جے ایس ایس سی سی جی ایل منتخب امیدواروں کے احتجاج میں دوسرے دن شدت، سیکریٹریٹ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، سنجے مہتا نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو خط لکھا۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 12:56 PM IST | Agency | Ranchi
جے ایس ایس سی سی جی ایل منتخب امیدواروں کے احتجاج میں دوسرے دن شدت، سیکریٹریٹ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، سنجے مہتا نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو خط لکھا۔
جھارکھنڈ میں جے ایس ایس سی سی جی ایل کے ذریعے منتخب ہونے والے امیدواروں کا، امتحان اور اس سے متعلقہ تقرریوں کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرہ جمعرات کو شدت اختیار کرگیا۔سیکڑوں کی تعداد میں منتخب امیدوار دھوروا گول چکر کے قریب واقع میدان میں جمع ہوئے۔ اس کے بعد تمام ایک جلوس کی شکل میں پروجیکٹ بھون کی طرف بڑھے۔ پروجیکٹ بھون کے مرکزی دروازے کے سامنے پہنچ کر منتخب امیدواروں نے دھرنا شروع کر دیا۔ اس کی اطلاع ملتے ہی سیکرٹریٹ سیکوریٹی اور پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ بطور وزیراعظم اس سال نریندر مودی کی آخری سالگرہ ہوگی‘‘
علاقے میں دفعہ ۱۴۴؍ نافذ
سیکوریٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو بتایا کہ پروجیکٹ بھون کے آس پاس کے علاقے میں دفعہ۱۴۴؍نافذ ہے اور یہاں دھرنا یا عوامی جلسے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بعد سیکوریٹی فورسیز نے موقع پر لگائے گئے ٹینٹ، بینر اور پوسٹروں کو ہٹوا دیا۔ پولیس اور انتظامی حکام نے احتجاج کرنے والے امیدواروں سے پرامن طریقے سے وہاں سے ہٹنے کی اپیل کی۔
حکام نے واضح کیا کہ احتجاج کے لیے انتظامیہ کی جانب سے اسمبلی کے قریب واقع کوٹے میدان مقرر کیا گیا ہے۔ امیدواروں کو پروجیکٹ بھون کا گھیراؤ ختم کر کے کوٹے میدان میں جا کر پرامن طریقے سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی۔منتخب امیدوار جے ایس ایس سی سی جی ایل امتحان اور اس کی بنیاد پر ہونے والی تقرریوں کو منسوخ کیے جانے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقرری کا طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد منتخب امیدواروں اور نو منتخب ملازمین کے مستقبل کو متاثر کرنے والا فیصلہ درست نہیں ہے۔ دوسری طرف حکومت نے امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے پیش نظر کئی بھرتیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سنجے مہتا نےجے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی اصلاحات کے حوالے سے ایکٹ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا
جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی سمیت مسابقتی امتحانات اور تقرری کے عمل میں اصلاحات کے مطالبے پر ہزاری باغ لوک سبھا کے سابق امیدوار اور اے کے ایس یو پارٹی کے جنرل سیکریٹری سنجے مہتا نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو ایک تفصیلی مطالباتی خط سونپا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جے پی ایس سی کے ۱۱؍ ویں اور۱۳؍ ویں امتحانات کی منسوخی کے فیصلے پر ہائی کورٹ کی روک
انہوں نے ریاست میں تعلیم، مسابقتی امتحانات، اسکالر شپ کی تقسیم اور تقرری کے عمل میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کیلئے جھارکھنڈ تعلیم، امتحان، اسکالرشپ اور شفاف تقرری (شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی اصلاحات)بل ۲۰۲۶ء نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے مجوزہ بل کا پورا مسودہ بھی وزیر اعلیٰ کو بھیجا ہے۔
مہتا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ جھارکھنڈ کے قیام کے تقریباًپچیس چھبیس سال میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی سمیت ریاست کے مسابقتی امتحانات کا انعقاد اور تقرری کا عمل مسلسل تنازعات، بے ضابطگیوں، پیپر لیک، تاخیر اور بیرونی ایجنسیوں پر انحصار سے متاثر رہا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں طلبا کی تحریک کے بعد حکومت کی طرف سے کئے گئے کچھ فیصلوں کا خیرمقدم کیا لیکن کہا کہ صرف کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کا استعفیٰ یا تبدیلی اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس وندے ماترم پردو دوہاتھ کیلئے تیار
جھارکھنڈ اسٹیٹ ایگزامینیشن ایجنسی کی تشکیل کی تجویز
سنجے مہتا کے مطابق کسی ادارے کی ساکھ صرف افراد کی ساکھ پر منحصر نہیں ہو سکتی۔ مہتا نے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ایس او پی پر عمل ہوتا تو مسئلہ پیش نہ آتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایس او پی کوئی قانون نہیں بلکہ اس کی حیثیت صرف ایک رہنما خطوط کی ہوسکتی ہے۔ ایسے میں ذمہ دار حکام کی جوابدہی طے کرنے کیلئے سخت قانون کی ضرورت ہے۔مہتا کے خط میں جھارکھنڈ اسٹیٹ ایگزامینیشن ایجنسی (جے ایس ٹی اے) کی تشکیل کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت ریاستی حکومت کی اپنی ایک خودمختار امتحانی ایجنسی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کی قیادت ایڈیشنل چیف سیکریٹری سطح کے اہلکار کے ہاتھوں میں ہو۔ یہ ایجنسی ریاستی سطح کے مسابقتی و تقرری امتحانات کے انعقاد، سوالنامے کی دیکھ بھال، امتحانی مراکز کے انتظامات، ڈیجیٹل و سائبر سیکوریٹی اور ڈیٹا کے تجزیے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ جبکہ کمیشنوں کو ان کے آئینی کردار یعنی صرف سفارشات کی فہرست تیار کرنے تک محدود رکھنے کی تجویز ہے۔