ضلع کلبرگی میں واقع ’لاڈلے مشائخ درگاہ‘ کی انتظامیہ نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ مہا شیو راتری کے موقع پر بار بار قانونی درخواستوں کے ذریعے مزار کے مذہبی تشخص کو تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 4:01 PM IST | New Delhi
ضلع کلبرگی میں واقع ’لاڈلے مشائخ درگاہ‘ کی انتظامیہ نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ مہا شیو راتری کے موقع پر بار بار قانونی درخواستوں کے ذریعے مزار کے مذہبی تشخص کو تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
کرناٹک کے ضلع کلبرگی کے علاقے الاند شریف میں واقع ’لاڈلے مشائخ درگاہ‘ کی انتظامیہ نے مزار کے احاطے میں پوجا کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درگاہ انتظامیہ نے اپنی درخواست میں ہندو تہوار ’مہا شیو راتری‘ کی پوجا کو روکنے اور کسی بھی ایسی تعمیر یا تبدیلی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے درگاہ کا مذہبی تشخص تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
یہ کیس چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالت میں درگاہ کی جانب سے پیش ہونے والی سینیئر ایڈووکیٹ وبھا دتہ مکھیجا نے بنچ سے درخواست کی کہ اس معاملے کی سماعت ۱۵ فروری کو ہونے والی مہا شیو راتری پوجا سے پہلے فوری طور پر کی جائے، کیونکہ کچھ افراد مزار کے احاطے کے اندر مہا شیو راتری کی پوجا کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس درخواست پر غور کرے گی۔ تاہم چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس معاملے کو پہلے کرناٹک ہائی کورٹ لے جانے کے بجائے آرٹیکل ۳۲ کے تحت براہِ راست سپریم کورٹ کیوں لایا گیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ”ہر چیز آرٹیکل ۳۲ کے تحت کیوں آ رہی ہے؟“ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی درخواستوں سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ ہائی کورٹس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گھوس خور پنڈت: سپریم کورٹ نے کہا آزادیٔ اظہار کسی طبقے کی توہین کا لائسنس نہیں
حقِ عبادت پر تنازع
یہ مزار ۱۴ ویں صدی کے صوفی حضرت شیخ علاؤ الدین انصاری، جو لاڈلے مشائخ کے نام سے بھی مشہور ہیں، اور ۱۵ ویں صدی کے ہندو سنت راگھو چیتنیا سے منسوب ہے۔ احاطے کے اندر موجود ایک ڈھانچے کو `راگھو چیتنیا شیولنگ` کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے ہندو اور مسلمان دونوں اس مقام پر عبادت کرتے آئے ہیں۔
تاہم، حالیہ برسوں میں عبادت کے حقوق پر تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ فروری ۲۰۲۵ء میں، کرناٹک ہائی کورٹ نے سیکوریٹی انتظامات کے تحت ۱۵ ہندو عقیدت مندوں کو شیولنگ پر مہا شیو راتری کی پوجا کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس سے قبل بھی اسی طرح کی محدود رسائی دی گئی تھی جس کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس کا کارنامہ، انکاؤنٹر کی دھمکی دے کر مسلم تاجر سے ۲۰؍ لاکھ روپے اینٹھ لئے
مذہبی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کے الزامات
درگاہ انتظامیہ کی درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہا شیو راتری کے موقع پر بار بار قانونی درخواستوں کے ذریعے مزار کے مذہبی تشخص کو تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ عدالت کے عبوری احکامات اور پولیس کے ذریعے تہوار کے لیے داخلے کی سہولت کو مستقل مذہبی دعوے قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء‘ کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں الاند ٹاؤن میونسپل کونسل کے ۱۹۶۸ء کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اس مقام پر کسی بھی مندر یا غیر وقف شدہ ڈھانچے کی تعمیر کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ابھی تک اس معاملے کی فوری سماعت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔