• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیرل کومیونسپل کونسل کا درجہ دینے اور مختلف مسائل کے حل کیلئے بھوک ہڑتال

Updated: October 01, 2026, 11:00 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

نیرل جامع مسجد کے قریب احتجاج کرنے والی’آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ فیڈریشن ‘نے۱۱؍ اہم مطالبات کئے اورانتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے، شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بے مدت بھوک ہڑتال کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔

RTI volunteers on a hunger strike in Nerul. Photo: Inquilab.
نیرل میں بھوک ہڑتال کرنے والے آرٹی آئی رضاکار۔ تصویر: انقلاب

یہاں تیزی سے بڑھتی آبادی کے مقابل بنیادی سہولیات کا فقدان، ترقیاتی کاموں میں تاخیر، سڑکوں پر بڑھتے غیر قانونی تجاوزات اور گرام پنچایت کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے شہریوں میں  ناراضگی پائی جارہی ہے۔  تقریباً ۵۵ ؍تا ۶۰ ؍ہزار آبادی والے نیرل کو فوری طور پر میونسپل کونسل کا درجہ دینے سمیت مختلف بنیادی مسائل کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے ’ماہیتی ادھیکار کاریہ کرتا مہاسنگھ (آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ فیڈریشن)، کرجت‘ نے اپنے ۱۱ ؍نکاتی مطالبات کی منظوری کیلئے بے مدت بھوک ہڑتال شروع کردی ہے اور نیرل کے شہریوں سے اس جدوجہد میں بڑی تعداد میں شریک ہونے کی اپیل بھی کی ہے۔نیرل میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن اس تناسب سے شہری سہولیات میں اضافہ نہیں کیا گیا۔پانی، فائر بریگیڈ، کوڑاکرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے انتظام، سڑکوں، تجاوزات اور بنیادی شہری ڈھانچے سے متعلق مسائل بدستور برقرار ہیں۔آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ فیڈریشن نے ان مسائل کے حل اور  انتظامیہ سے جواب طلب کرنے کیلئے بدھ کونیرل  جامع مسجد کے قریب شیواجی چوک پربے مدت  بھوک ہڑتال شروع کردی۔

یہ بھی پڑھئے:جھیلوں میں پانی کی سطح کم، سپلائی میں کٹوتی کا حتمی فیصلہ جلد کیا جائے گا

۱۱؍مطالبات کیا ہیں؟

تنظیم نے ضلعی انتظامیہ سے ۱۱ ؍اہم مطالبات منظور کرنے کی درخواست کی ہے۔اہم مطالبات یہ  ہیں :

 (۱) موجودہ گرام پنچایت کو فوری طور پر ختم کرکے نیرل کو میونسپل کونسل کا درجہ دیا جائے تاکہ بڑھتی آبادی کے مطابق شہری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ 

(۲) ۵۵ تا ۶۰ ہزار کی آبادی کے پیش نظر نیرل میں مستقل فائر بریگیڈ کا انتظام کیا جائے ۔

 (۳)  نیرل کمرشیل کمپلیکس اتھاریٹی کی جانب سے تعمیر کردہ عمارت کو فوری طور پر خالی کرایا جائے۔ 

(۴) جل جیون مشن کے تحت جاری اور تاخیر کا شکار کاموں کی جامع تحقیقات کرائی جائے اور التواء کا شکار منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

 (۵) ودیا مندر منڈل سے ہندوستان پیٹرول پمپ تک اور نیرل ریلوے اسٹیشن سے امبیکا ناکہ تک اہم سڑکوں پر موجود تمام غیر قانونی تجاوزات کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

 (۶) کرجت-کلیان اسٹیٹ ہائی وے نمبر ۷۶ ؍کا نامکمل کام جلد از جلد مکمل کیا جائے اور راستے میں آنے والی محکمہ جنگلات کی اراضی کے حصول کا عمل تیز کیا جائے۔

 (۷) نیرل میں بند پڑے ٹھوس کچرے کے انتظام کے منصوبے کو دوبارہ فعال کرکے کچرے کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔ 

(۸)گرام پنچایت دفتر میں گزشتہ ۵؍ برس کے دوران ہونے والی  مالیاتی بے ضابطگیوں کی جامع تحقیقات کی جائے اور اگر کوئی ملازم یا افسر قصوروارپایا جاتا  ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

 (۹)مالیاتی کمیشن کے تحت کرائے گئے ترقیاتی کاموں کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔  

یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: بلٹ ٹرین منصوبے کے تحت۱۴۰۵؍ ٹن وزنی اسٹیل پُل نصب

(۱۰)گزشتہ ۵؍ برس کے دوران جاری کئے گئے نئے نل کنکشن، ہاؤس ٹیکس اور واٹر ٹیکس کی وصولی، بقایا جات اور ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے اور بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کا محاسبہ کیا جائے۔ (۱۱) نیرل گرام پنچایت کے گزشتہ ۱۰؍ برس کے حسابات، آمدنی اور اخراجات کا تفصیلی آڈٹ عوام کی موجودگی میں کرایا جائے تاکہ مالی معاملات میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ تنظیم کے عہدیداروںنے  اس نمائندے کوبتایا کہ ان کا احتجاج کسی سیاسی مفاد کیلئے نہیں بلکہ نیرل کے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کیلئے ہے۔

نیرل میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا  لیکن اس تناسب سے شہری سہولیات میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ پانی، فائر بریگیڈ، کوڑاکرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے انتظام، سڑکوں، تجاوزات اور بنیادی شہری ڈھانچے سے متعلق مسائل بدستور برقرار ہیں۔
-مظاہرین کا موقف

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK