا کو۱۰۰؍ ملین ڈالر کی امداد اور ’مفت اور تیز سیٹیلائٹ انٹرنیٹ‘ کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ کیوبا کی حکومت ’معنی خیز اصلاحات‘ پر رضامند ہو۔ روڈریگز نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی اور اسے’خیالی‘ قرار دیا۔ تاہم، بعد میں ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو ایک بیان میں اس پیشکش کی دوبارہ تصدیق کی۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے امریکہ کی ایندھن کی ناکہ بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس نےکیوبا کے عوام کے ترقی کے حق کو متاثر کیا ہے اور ان کے خوراک، تعلیم، صحت اور پانی و صفائی کے حقوق کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: اپوزیشن جماعتوں نے اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی کا بل پیش کیا
کیوبا کے صدر میگوئل ڈائیز-کینل نے کہا کہ ان کی حکومت امداد قبول کرے گی اگر یہ بین الاقوامی انسانی اصولوں کے مطابق ہو، تاہم، انہوں نے اس پیشکش کو’غیر ہم آہنگ اور متضاد‘ قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن پابندیاں ختم کر کے زیادہ مدد کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امداد کے استعمال میں ترجیحات ایندھن، خوراک اور ادویات ہوں گی۔
سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف کی ہوانا آمد
گزشتہ دنوں مذاکرات تعطل کا شکار نظر آ رہے تھے، تاہم، جمعرات کو کیوبا حکومت نے تصدیق کی کہ اس کی ملاقات سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف سے ہوئی ہے۔ ریٹکلف نے کیوبا میں انٹیلی جنس حکام کو بتایا کہ امریکہ معاشی سلامتی کے معاملات پر بات چیت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ کیوبا ’بنیادی تبدیلیاں ‘ کرے۔ ایک سی آئی اے اہلکار کے مطابق یہ دورہ امریکہ کی درخواست پر ہوا تھا۔ کیوبا نے کہا کہ یہ ملاقات۱۴؍ مئی کو اس تناظر میں ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات کی پیچیدگیاں شامل تھیں، اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مکالمے کو آگے بڑھانا تھا۔ کیوبا نے مزید کہا کہ ان مذاکرات سے یہ ثابت ہوا کہکیوبا امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہے، اور نہ ہی اسے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی کوئی جائز وجہ موجود ہے۔