Updated: August 12, 2026, 10:22 PM IST
| Mumbai
جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے کوچ اور ای ٹی پی ایل کی فرنچائز روٹرڈیم ڈاکرز کے شریک مالک جونٹی روڈز کا ماننا ہے کہ ون ڈے کرکٹ مشکل میں ہے اور دو ممالک کے درمیان ہونے والی ایک روزہ سیریز پر بحران آ سکتا ہے، جبکہ ۵۰؍ اوورز کا ورلڈ کپ اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔
جونی روڈز اور جان ابراہم۔ تصویر:آئی این این
جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے کوچ اور ای ٹی پی ایل کی فرنچائز روٹرڈیم ڈاکرز کے شریک مالک جونٹی روڈز کا ماننا ہے کہ ون ڈے کرکٹ مشکل میں ہے اور دو ممالک کے درمیان ہونے والی ایک روزہ سیریز پر بحران آ سکتا ہے، جبکہ ۵۰؍ اوورز کا ورلڈ کپ اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔
ممبئی میں ای ٹی پی ایل کی روٹرڈیم ڈاکرز فرنچائز کی جرسی کی نمائش کرتے ہوئے روڈز نے کہا’’جب ٹی۲۰؍ کرکٹ شروع ہوا تھا، تو لوگ کہہ رہے تھے کہ اس سے ٹیسٹ کرکٹ پر دباؤ پڑے گا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ لیکن میرے لیے ہمیشہ سے یہ بات واضح تھی کہ ۵۰؍ اوورز کا کرکٹ شاید ایسا فارمیٹ ہے جو آنے والے سالوں میں مشکل میں پڑ سکتا ہے، کیونکہ ہم کھیل میں نئے ناظرین اور ایک مختلف نقطہ نظر لا رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ملیکا شیراوت کا دعویٰ:’’ ٹام کروز کو مجھ پر’ کرش‘ ہے، میں آپ کو ہماری ویڈیوز دکھا سکتی ہوں‘‘
انہوں نے کہا’’اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ابھی بھی بہت گنجائش ہے اور کرکٹ ورلڈ کپ میں کھیلنا ایک بہت ہی سنسنی خیز موقع ہوتا ہے، چاہے وہ ٹی۲۰؍ ہو یا ۵۰؍ اوورز کا تو اس وقت، مجھے لگتا ہے کہ دو ممالک کے درمیان ہونے والی سیریز میں ۵۰؍ اوورز کے کرکٹ کی تعداد کم ہوتی جائے گی، لیکن ۵۰؍ اوورز والے فارمیٹ کے بغیر کرکٹ کے بارے میں سوچنا بہت مشکل ہے۔‘‘
جنوبی افریقہ اگلے ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا، اور روڈز نے کہا کہ ملک دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کی میزبانی کرنے کے لیے پرجوش ہے اور امید کر رہا ہے کہ جنوبی افریقہ ٹرافی جیت سکے۔ پروٹیاز موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی آئی سی سی کی سفید گیند کی ٹرافی نہیں جیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ : ۱۶۔۱۶؍ ٹیمیں نئے فارمیٹ میں مقابلہ کریں گی
انہوں نے کہا’’ایک ملک کے طور پر، ۲۰۱۰ء فٹبال ورلڈ کپ، ۱۹۹۵ء رگبی ورلڈ کپ، ۲۰۰۷ء ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم، کیا شاندار ٹیم تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ جو کوئی بھی کرکٹ دیکھنے جنوبی افریقہ گیا ہے، اس نے سچ میں اپنے وقت کا لطف اٹھایا ہے۔ اس لیے، جنوبی افریقی ہونے کے ناطے ہم اس کی میزبانی کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ورلڈ کپ کرکٹ ایک ایسا خاص موقع ہے کہ وہاں آنے والا ہر شخص اس کا لطف اٹھائے گا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ میزبان جنوبی افریقی ٹیم کے طور پر، کچھ ایسی چیزیں ہیں جنہیں ہم حاصل کرنا چاہیں گے اور ان میں سے ایک ہے آئی سی سی کی لمیٹڈ اوورز ٹرافی جیتنا۔‘‘