۱۰؍ فیصدپانی کٹوتی جاری رہے گی۔ جھیلوں میں ۱۵؍ مئی ۲۰۲۷ء تک کا پانی دستیاب ہے لیکن ’ایل نینو‘ کے سبب اکتوبر اور نومبر میں گرمی کی وجہ سے پانی کا ذخیرہ مزید کم ہونے کا اندیشہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 10:54 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
۱۰؍ فیصدپانی کٹوتی جاری رہے گی۔ جھیلوں میں ۱۵؍ مئی ۲۰۲۷ء تک کا پانی دستیاب ہے لیکن ’ایل نینو‘ کے سبب اکتوبر اور نومبر میں گرمی کی وجہ سے پانی کا ذخیرہ مزید کم ہونے کا اندیشہ ہے۔
ممبئی کو پینے کا پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میں مجموعی طور پر گزشتہ ۲؍ برس کے مقابلے کم پانی جمع ہوا ہے جو آئندہ برس مئی کے نصف مہینے تک کیلئے کافی ہے لیکن ’ایل نینو‘ کے سبب اکتوبر اور نومبر ۲۰۲۶ء میں شدید گرمی سے پانی کے ذخیرے میں مزید کمی کا اندیشہ ہے اور ان تمام باتوں کے پیش نظر ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ (بی ایم سی) نے پانی کٹوتی ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی وضاحت کی ہے کہ جھیلوں میں پانی کی دستیابی، ریاستی حکومت کے حصے کا پانی وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد پورے سال پانی کٹوتی کی جائے، کتنی کی جائے یا نہیں کی جائے اس کا حتمی فیصلہ کرکے سب کو آگاہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ منگل ۲۹؍ ستمبر کی شام مضافات میں اچھی بارش ہوئی جو مانسون کی اختتامی بارش کا حصہ ہے لیکن چند جھیلوں پر برائے نام برسات درج کی گئی اور ستمبر کے آخری دن یعنی ۳۰؍ ستمبر کی صبح ۶؍ بجے تک ان ساتوں جھیلوں میں مجموعی طور پر ۳۷ء۹۶؍ فیصد پانی ذخیرہ ہوسکا ہے جو گزشتہ ۲؍ برس کے مقابلے ۲؍ اور ۳؍ فیصد کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوپی پولیس سپریم کورٹ میں پھر رُسوا ہوئی، تحلیل کردینے کا انتباہ
شیوسینا (یوبی ٹی) کی کارپوریٹر ، ہائوس میں اپوزیشن لیڈر اور ممبئی کی سابق میئر کشوری پیڈنیکر نے نوٹس آف موشن کے ذریعہ ہائوس میں مطالبہ کیا تھا کہ ۱۰؍ فیصد پانی کٹوتی ختم کی جائے۔ اس پر بی ایم سی کے ایڈیشنل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے ہائوس میں میئر ریتو تائوڑے اور ممبئی کے کارپوریٹروں کی موجودگی میں بتایا کہ جھیلوں میں فی الحال دستیاب پانی میں پورا سال گزارا جاسکتا ہے اور یہ پانی ۱۵؍ سے ۱۷؍ مئی تک چل سکتا ہے، اگرچہ عام طور پر اس وقت تک ممبئی میں برسات شروع نہیں ہوتی، تاہم اکتوبر اور نومبر ۲۰۲۶ء میں ’ایل نینو‘ کا زیادہ اثر ہوگا اور گرمی سے پانی زیادہ مقدار میں بھاپ بن کر اُڑ جائے گا جس سے جھیلوں میں پانی کی سطح مزید کم ہوجائے گی اور یہ پانی متذکرہ تاریخ تک بھی نہیں چل سکے گا۔
تاہم جھیلوں میں پانی کی سطح، ریاستی حکومت کے حصہ کا جو پانی ہوتا ہے، وہ کس کس کو مل سکتا ہے اور بی ایم سی کو کتنا مل سکتا ہے ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیرا علیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ سے صلاح و مشورہ کے بعد کتنی پانی کٹوتی کی جائے یا پانی کٹوتی ختم کی جائے اس کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا اور اس سے سب کو آگاہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:گیانیش کمارکیخلاف احتجاج پراقدام قتل کا کیس
ساتوں جھیلوں میں کتنا پانی ذخیرہ ہے؟
بدھ، ۳۰ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ممبئی کی ساتوں جھیلوں میں ۳۷ء۹۶؍ فیصد پانی ذخیرہ تھا جبکہ گزشتہ برس اسی تاریخٰ کو ان تمام جھیلوں میں ۳۸ء۹۴؍ فیصد اور ۲۰۲۴ء میں ۳۲ء۹۹؍ فیصد پانی جمع تھا۔ بدھ کو ممبئی کو سب سے زیادہ پانی سپلائی کرنے والی اَپر ویترنا جھیل میں ۶۰ء۹۶؍ فیصد، مودک ساگر ۳۴ء۸۱؍ فیصد، تانسا ۰۷ء۹۵؍ فیصد، مڈل ویترنا۲۳ء۹۹؍ فیصد، رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑی جھیل بھاتسا میں ۹۸ء۹۴؍ فیصد، وہار لیک ۱۰۰؍ فیصد اور تُلسی جھیل ۹۴ء۹۸؍ فیصد بھری ہوئی تھیں۔ وہار اور تُلسی لیک ممبئی کی سب سے چھوٹی جھیلیں ہیں جن سے سال بھر میں تقریباً ایک فیصد پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔
ممبئی سے مانسون کا اختتام ، اکتوبر کی گرمی شروع
محکمہ موسمیات کے مطابق ممبئی سے موسم باراں کا اختتام شروع ہوگیا ہے اور منگل کی شام مضافات کے کئی علاقوں میں جو زور دار بارش ہوئی تھی، وہ اسی کا حصہ تھا۔ ماہرین کے مطابق ممبئی سے ۵؍ اکتوبر تک بارش کا موسم ختم ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران وقفہ وقفہ سے مختلف علاقوں میں گھن گرج کے ساتھ کبھی کم کبھی زیادہ بارش ہوسکتی جیسا کہ عام طور پر بارش کے اختتام پر ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی اکتوبر کی شدید گرمی شروع ہونے کا بھی امکان ہے۔